کوئٹہ کے کلی قمبرانی سے جبری گمشدگیوں میں اضافہ

183

بلوچستان کے دیگر علاقوں کے طرح دارالحکومت کوئٹہ میں بھی جبری گمشدگیاں تسلسل کے ساتھ جاری ہیں۔ جہاں بڑی تعداد میں نوجوان لاپتہ ہوئیں وہی کئی افراد کی مسخ شدہ لاشیں بھی ملی ہے۔

دی بلوچستان پوسٹ نمائندہ کوئٹہ کے اعداد و شمار کے مطابق بلوچستان کے دیگر علاقوں کی طرح کوئٹہ کلی قمبرانی سے جبری طور پر لاپتہ کیۓ جانے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے جبکہ لواحقین کے مطابق پاکستانی خفیہ ادارے اور فورسز ان جبری گمشدگیوں میں ملوث ہیں۔

کئی ادوار سے بلوچستان میں لوگوں کو گرفتاریوں لاپتہ کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں سے طلباء ڈاکٹروں اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد کی جبری گمشدگیوں کے کیسز سامنے آئے ہیں۔ اسی طرح کوئٹہ کلی قمبرانی سے اب تک 6 افراد جبری گمشدگی کا نشانہ بنے ہیں جن میں 2 نوجوانوں کی مسخ شدہ لاشیں مل چکی ہیں۔

رواں سال 14 فروری کو کوئٹہ کلی قمبرانی سے دو نوجوان حسان قمبرانی و حزب اللہ قمبرانی کی جبری گمشدگی کا واقعہ پیش آیا تھا۔

اسی طرح گذشتہ سال 2019 میں اُمیت شاہ کو جبری طور پر اس کے گھر سے لاپتہ کیا گیا جو کہ کلی قمبرانی کا رہاٸشی ہے۔

لواحقین کے مطابق امیت شاہ گھر کے واحد کفیل تھے اور اپنے 5 بچیوں کی کفالت کررہے تھے۔

امیت شاہ تاحال لاپتہ ہے۔

رواں سال لاپتہ ہونے والے حسان اور حزب اللہ قمبرانی کی بہن حسیبہ قمبرانی بھی گذشتہ کئی ماہ سے اپنے لاپتہ پیاروں کی بازیابی کے لئے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے مظاہروں میں شرکت کررہی ہے۔

کوئٹہ کلی قمبرانی سے اب تک کئی نواجوان جبری گمشدگی کا نشانہ بنے ہیں جن میں جہانزیب قمبرانی، سلمان قمبرانی اور گزین قمبرانی بھی شامل ہیں۔

جہانزیب قمبرانی تاحال لاپتہ ہیں جبکہ سلمان اور گزین قمبرانی کی مسخ شدہ لاشیں 2015 اور 2016 میں مل چکی ہیں۔

سلمان قمبرانی اور گزین قمبرانی کی مسخ شدہ لاشیں ملی تھی۔

بلوچستان میں جاری فوجی آپریشنوں اور جبری گمشدگیوں کا سلسلہ مزید شدت اختیار کررہا ہے۔ انسانی حقوق کے اداروں کے مطابق بلوچستان سے اب 20 ہزار سے زائد افراد جبری گمشدگیوں نشانہ بنیں ہیں جن میں سے کئی افراد کی لاشیں مسخ شدہ صورت میں بلوچستان سمیت سندھ کے علاقوں سے برآمد ہوئی ہیں۔

گذشتہ ایک دہائی کے زائد عرصے کے دوران بلوچستان کے مختلف علاقوں خضدار، ڈیرہ بگٹی، تربت، پنجگور اور پشین سے اجتماعی قبریں بھی مل چکی ہے۔

بلوچ سیاسی اور سماجی حلقوں کی جانب سے جبری گمشدگیوں کے واقعات کو اجتماعی سزا قرار دیا جاچکا ہے۔ ان کے مطابق لاپتہ شخص کے ساتھ اس کے پورے خاندان کو اذیت دی جاتی ہے۔

مختلف اوقات میں عالمی اور علاقائی انسانی حقوق کے تنظیموں کی جانب سے بلوچستان میں جبری گمشدگیوں پر تشویش کا اظہار کیا جاچکا ہے تاہم اس نوعیت کے واقعات روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ ہورہے ہیں۔