شہداء کے فکر و فلسفہ سے بلوچ سماج کی تشکیل کرینگے – بی ایس ایف

22

بلوچ سالویشن فرنٹ کے ترجمان نے کہا ہے کہ مادر بلوچ شہید بی بی جانتاب عرف ہائی رئیسانی، شہید آغا عابد شاہ بلوچ، مغربی بلوچستان کے سپوت شہید حمید ریکی بلوچ، شہید دلجان بلوچ، شہید طارق کریم بلوچ، شہید سفیر بلوچ، شہید حمید، جمال بلوچ، شہید ستار بلوچ، شہید معراج بلوچ، شہید عابد سلیم، شہید جمیل علی بلوچ، شہید خالد بلوچ سمیت بلوچ قومی آزادی کے راہ میں جانوں کا نذرانہ دینے والے تمام شہداء بلوچ قوم کے ہیرو اور رہنماء ہے ان کا دلیرانہ اور بے باک قومی کردار قابل تحسین ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ بلوچ نسلیں اپنی تاریخ کے تمام ادوار میں اپنے قومی شہداء کے فکر و فلسفہ کے تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے ایک آزاد بلوچ سماج کی تشکیل و تعمیر میں اپنی تمام صلاحتیں بروئے کار لائیں گے۔

بیان میں کہا گیا ہے شہداء کے لہو نے آزادی کی شعور کو پختہ کرکے جدوجہد میں نئی روح پھونک دی ہے ان کی مشن کی تکمیل ہر بلوچ پر فرض ہے۔ بلوچ شہداء کے ہزاروں آرام گائیں گواہ ہے کہ آزادی کی تحریکوں کو طاقت سے زمین بوس نہیں کیا جاسکتا، ان کے مزاروں کے کتبے ہزاروں سال تک آزادی اور رہنمائی کے علامت کے طور پر سر بلند رہیں گے۔

ترجمان نے کہا کہ مادر بلوچ ایک بہادر اور شیرزال خاتوں تھی جو بلوچستان کے آزادی کاعلم بلند کرتے ہوئے خاک وطن کو اپنی خون کا نذرانہ دیکر ثابت کردی کہ بلوچ ماں بہنیں بھی آزادی کے صفوں میں اپنے بیٹوں اور بھائیوں کے ساتھ شانہ بشانہ ہے۔ ان کی شہادت بلوچ خواتین کے لئے ایک مشعل اور پیغام ہے کہ ایک ضعیف خاتون جس جذبہ اور ولولے کے ساتھ آزادی کی جدوجہد کے بیچ رہ کرغلامی کے بیڑیوں کو توڑنے کے لئے منظم انداز میں تحریک کے ساتھ رہ کر کامریڈ کم ال سنگ کی ماں کی مثالی تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے اسی کاروان سفر میں موت کو گلے لگاتے ہوئے آزادی کا بیرک اپنے ہاتھوں سے گرنے نہیں دی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ شہید مادر بلوچ کا مثالی کردار ہمارے لئے ایک میراث اور مشعل ہے، مائیں جب آزادی کے حصول کے لئے حوصلہ اور ہمت باندھتے رہے اور خود عملی طور پر بھی اس کا حصہ ہو تو ایسی تحریکیں کھبی سست روی کا شکار نہیں ہوتے بلکہ انہیں کمٹمنٹ اور جذبوں کی صورت میں طاقت اور توانائی ملتی ہے۔