سورج کا شہر (سفر نامہ) | قسط 16 – ڈاکٹر شاہ محمد مری

30

دی بلوچستان پوسٹ کتابی سلسلہ

سورج کا شہر (سفر نامہ) – ڈاکٹر شاہ محمد مری
بلوچ ساحل و سمندر | گوادر بندرگاہ


ماہی گیروں کی صحت کے مسائل

ماہی گیروں کو مچھلی کی سڑاند میں رہ کر کام کرنا پڑتا ہے۔ کام کی جگہ پہ بدبو بہت ہوتی ہے۔ جس سے سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے۔ اس بدبو دار فضا میں رہتے ہوئے اسے الٹیاں بہت آتی ہیں۔ ماہی گیری میں استعمال ہونے والی امونیا گیس سے مزدور کی صحت متاثر ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ ماسک، دستانے اور فل سائز جوتے نہ ہونے کی وجہ سے مزدور مچھلیوں اور جھینگوں کی صفائی کرتے ہیں تو کانٹے لگنے سے ہاتھ اور انگلیاں زخمی ہوجاتی ہیں اور مستقل کام کرتے رہنے کی وجہ سے زخم کو ٹھیک ہونے کا موقع نہیں ملتا۔ علاوہ ازیں مزدور کے ہاتھ مستقل طور پر ٹھنڈے پانی میں رہتے ہیں، اس لیے زخم بھرتا نہیں اور ناخن بھی خراب ہوتے ہیں۔

سر درد، کمر کا درد اور جوڑوں کا درد بھی ماہی گیروں کے مستقل ساتھی ہیں۔ غربت کی وجہ سے ذہنی و نفسیاتی بیماریاں عام ہیں اور بلوچستان کے ماہی گیر کو شراب اور ہیروئن کا منظم طور پر عادی بنادیا گیا ہے، جس سے جنم لینے والی سماجی خرابیاں بے شمار ہیں۔

شام ڈھلے مکران بھر کے کرتوت بدل جاتے ہیں۔ لوگ اپنا سارا غصہ، ساری فرسٹریشن، سارے غم اور سارے تفکرات تلخ مشروب میں ڈبو دیتے ہیں۔ ہم کمپیوٹر سمگل نہیں کرتے، الیکٹرومیڈیکل آلات کی گریزی نہیں کرتے، فارمولے اور ٹیکنالوجی درآمد نہیں کرتے، لاتے ہیں تو بس شراب لاتے ہیں۔ لہٰذا لانے والے لاتے ہیں اور پینے والے پیتے ہیں۔ ہر دو فریق کنجوسی نہیں کرتے۔ یہاں نہ ”حسبِ توقع“ کا لفظ معنی رکھتا ہے نہ ”حسبِ طاقت“ اور نہ ہی ”حسبِ اِستطاعت“۔ کارِ ”خیر“ میں کیا حد، کیا سرحد!!۔ سب حافظؔ و خیامؔ و اقبالؔ کا مسنون راستے اپناتے ہیں۔ (اسی لیے تو پنکج اُداس خان کی غزلیں مشہور ہیں، جہاں گویا سمتیں دو ہی بنائی ہیں بنانے والے نے: یا میکدہ یا پھر ’اُس‘ کا گھر۔) میرے میزبانوں کے اندازے کے مطابق 70 فیصد بالغ (عقلاً نہیں) مرد شراب پیتے ہیں۔ البتہ پیتے انگریزی شراب ہیں۔ ٹنکچر، شنکچر اور کیکر کا ٹھرا کوئی نہیں پیتا۔ اور چھ پرسنٹی ”شراب“ بھی نہیں چلتی یہاں۔ 45 فیصد اور اس کے اوپر کی بات کرو۔ سستا، خالص اور خوب صورت لیبل۔ بوتل کی خوب صورت ساخت ہی دیکھ کر نشہ ہو جاتا ہے۔ کم بخت انگریز بناتے ہیں ہم نادیدوں کو بے کار کرنے کے لیے۔ بوتل، ڈھکنا اور لیبل کی خوب صورتی دیکھ کر شراب کیا بوتل کھا جانے کو من للچائے!۔ اور یہاں مکران کے اندر محفل میں جو شخص کہے ”میں نہیں پیتا“ تو حاضرین و ناظرین حیرت کے انگشت دہن میں ڈالے اُسے تعصب میں گھورتے ہیں۔ جیسے کسی پنجابی نے صوبائی خود مختاری کے حق میں بات کی ہو!۔

ماہی گیر چرس نوشی کا شغل بھی کرتے ہیں۔ وہ چرس کے بڑے بڑے ٹکڑے جیب میں ڈال کر ماہی گیری کرنے کھلے سمندر میں جاتے ہیں اور وہاں۔ شکار بہت صبر آزما مشقت ہوتا ہے اور اِن لوگوں کا خیال ہے کہ چرس بہت صابر (یاSober!!) بنا ڈالتا ہے آدمی کو۔ چرس چرسیوں کے بقول کام کے لیے قوتِ برداشت کو بڑھا دیتا ہے۔ ٹرانسپورٹ سے وابستہ محنت کشوں (ٹرک ڈرائیورز) کا ایک بڑا حصہ چرس استعمال کرتا ہے اور اس کے فائدے گنواتے گنواتے وہ ذہنی صلاحیتوں کے دریچے کھلوانے کی چابی کی حیثیت سے اس کا ذکر ضرور کرتے ہیں۔ فزکس میں ایک نوبل انعام پانے والے عظیم سائنس دان نے مادہ کے بارے میں اپنا نیا تصور پیش ہی اُس وقت کیا جب وہ چار برس تک ہپیوں کے ساتھ رہا تھا، انہی کے ”شغل اشغال“ اختیار کیے تھے اور وہیں اس کا دماغ تندرست و توانا ہوا اور وہیں اس پہ نئے تفکر کا الہام ہوا اور اس نے نوبل والا انعام چھین لیا تھا۔
شراب اور چرس کے علاوہ پان کا استعمال بھی بڑے پیمانے پر ہوتا ہے۔ مرد جوانوں میں سے 80 فیصد لوگ پان کھاتے ہیں۔ غالب گمان یہ ہے کہ یہ مرض کراچی سے یہاں آیا اور اب بھی اس کا سارا مال و اسباب وہیں سے آتا ہے۔ تمباکو ملا ہوا پان تین روپے کا آتا ہے۔ گھٹکا نامی پان تین روپے میں چھوٹا، اور پانچ روپے میں بڑا آتا ہے۔ اس میں سوپاری، چونا، کتھا اور تمباکو شامل کیا جاتا ہے۔ ہر شخص روزانہ اوسطاً چار سے پانچ پان کھا لیتا ہے (بلکہ IDSP کے ایک سروے نے مجھے ہلا کر رکھ دیا، جس کے مطابق سومیانی میں ایک شخص روزانہ اوسطاً 50 پان کھاتا ہے۔ پناہ رب العزت!)۔

اور اگر گھر میں چار پانچ افراد اس کے عادی ہوں تو آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ بلوچ، غریب نہ ہو تو کیا ہو؟ بلوچ معیشت کو تو پہلے ہی ”بال چر“ کا مرض لگا ہوا ہے۔

یہاں 20 فیصد مسمات بھی پان کھاتی ہیں۔ اکثر عورتیں چلم پیتی ہیں۔ بوڑھی عورتوں میں نسوار خواری کا رواج بھی خال خال موجود ہے۔

محکمہ صحت
محکمہ صحت کا حال معلوم کرنا چاہا اور DHO کے دفتر چلے گئے۔ یہ ڈاکٹر نذیر بلوچ ہے، مہمان نواز، فہمیدہ اور جہاں دیدہ شخص۔ اس کی والدہ اسمعیلی فرقے سے تعلق رکھنے والی بلوچ ہے۔ ارے یہ ایک اور فرقہ ہوا۔ بلوچ سنی ہیں، بریلوی ہیں، دیو بندی ہیں، شیعہ ہیں، ذکری ہیں، ہندو ہیں، مسیحی ہیں ………… اور اب اسمعیلی بھی ہیں۔ منجی کتھے ڈھانواں!! گوادر میں کھوجے مستقل رہائشی ہیں جو کچھی سے یہاں منتقل ہوئے تھے۔ اتنی متنوع اور ورائٹی والی قوم ہے بلوچ، کہ اس میں تو کسی بھی طرح کی فرقہ واریت ممکن ہی نہیں!

اب تو بہت سے اسمعیلی مائیگریٹ کر گئے۔ مگر ایک زمانہ تھا کہ یہاں بہت بڑی تعداد میں اسمعیلی رہتے تھے۔ اُن کا خوب صورت کمیونٹی سنٹر ”جماعت خانہ“ موجود ہے۔ یہ تو اُن کے اولین لازمی لوازمات میں سے ہے۔ اٹھارویں صدی سے اِن کی یہاں آبادی کا تذکرہ ملتا ہے۔ یہ لوگ ایک طرف عربوں سے تجارت کرتے تھے تو دوسری طرف ہندوستان مال بھیجتے منگواتے تھے۔ چاول،Sesame Seed، آئل، کپاس، کھالیں، مچھلی، Cane اور لکڑی۔۔ مٹھائی اور کپڑا تو ہندو کے ہاتھ میں تھا۔
آج بھی وہاں موجود اسمعیلی خشک مچھلی برآمد کرتے ہیں۔

بلوچ ساحل کے اس حصے میں گوادر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے علاوہ تین رورل ہیلتھ سینٹر ہیں، بی ایچ یوز سترہ، سول ڈسپنسریز بارہ ہیں۔ تین ایم سی ایچ سنٹر اور سات ای پی آئی سنٹر ہیں۔ ایک عدد ملیریا کنٹرول پروگرام کا سنٹر ہے اور ایک ڈینٹل یونٹ بھی۔ بقیہ بلوچستان کی بیماریوں کے علاوہ یہاں کی خاص بیماری لپروسی ہے۔ جس کے لیے تین لپروسی سینٹرز ہیں۔ گوادر سنٹر میں 291 رجسٹرڈ کیس تھے۔ جو سب کے سب شفایاب ہو چکے ہیں، پسنی میں 144 رجسٹرڈ کیسز ہیں جو سب شفا پاچکے ہیں اورماڑہ میں 92 رجسٹرڈ مریضوں میں سے صرف تین ابھی تک زیر علاج ہیں، باقی سب ٹھیک ہو چکے ہیں۔ اب سینٹر کے لوگ انہی شفایاب مریضوں سے مل کر ان کی دوبارہ بحالی کا کام کر رہے ہیں۔ یہ کام ایک جرمن خاتون رُتھ فاؤ نے شروع کیا تھا۔

ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کاغذوں میں 34 بستروں کا ہسپتال ہے مگر دراصل یہاں محض دس بستر قابلِ استعمال ہیں۔ (کاغذوں میں 34 اور حقیقت میں دس بستروں کا ہسپتال!!)۔ سارے بلوچستان کے سارے سرکاری اعداد و شمار اسی طرح سمجھے جانے چاہئیں۔ فیمیل ونگ میں کوئی کام نہیں ہو رہا۔ (ویسے بھی بلوچوں کا خیال ہے کہ ان کے فیمیل ونگ پہ کوئی کام نہیں ہوتا، بس میل ہی کام کرتے ہیں)۔

جی ہاں، یہاں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں کوئی لیڈی میڈیکل آفیسر نہیں ہے۔ یعنی بلوچ ساحل پہ ایک بھی لیڈی ڈاکٹر نہیں ہے۔لیڈی ڈاکٹر نہیں ہے، زنانہ ہسپتال نہیں ہے، حاملہ عورت کا بلڈ پریشر دیکھنے کے لیے بھی کوئی نہیں۔ ہسپتال چلو تو بولتے ہیں گھر جاؤ وہاں آکر دیکھتے ہیں، فیس کا ”فاقہ“ جو ہے انہیں۔

ایک لیڈی ہیلتھ وزیٹر موجود ہے جو فی پیدائش 3000 ہزار روپے لیتی ہے۔ خاندانی منصوبہ بندی کی سہولت نہیں ہے۔

آپ حیران مت ہو جائیں، بلوچ پارلیمانی لیڈر شپ اس قدر کرپٹ اور بینک کرپٹ ہے کہ بلوچ ساحل پہ (جو پاکستانی ساحل کا 80فیصد ہے) ایمبولینس نہیں، سرجن نہیں، آپریشن تھیٹر نہیں، گائنا کالوجسٹ نہیں، پتھالوجسٹ نہیں۔ یا حسین!!

یہاں کی دوائی سیکڑوں میل دور دوائی خورد برد کرنے والے سب سے بڑے اڈے یعنی ”ایم ایس ڈی“ کوئٹہ میں پڑی ہوتی ہے۔ جہاں سے ٹرک کے ایک پھیرے کا کرایہ تیس ہزار روپے ہے (آلمآ تا کانفرنس کی ایسی کی تیسی جس میں کہا گیا تھا کہ سن 2000 تک علاج معالجہ کی ساری سہولتیں مریض کے دروازے پر مفت موجود ہوں گی۔ اس کانفرنس پہ دستخط کرنے والا پاکستانی کبھی گوادر گیا ہی نہ ہو گا)۔ اسی لیے تو بلوچستان مرکز سے نفرت کرتا ہے۔ وہ وہیں اسلام آباد سے اپنے عزیزوں دوستوں کو المآتا جیسی کانفرنسوں میں بھیجتے ہیں، جنہیں پاکستان کا کچھ علم نہیں ہوتا۔ جو صرف اور صرف پی آر پہ زندہ ہیں۔

پورے بلوچ ساحل میں ایک بھی آکسیجن سلنڈر نہیں ہے۔ ماہی گیروں کے لیے نہ تو ایمبولینس کشتی ہے، نہ اور کوئی طبی سہولت۔

ضلع میں موجود ڈسپنسریاں توخیر سے کام ہی نہیں کر رہی ہیں۔ اس لیے کہ ان کے لیے نہ بجٹ ہے اور نہ ہی افرادی قوت۔ اِدھر ایمبولینسوں کا فلیٹ نو گاڑیوں پر مشتمل ہے مگر یہ سب بے کار پڑی ہیں۔ کسی کا انجن نہیں ہے۔ کسی کی باڈی کو یرقان ہو گیا ہے، کسی کے وھیل تباہ ہیں ………… لہٰذا ساری ایمبولینس گاڑیاں پتھروں پر کھڑی ہیں۔ (بلوچستان بھر کا انجن پتھروں پر رکھا ہوا ہے۔ ہمارا مقدر، ہمارا مستقبل، ہماری حرکت، ہماری برکت ساکت و جامد، شکستہ و ریختہ اور ناکارہ بنا کر پتھروں پر کھڑی کر دی گئی ہیں)۔

اس طرح، اے لوگو! مکران کے پورے ساحل پہ اور پاکستان کے ساحل کے 80 فیصد علاقے میں ایک بھی ایمبولینس گاڑی نہیں ہے۔ اکیسویں صدی؟۔ قوم پرستوں، اسلام پرستوں، این جی او پرستوں ………… الغرض ہر زر پرست سرکار کی باقیات کی واحد نشانی یہ ہے کہ اس کی آبادی کے مریضوں کی ایمبولینس گاڑیاں پتھروں پر کھڑی ہیں۔

آپ قارئین کو زیادہ بور کرنا مناسب نہیں ہے۔ ویسے بھی بے حسی اپنی اس انتہا کو پہنچ چکی ہے کہ کوئی فوری فائدہ کا امکان نہیں۔ عوام کا غصہ ابھی اتنا بڑھا نہیں کہ ہماری تحریر کردہ اس حالت پہ کوئی خدا ترس شہری، عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائے گا یا سیکرٹری ہیلتھ اپنی آرام دہ کرسی چھوڑ کر وہاں جانے کی تکلیف کرے گا، کوئی گورنر ہنگامی بنیادوں پر وہاں رحم برسائے گا، یا کوئی عوامی جلسہ جلوس نکلے گا۔ ابھی وقت لگے گا دیگ کے پکنے میں………… اس لیے کہ ابھی اس کو پکانے کے انتظام کار ہی منظم نہیں ہیں۔ لہٰذا آیئے گپ شپ کرتے ہیں۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔