انقلاب – چیدگ بلوچ

98

انقلاب

تحریر: چیدگ بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

انقلاب ہے کیا بلا؟ انقلابی تحریک کیوں اور کس مقصد کیلئے؟ اس کے جانے بنا بس جذباتی، تصوراتی یا کسی کی سنی سنائی باتوں، تقریروں و تحریروں پر یقین کرکے اس میں کود پڑنا و لاعلم ہجوم کے پیچھے چلنا یقیناً بے شعوری کے زمرے میں آتا ہے اور اس کے نتائج بھی زوال کی طرف جاتے ہیں۔

کیا ایک شخص انقلابی تحریک میں تکالیف برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے یا عدم برداشت کا شکار ہے؟ پسماندہ خیالات و شعور سے عاری انسان انقلاب میں نہیں سما سکتے، غلام اقوام کی ذہنیت اکثر محدود سطح تک ہوتی ہے، سب سے اول کسی چیز یا بات کا منفی پہلو دماغ پر گردش کرتا ہے، ہاں پر اگر غور کیا جائے تو حقائق تک پہنچنا ناممکن نہیں۔

البتہ وہ شعور سے لیس انسان ہوگا جو تکلیفوں کی پرواہ کئے بغیر خالص مثبت مقاصد کیلئے تا حیات وابستہ رہتا ہے، وہ مقصد اگر سر کی قیمت کا بھی تقاضہ کرے تو اس سے دریغ نہیں کرتا، یہ باشعور انقلابی کی نشانی ہے۔

انقلابی جنگوں میں جلد نتائج یا بنا تکلیف کامیابی کی خواہش رکھنے والے آخر کار مایوسی کے شکار ہوتے ہیں، آرام پسندی اکثر انسان کو آگے بڑھنے سے روکنے کے علاوہ مفاد پرستی، خود غرضی اور موقع پرستی جیسے شیطانیت کا راستہ اپنانے پر اکساتا ہے، کہیں نہ کہیں جا کر وہ ہوش و حواس کھو بیٹھتا ہے اور مخلص جہدکاروں کیخلاف پروپگنڈے کا محاذ کھول کر ان کیلئے نقصان کا باعث بنتا ہے۔

غور و فکر حقیقت کی کنجی ہے، اگر اس بابت غور و فکر کیا جائے کہ جس انقلابی تحریک کا میں حصہ ہوں کیا میں حق راہ پر ہوں؟ میرا جنگ و مقاصد جائز ہیں؟ تو یقیناً آپ کو حقائق نظر آ ہی جائیں گے۔

اگر اس راہ کو چنا یا اس پر ایمانداری کیساتھ چلا تو کامیابی یا منزل پاسکتے ہیں، یہ سوچ یہ امید آپ کو کٹھن و سخت فیصلے لینے پہ مجبور کریں گے، پھر آپ تکالیف کی پرواہ کئے بغیر منزل مقصود کی جانب گامزن ہوں گے۔

اسی طرح بلوچ آزادی کی تحریک پُر کٹھن، سخت و پُر امیدی کیساتھ رواں دواں ہے، یہ جنگ شعوری ہے، یہاں شعور و قربانی کے جذبے سے سرشار نوجوان ہیں، جو اپنے تحریک کے تقاضوں پر عملی میدان میں پورا اتر رہے ہیں، ان کیساتھ مثبت سوچ، کامیابی کی امیدیں اور وطن سے محبت کا جذبہ ہے، جس سے وہ مطمئن ہوکر تکالیف و مصائب کو ہنسی خوشی اپنے سر لے رہے ہیں۔

دشمن ریاست کی آخری حد تک کوششوں کے باوجود بلوچ نوجوانوں کو آزادی کی جنگ دستبردار نہ کر سکا ہے، انہیں خوف و ہراس، اغواء و زندان، قید و بند، ذہنی و جسمانی تشدد اور مسخ شدہ لاشوں کے باوجود نوجوان تحریک آزادی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں اور اپنا قومی فرض نبھا رہے ہیں، سروں کی قربانیاں دے رہے ہیں۔

اس سے یہ بات واضح اور ثابت ہوتا ہے کہ بلوچ تحریک آزادی شعوری ہے اور بلوچ نوجوان یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہ راہِ حق پر ہیں اس کیلئے تکلیف و مصائب، دشمن کی تشدد یا کسی کی شیطانیت ان کے حوصلے پست نہیں کرسکتے، میں بلوچ نوجوانوں کے اس شعور کو دیکھ کر یہ یقین کیساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اس جنگ میں کامیابی بلوچ کی ہوگی۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔