کوئٹہ: حفاظتی کٹس میسر نہ ہونے پر ینگ ڈاکٹرز کا احتجاج

30

کوئٹہ میں ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے کورونا وائرس سے بچاؤ کی حفاظتی کٹس نہ فراہم کرنے پر احتجاج کرتے ہوئے سول اسپتال میں میڈیکل سپرینٹنڈنٹ اور ڈپٹی میڈیکل سپرینٹنڈنٹ کے دفاتر کو تالے لگا دیئے۔

ینگ ڈاکٹرز  ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر یاسر نے بتایا کہ ہمارے ڈاکٹر کورونا میں مبتلا ہو رہے ہیں مگر ہمیں کورونا سے بچاؤ کی کٹس فراہم نہیں کی جارہیں۔

انہوں نے کہا کہ طبی عملے کو حفاظتی کٹس فراہم کرنے کے بجائے سول اسپتال سے ہمارے ڈاکٹروں کو تبدیل کیا جا رہا ہے، اس صورتحال پر ہم نے سول اسپتال میں ایم ایس اور ڈپٹی ایم ایس کے دفاتر کو تالہ لگا دیا ہے۔

ادھر میڈیکل سپر ٹنڈنٹ ڈاکٹر فضل الرحمٰن بگٹی نے بتایا کہ ینگ ڈاکٹرز بلیک میلنگ کر رہے ہیں، ان کے ڈاکٹر ڈیوٹی پر نہیں آتے، جب ڈیوٹی مانگوں تو یہ دفاتر کو تالے لگا دیتے ہیں۔

سپر ینٹنڈنٹ او ڈپٹی سپرٹنڈنٹ نے تحفظ فراہم کیے جانے تک فرائض کی انجام دیہی سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ جب تک حکومت ہمیں تحفظ فراہم نہیں کرے گی ہم کام نہیں کریں گے۔

بلوچستان میں کورونا وائرس کے خلاف فرنٹ لائن پر کام کرنے والے ڈاکٹروں اور طبی عملے کے لیے حفاظتی کٹس اور بنیادی سہولیات میسر  نہیں ہیں، یہی وجہ ہے کہ کوئٹہ میں پانچ ڈاکٹر اس وائرس کا شکار ہو چکے ہیں اور  بہت سوں کو اس وائرس کے لگنے کا اندیشہ ہے۔