کیچ: فورسز کا گھر پر چھاپہ، دو افراد لاپتہ

229
لاپتہ شبیر عبدالصمد

بلوچستان کے ضلع کیچ میں پاکستنانی فورسز کی جانب سے ایک گھر پر چھاپہ مارا گیا ہے جہاں گھر میں موجود دو سگے بھائیوں کو حراست میں لیکر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا۔

ٹی بی پی کو ذرائع نے بتایا کہ کیچ میں تمپ کے علاقے گومازی میں گذشتہ رات پاکستانی فورسز نے عبدالصمد کے گھر پر چھاپہ مارا جہاں دوران آپریشن خواتین و بچوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور گھر میں تھوڑ پوڑ کی گئی۔

فورسز اہلکار عبدالصمد کو اس کے دو بیٹوں صغیر اور شبیر کے ہمراہ حراست میں لیکر اپنے ہمراہ لے گئے تاہم بعد ازاں عبدالصمد کو تشدد کے بعد چھوڑ دیا گیا جبکہ اس کے دونوں بیٹے تاحال لاپتہ ہیں۔

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے تاحال اس حوالے کچھ نہیں بتایا گیا ہے۔

خیال رہے بلوچستان میں گمشدگیوں کیخلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز اور لاپتہ افراد کے لواحقین کی جانب سے گذشتہ کئی سالوں سے احتجاج کیا جارہا ہے۔

بلوچستان میں رواں سال جبری طور پر لاپتہ افراد میں سے کئی بازیاب ہوکر اپنے گھروں کو پہنچ گئے تاہم دوسری جانب جبری گمشدگیوں کے واقعات بھی رپورٹ ہورہے ہیں۔

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کی جانب سے 14 جولائی 2019 کو تربت بازار سے جبری طور پر لاپتہ کیئے جانیوالے شریف ولد سلمان، آوارن کے علاقے چیری مالار سے 30 اکتوبر 2019 کو لاپتہ کیئے گئے سولہ سالہ دوست محمد ولد ریاض، 15 اگست 2019 کو پنجگور بازار سے جبری طور لاپتہ کیئے گئے شاہ نظر ولد خدا نظر، 28 جون 2019 کو تربت بازار غریب آباد ٹرانسپورٹ سے جبری طور لاپتہ کیئے جانیوالے گلاب ولد علی بخش کو بازیاب کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔

خیال رہے کرونا وائرس کے باعث وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز نے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے اپنے احتجاج کو چار اپریل تک موخر کردیا ہے۔