سورج کا شہر (سفر نامہ) | قسط 3 – ڈاکٹر شاہ محمد مری

137

دی بلوچستان پوسٹ کتابی سلسلہ

سورج کا شہر (سفر نامہ) – ڈاکٹر شاہ محمد مری
گوادر میں پہلا دن

ضلع گوادر، ضلع کیچ کے جنوب میں واقع ہے۔ اس کی پوری جنوبی سمت، بحیرہ بلوچ پر مشتمل ہے۔ اس ضلعے کا ساحل چھ سو کلو میٹر طویل ہے۔ گوادر کے مغرب میں بلوچستان کا وہ حصہ ہے جو ایران کے قرعہ میں گیا ہوا ہے۔ انگریز تیری تو قرعہ اندازی مردہ باد ہو!۔ اچھے بھلے وطن کو تقسیم کر ڈالا۔ اور صدیوں تک باہم الگ کر ڈالا۔

گوادر ضلع کے مشرق میں آواران اور لسبیلہ اضلاع ہیں۔ اس ضلع کا کل رقبہ ایک لاکھ اسی ہزار کلو میٹر ہے۔ دو لاکھ افراد پر مشتمل اس ضلع میں بڑے بڑے قصبہ جات گوادر، پسنی اور ماڑہ اور جیوانی ہیں (اور ہر ایک مالا مال ہے تاریخی، ادبی اور حربی ورثے سے)۔ گوادر، کراچی سے 650 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔ لسبیلہ کی طرح گوادر میں بھی عام طور پر زندگی وہیں پائی جاتی ہے، جہاں پہاڑی نالے یا دریا سمندر میں مل جاتے ہیں۔ اہم نالے دشت (جس کے دہانے پر جیوانی ہے) اور شادی ہے، جہاں پسنی واقع ہے۔

ہم ساحلِ گوادر کے حسن میں گم سم کھڑے تھے کہ ہمیں علی بلوچ نامی ایک شخص کی خوب صورت انگلش میں لکھی چٹ ملی۔ (بعد میں معلوم ہوا کہ یہ چٹ علی بلوچ کے ہاتھ کی لکھی نہیں ہے اور یہ انگلش اس نے کسی اور سے لکھوائی تھی)۔ علی بلوچ گوادر میں ایک معزز شخص ہے، سیاسی سماجی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا ہے اور گوادر میں ہمارا میزبان ہے۔ اس کی لکھوائی ہوئی چٹ کا مفہوم یوں تھا؛ ”ہم نے بخشی ہوٹل میں بندوبست کر رکھا ہے، وہیں جانا ہے“۔ سو ہم پھر اپنی ڈبل ڈور پک اپ میں بیٹھے اور بخشی ہوٹل چلے گئے۔ جس کے گیٹ پر بخشی ہوٹل کے بجائے ”گوادر ٹورسٹ موٹل” لکھا ہوا تھا۔ خوب صورت سمندر کے عین کنارے پر بنا ہوا یہ ہوٹل سرکار سے بخشی بلوچ نے لیز پر لے رکھا تھا۔

اندر گئے تو یہ ہوٹل کے بجائے ایک میوزیم لگ رہا تھا۔ ہوٹل کے سامنے والے احاطے میں گنز کے مقام سے ٹرکوں پر لاد کر لائی گئی ویل مچھلی کا ایک جبڑا رکھا ہوا تھا، 22 فٹ لمبا………… جی ہاں اس کا جبڑا 22 فٹ یعنی سات گز لمبا تھا۔ پتھروں پر اس کی ہڈی بطور آرائش رکھی ہوئی تھی اور ریڑھ کی ہڈی کے پروئے ہوئے کچھ مہرے نمائش کے لیے موجود تھے۔ جب کہ مچھلی کی اپنی لمبائی 72 فٹ یعنی 24 گز تھی۔ اب اگر یہی مچھلی بلوچستان میں کسی خشکی کے علاقے میں ہوتی تو لوگ اس کو دیوتا جان کر اس کی پرستش کرنے لگتے۔ واضح رہے کہ لورالائی اور زیارت کے مقام پر نو گزا بابا کے نام سے موجود مزاروں پر لوگ منتیں مانگتے ہیں، نذرانے دیتے ہیں اور مرادیں پاتے ہیں۔ ہمیں ایک اور ”24گزا بابا“ مل جاتا۔

موٹل کے احاطے کے شمالی گیٹ کے اندر داخل ہوں تو وہاں چبوترے جیسا ایک اونچا پلیٹ فارم بنا ہوا ہے، جہاں سیڑھیاں چڑھ کر جایا جاتا ہے۔ اس اونچے پلیٹ فارم کے فرش پر دری بچھی ہوئی تھی۔ کرسیاں لگا کر ہمیں وہاں بٹھا دیا گیا۔ دور دور تک سمندر کا منظر تھا۔ محض ہم سے دس بارہ گز کا فاصلہ۔ سمندر کا نظارہ، غروبِ آفتاب کا منظر………… جہاں دن بھر گناہوں، مظالم، لوٹ مار اور استحصال کا نظارہ کرتے کرتے تھکا ہارا گناہ گار سورج، پاپ دھونے بلوچ سمندر کے پانیوں میں چوروں کی طرح منہ چھپا رہا تھا، رات بھر کے لیے۔ جیسے سارے جرائم انسان نے نہیں اس بے بس بے چارے سورج سے سرزد ہوئے ہوں ………… ہم پہ سمندر نے جادو کر دیا تھا۔ گوادر کے پشتی زر (پچھلا سمندر) کا یہ منظر لفظ ”خوب صورت“ کے جامے میں نہیں سما سکتا، خود جا کر دیکھنے کا تقاضا کرتا ہے۔ شالا ہر انسان کو یہ حسین منظر دیکھنا نصیب ہو۔

ہم انہی نظاروں میں غرق تھے کہ آٹھ رکنی لشکر کے ساتھ ایک شخص آن دھمکا۔ قمیص کے سارے بٹن کھلے ہوئے، چھوٹا قد، گنجا سر، نیم مکرانی رنگت والا…… یہی تھا علی بلوچ، ہمارا میزبان اور گوادر میں انسانی حقوق کا بڑا۔ کردار و کرتوت تو ہمیں بعد میں بھگتنے تھے مگر گفتار کی رفتار و مقدار میں اس کا ثانی پورے مکران میں نہ ہوگا۔ اتنا بولتا ہے، اتنا بولتا ہے کہ شیام کمار بھی پناہ مانگے۔ علی اردو بولتا ہے تو ساحلی انداز میں اس کے مذکر مؤنث کا جنازہ نکال دیتا ہے، بلوچی بولتا ہے تو اس میں قلندر کے دربار کے فقیر کے چوغے کی طرح جگہ جگہ اُردو الفاظ کے پیوند لگاتا جاتا ہے۔ یہ ہنس مکھ شخص گوادر کا بہت ہی خوب صورت دل و دماغ والا انسان تھا۔ ایسا بے پرواہ درویش منش شخص، اور، اس قدر وابستہ ہو انسانی بہبود و بہتری کے کاموں میں!!۔ اُس کی دوستی پہ مجھے فخر ہے! اس کی دوستی پر میرے مرحوم دوست امیر الدین کو فخر تھا۔

بخشی صاحب نے ہم سب حاضرین کے لیے چائے بھجوا دی اور ساتھ مچھلی کا کباب بھی۔ یہ ڈش میرے لیے بالکل نئی تھی۔ میں نے زندگی میں پہلی بار مچھلی کا کباب کھایا۔ بلوچستان کے کوہستانی قبائلی علاقوں میں مچھلی کو بطور خوراک کچھ زیادہ توقیر حاصل نہیں ہے۔ پہاڑ کے کسی مری کو پتہ نہیں کہ مچھلی کے کباب جیسا ”مزیدار“ پکوان بھی بنتا ہے دنیا میں۔ (بلوچ قوم کو باہم پیوست کرنے کے لیے کتنی بڑی اور ارتکاز یافتہ منڈی کی ضرورت ہے!!! مگر منڈی بننے لگتی ہے تو اسی وقت سارے بورژوا دانش وروں کو بلوچ ثقافت خطرے میں نظر آتی ہے اور اسے بچانے اور سابقہ حالت برقرار رکھنے کی مضمون بازی شروع ہو جاتی ہے!!! منڈی حیران، کہ منجی کتھے ڈھاوے!!)۔

بخشی ہوٹل کی دیوار پر لکڑی کے پالش شدہ بڑے بڑے دانوں سے بنی ایک بہت ہی بڑی تسبیح لٹک رہی تھی۔ ہم دم بخود رہ گئے یا اللہ، ہم پھر ملا کے حوالے ہوگئے؟۔ اتنی بڑی تسبیح ملا اسامہ کے پاس بھی نہ تھی۔ مگر پھر بتایا گیا کہ یہ تو بخشی کی جمالیات کا کارنامہ ہے۔ آرٹسٹ ذہن کا مالک بخشی اُسے کراچی سے خرید لایا ہے اور اس نے اسے ہوٹل کی خوب صورتی کے لیے دیوار پہ سجا رکھا ہے۔ (تسبیح اور خوبصورتی!!)۔ ہمیں یاد ہے کہ ملّا بے نظیر بھٹو نے تسبیح کا ایسا رواج ڈال دیا تھا کہ پورا ملک قندھار بن گیا تھا۔ چلتے پھرتے اٹھتے بیٹھتے، بزرگ و جوان، مرد و زن۔ تسبیحات ہی تسبیحات۔ محترمہ نے ہمارے ساتھ اور بھی بہت کچھ کرنا تھا مگر اللہ نے ان کی بادشاہی کے شر سے اُمت کو وقت پر نجات دلوائی۔ اور وہ اپنے ہی لیغاری کی شورشوں سازشوں سے دبئی چلی گئی۔ مگر ملائیت کی صورتیں تبدیل ہوتی گئیں، پہلے لغاری اور پھر مسلم لیگ، پھر مسلم اور اب اصلی ملائیت، مارشل لا جواِن سب ظاہری صورتوں کا حامی و ناصرہے، ہمیشہ سے…………

یہ ہوٹل ٹورازم کے لیے بہت پر کشش ہے۔ اس میں ایک طرف بلوچ طرز کا جھونپڑا بنا ہوا ہے۔ جس کے وسط میں گندم پیسنے والی ہاتھ کی چکی (جنتر) رکھی ہے، جس کا دستک اپنی اصل جگہ کی بجائے ”گر“میں گڑا ہوا ہے۔ قریب ہی ایک دیوار کے ساتھ بخشی کا ہٹا کٹا پالتو بندر بندھا ہے جو وقفے وقفے سے اپنی جوئیں پکڑ پکڑ کر کھانے کے کریہہ عمل میں مصروف ہے۔ ”جوں خور ہنومان“!۔ اگر مارکس، پوتر ہنومان جی کا یہ عمل دیکھتا تو نہ جانے انسان کو حقیر جانوروں (سانپ، گائے، بندر) کے سامنے سربہ سجود کرنے والے ہندوستان کے بارے میں مزید کیا کچھ لکھتا۔

بخشی خود درمیانے قد کا گورا چٹا ہنس مکھ انسان ہے۔ ہلکی مڑی ہوئی مونچھیں، نرم گفتار، مخاطب کی توقیر کو فلک تک بلند کرتا ہوا شریف آدمی ہے۔ وہ بی این ایم کی سنٹرل کمیٹی بھگت چکا ہے، بلدیاتی ممبری کرچکا ہے اور اب بھی بی این ایم (حال میں نیشنل پارٹی) سے وابستہ ہے۔ اتنے اچھے انسان کو اللہ ایک اچھی سیاسی پارٹی عطا کرکے اچھے راستے پر لگا دے۔ (کچھ سال بعد وہ خوب صورت انسان فوت ہوا)۔

دن بھر ایک غیر مہمان نواز صحرا، نا ترس ریت و مٹی اور بل کھاتی، آنتیں نکالتی شاہراہ کے سفر میں ”دشت زدہ“مسافر تھکے ماندے تھے۔ ہوٹل انڈسٹری کے ماہر بخشی نے نہانے کے لیے پانی گرم کروایا اور غسل خانوں میں بالٹی رکھوا دی۔ ہمیں ”صاحب پانی تیار ہے“ والی لاٹ صاحبی، یا پھر موجودہ سوئی گیس کمپنی کے پنجابی، ہندوستانی افسروں جیسی اطلاع دی گئی۔گوادر میں سرکار، شام کو پانچ گھنٹے کی بجلی دیتی ہے ایک جنریٹر سے۔ تین دن تک اسی حساب سے بجلی ملتی ہے۔ اور چوتھے دن اس علاقے کا ناغہ ہوتا ہے۔ اور آج اسی ناغے کا دن تھا۔ مگر بخشی، سرکار پر بھلا کب تکیہ کرتا تھا۔ اس نے ہوٹل کے لیے ایک ذاتی جنریٹر خرید رکھا تھا۔ چنانچہ بخشی کا اپنا جنریٹر مدھم روشنی دینے کے لیے موجود تھا۔ اچھے کشادہ باتھ رومز میں اچھی خاصی روشنی۔ عین جب نہانے کے لیے ہم بیلٹ ”باندھ“ چکے اور پھر دو تین مگ سر پر ڈال دیے تو اہلِ گوادر کو بند کواڑوں کے پیچھے بھی ہمارا بے حجاب نہانا گوارا نہ ہوا۔ بخشی کے ہوٹل والا جنریٹر خراب ہو گیا۔ ہم نے اندھیرے میں ’غسلِ تھکاوٹ‘ فرمایا۔ میں یقین سے کہتا ہوں کہ بلوچ نے بہت لازم حالتوں میں بھی اندھیرے میں غسل نہ کیا ہوگا۔ گوادر میں پہلا ”لوڈشیڈنگ باتھ“…… بلوچستان بہت سے انہونے کام کروا ڈالتا ہے۔

جب باہر نکلے تو ہوٹل کا مالک، کمرے میں دبئی سے سمگل کی ہوئی ٹارچ روشن کروا چکا تھا۔ یہ Nova کمپنی کی خوب صورت ٹارچ تھی۔ یہ ٹارج تو بہت ہی خوب صورت تھی۔ اس میں ٹیوب لائٹ بھی ہے، ٹارچ بھی، سگنل والی لائٹ بھی، پنکھا بھی اور پھر ساتھ میں تین بینڈ کاریڈیو بھی (واہ ڑے سرکار، تئی کمال!!)۔ خوب صورت چھوٹے سے ڈبے میں یہ سارے عجائبات شامل ہیں۔ گوادر، گوادر ہے۔

دن بھر کچی سڑک کے بڑے بڑے کھڈوں میں لگے جمپوں سے ہم پک اپ کی چھت اور سیٹ کے درمیان پنگ پانک کا بال بنے رہے تھے، اب رات ہوئی تو ہم تھکے ہارے مسافروں نے سر رکھا اور سو گئے۔ رات کو ڈاکٹر امیر الدین بڑی ”نیند مار“ قسم کے خراٹے مارتا ہے۔ رابرٹ اِنگر سول کی مریدی کے بلند بانگ دعوے کرنے والا امیر الدین بلا مبالغہ ہر رات کو دو تین بار بہ آواز بلند ”اللہ“ بھی کہتا ہے اور ہر صبح اٹھ کر یہ کہہ کر میرا مذاق اڑاتا ہے کہ میں نان بلیور کیوں نہیں ہوں۔ ہر صبح ضرور پوچھتا ہے، ”میں خراٹے تو نہیں لیتا؟“ اور جب میں اُسے کہتا کہ تم اپنے زور دار خراٹوں کے ساتھ تین چار بار اللہ کا نام بھی لیتے رہے۔ دن کو مانتے نہیں ہو اور رات کو پکار پکار کر یاد کرتے ہو۔ وہ یک دم کہتا، ”جاؤ، بکواس نہیں کرو“۔

بہرحال ہم بہت اچھی نیند سوئے۔ صبح سویرے ملا نے بانگ دی تو میں جاگ گیا۔ ساتھ والے بستر پر امیر الدین نے بڑا مہیب خراٹا بھرا (گویا ملّا کا ساتھ دیا، یا پھر اسے بڑی سے گالی دی!)۔ البتہ ملّا اپنی دُھن میں مگن ترنم میں بانگ دیے جاتا تھا۔ ایک ملّا، پھر دو، پھر تین۔ پھر پورا شہر بانگستان بن گیا۔ مجھے گوادر بھر کی بانگ میں اپنے گاؤں ماوند کے مؤذن ”اومری“ جیسی اپنائیت اور مقامیت نظر نہ آئی۔ اُن کے لہجوں اور لَے میں ”عربیت“ تھی، مجھے کوئی بھی بلوچ نہ لگا۔ مگر اسی وقت ایک بانگو (مرغا) نے بانگ دی تو میرا دل مچل کے رہ گیا۔ جیسے بلوچستان بول رہا ہو، جیسے ماوند بول رہا ہو، ہمارا اپنا، لوکل سر ٹیفکیٹ لیا ہوا بلوچ مرغا بول رہا تھا۔ تھوڑی دیر میں تو جیسے مرغوں نے مقابلہ شروع کر دیا ہو: مقابلہِ بانگ!۔ موٹی آواز میں، پتلی آواز میں، تحکم والی آواز میں، مفلسی کی نقاہت میں، نوجوان کی سی بے صبری کی بانگ، بوڑھے کی ٹھہری ٹھہری بانگ، جلد جلد سانس چڑھنے والی بانگ اور کسی مرغی کو پیغام دینے والے کوڈڈ الفاظ والی بانگ۔ ایک ”چریا“ مرغا تو دن کے دس بجے تک بانگیں دیے جارہا تھا۔

اِسے روکو، گوادر والو! ورنہ تمہارا حشر بھی بامیان جیسا ہوگا۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔