ریکوڈک سے متعلق وزیر اعظم کا بیان، کیا اٹھارویں ترمیم کی خلاف ورزی نہیں؟ سردار اختر مینگل

106

بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ و رکن قومی اسمبلی اختر جان مینگل نے کہا ہے کہ ریکوڈک ذخائر فروخت کرنے کا وزیر اعظم کا بیان کیا اٹھارویں ترمیم کے خلاف نہیں؟ ماضی میں جب علاقے فتح کیئے جاتے تھے تب تمام مال متاع کے ساتھ عورتوں کو کنیز بناکر لے جاتے تھے، یہ بتایا جائے کہ کیا بلوچستان مفتوحہ علاقہ ہے۔

منگل کو اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قدرتی گیس کے بعد اب دیگر وسائل پر بھی منصفانہ تقسیم نہیں نظر آرہی۔

ان کا کہنا تھا کہ سیندک میں 300 ارب ڈالر سونے اور چاندی کے ذخائر بتائے گئے ہیں۔ اس وقت بھی بلوچستان کے تین اضلاع کو بجلی ایران سے مل رہی ہے، میں آرٹیکل 6 کی بات نہیں کرتا وہ شاید آپ کے بس کی بات نہیں ہے لیکن 1972ء سے آرٹیکل 158 کی مسلسل خلاف ورزی کی جارہی ہے۔

اس موقع پر رکن اسمبلی اسلم بھوتانی نے توجہ دلاؤ نوٹس پر کہا کہ وفاقی حکومت نے کہا تھا ریکوڈک ذخائر کو بیچ کر ملک کا قرض اتاریں گے، کیا صرف بلوچستان کے وسائل ہی قرض اتارنے کے لیے ہیں، بلوچستان کے وسائل ہی بلوچستان کے مسائل کا سبب بن رہے ہیں۔

اسلم بھوتانی نے کہا کہ آج تک بلوچستان کے 10 فیصد حصے کو بھی گیس نہیں ملی ہے، سینڈک سے بلوچستان کو صرف 2 فیصد حصہ ملا، سی پیک سے لاہور، ملتان اور کراچی میں تو ترقی ہوئی لیکن بلوچستان کی قسمت نہیں بدلی، بلوچستان میں آج بھی 14 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ہورہی ہے، ریکوڈک سے بلوچستان کے نوجوانوں کا مستقبل وابستہ ہے، بلوچستان کے نوجوان اب مزید زیادتی برداشت نہیں کرینگے۔