بلوچ قوم اور عالمی سیاست – امین بلوچ

63

بلوچ قوم اور عالمی سیاست

تحریر: امین بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

بلوچ قوم کئی دہائیوں اپنی بقاء کی خاطر قابض ریاست پاکستان کےخلاف ایک مشکل جنگ لڑ رہی ہے، بلوچ قوم مختلف پلیٹ فارموں سے اس جنگ کو جاری رکھے ہوئے ہیں اور بلوچ کا دشمن جدید ٹکنالوجی اور جدید ہتهیاروں سے لیس ہےاور ایک ایٹمی ملک ہے اور دنيا کے بڑے معاشی اور فوجی طاقتیں پاکستان کو مالی اور فوجی ساز وسامان فراہم کر رہے ہیں اور دوسری طرف بلوچ قوم اپنی مدد آپ کے تحت اپنی اس جنگ کو جارہی رکھے ہوئے ہیں۔

ان حالات میں بلوچ کو اپنی شناخت ظاہر کرنے اور اپنے اوپر ڈھائے پاکستانی مظالم اور اس کے جبر و بربریت کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ وہ دنیا کو بتاسکیں کہ انگريزکے برصغیر سے نکلنے کےبعد بلوچستان ایک آزاد ملک قرار دیا گیاتھا، اور اسکی ۱۸۳۹ سے پہلے کی آزاد حیثیت بحال ہوگئی تھی۔ چند ممالک نے بلوچستان کے ساتھ تجارتی معاہدات بھی کئے تھے اور پاکستان سمیت کچھ ممالک نے ہماری آزادی کو تسلیم کیا تھا۔ اس کے بعد ہم تقریباً سات مہینے آزاد رہے، لیکن سات ماہ بعد ریاست قلات پر پاکستانی فوج کی جانب سے حملہ کیا گیا اور کئی لوگوں کو شہید کیا گیا۔ کئی بلوچ لیڈروں کو گرفتار کیا گیا، اس دن کے بعد بلوچ قوم اپنے دفاع و آزادی کے لیے جنگ لڑ رہے ہیں۔

ان ٧٢سالوں میں ہمارے لیڈروں کو شہید کیا گیا، ہمارے ماوں اور بہنوں کو شہید کیا جارہا ہے، ہمارے گھروں کو مسمار کیا جارہا ہے، ہمارے نوجوانوں کو لاپتہ کیا جارہا ہے، ہمارے لوگوں کی مسخ شدہ لاشیں پھینکی جا رہی ہیں، ہمارے نوجوانوں کے لاشوں کو اجتماعی قبروں میں دفنایا جا رہا ہے۔ یہ ذمہ داری بلوچ قوم کے سیاسی لیڈر شپ اور سیاسی کارکنوں پر عائد ہوتی تھی کہ بیرونی دنيا اور اقوام متحدہ کے اداروں کو اس بات کا ثبوت پیش کریں کہ ہم مذہب کے نام پر نہ بنے تھے نہ کسی کے ساتھ مذہب کے بنیاد پر رہیں گے۔ بلوچستان ایک سیکولر ملک ہے، ہمارے ہاں مذہب اور ذات پات کی تقسیم و نفرت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ہم سب مذاہب کا احترام کرتے ہیں، بلوچستان کسی ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرےگا، دنيا کےآزاد ملکوں کی خودمختاری کا احترام کرے گا، بظاہر بلوچ لیڈر شپ سیاسی اور سفارتی سطح پر کوئی خاص کامیابی نہ پا سکی۔ بلوچ نوجوان بیرون ملک میں بھی محفوظ نہ رہے۔

سب سے پہلے ٢٠٠٧اور ٨کے درميان بلوچ سیاسی رہنما حیربیار مری اور فیض بلوچ کو بر طانیہ سے گرفتار کیا گیا، حیربیار اور اس کے ساتھی پر جعلی کیسز بنائے گۓ، پاکستان نےبرطانیہ کے حکومت سے حیربیار مری کے حوالگی کا مطالبہ کیا۔ برطانیہ کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کی کوشش کی گئی لیکن پاکستان اور برطانیہ دونوں کامیابی نہیں ہوسکے کیونکہ برطانیہ کا عدالتی نظام آزاد ہے، کافی عرصہ قید کرنے کے بعد انھیں رہا کر دیا گیا۔ اس کے بعد ٢٠١۸میں راشد حسین بلوچ کو متحده عرب امارات سے گرفتار کرکے لاپتہ کیا گیا۔ راشد حسین بلوچ ایک سوشل میڈیا ایکٹیویسٹ تھے۔ وہ بلوچ آزادی کے حامیوں میں شمار ھوتا ہے۔ متحده عرب امارات کے اپنے عدالت میں پیش کرنے، جرم ثابت کرنے، اسے اپنے ملک میں سزا دینے کے بجائے انھیں قابض ریاست پاکستان کے حوالے کیا گیا۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان اپنے ہمسایہ ملکوں کے ساتھ کیسا رویہ رکھتا ہے۔ جو کھل کر پاکستان کے مفادات کے لۓ کام کرتے ہیں اب راشد حسین بلوچ کا کوئی پتہ نہیں ہے۔ یہ سلسلہ یہاں رکا نہیں ٢مارچ ٢٠٢٠کو ایک اور بلوچ صحافی ساجد حسین بلوچ کو سوئیڈن سے لا پتہ کیا گیا۔ اب اس آزاد اور خودمختیار ملک میں اس کا کیا جرم تھا؟ ایک ماہ گذرنے کے باوجود ساجد حسین کا کچھ پتہ نہیں کہ انھیں کس نے اغواء کیا، کیوں اغواء کیا اور اس کا جرم کیا ہے۔

دنیا کے اسطرح کے رویہ سے اندازہ ھوتا ہے کہ ہم نے بلوچستان سے باہر اپنے وطن اور قوم کے خاطر کتنا سفارتکاری کیا ہے، ہم کتنا متحد ہیں، ہم کتنا کامیاب رہے ہیں، کتنے ملک ہمیں مظلوم تصور کر رہے ہیں، کتنا ہمیں محکوم تصور کرتے ہیں، ہم دنيا کو سمجھانے نکلے تھے، وہی دنیا ہمیں لاپتہ کرر ہا ھے، ہمیں خوف ہے کہ کہیں یورپ کی گلیوں اور کوچوں میں ہماری مسخ شدہ لاشیں نہ ملیں، بلوچ قوم کے آزادی پسند لیڈر شپ اور سیاسی کارکن متحد ھوجائیں اور اپنے قومی شناخت اور قومی وجود کو بچائیں، جسطرح عالمی وبا کرونا وائرس نے دنيا کے بڑے بڑے طاقتوں کو مجبور کیا کہ وہ متحد ہو کر اس وائرس کے خلاف لڑیں اسے روکنے میں کردار ادا کریں اگر ہم بلوچ قومی مفادات کی خاطر متحد نہ ہوئے تو بلوچ دنیا کے کسی بھی کونے میں محفوظ نہیں رہیں گے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔