برطانوی پارلیمان میں بلوچستان کی اجتماعی قبروں کی بازگشت – ٹی بی پی فیچر رپورٹ

615

برطانوی پارلیمان میں بلوچستان کی اجتماعی قبروں کی بازگشت
ٹی بی پی فیچر رپورٹ
بہزاد دیدگ بلوچ

بلوچستان کے ضلع خضدار کے علاقے توتک میں 25 جنوری 2014 کی سرد صبح، ایک بلوچ چرواہا اپنا ریوڑ چراہتے ہوئے مژی کے علاقے کو نکلتا ہے۔ پہاڑوں کے بیچ موجود یہ علاقہ گذشتہ تین سالوں سے نامعلوم مسلح لوگوں کے محاصرے میں تھا اور کسی کو آنے جانے کی اجازت نہیں تھی۔ سب جانتے تھے یہ مسلح لوگ کون ہیں، اور انہیں کس نے یہاں لایا ہے۔ لیکن کوئی اس بارے میں سوال نہیں کرنا چاہتا تھا۔ کیونکہ ان مسلح لوگوں کے آنے سے تین سال پہلے 18 فروری 2011 کو پاکستان کی فوج ایک بہت بڑی تعداد میں آئی تھی۔ وہ اس چھوٹے سے خوشحال گاؤں کو چاروں طرف سے گھیر کر دو درجن سے زائد لوگوں کو گرفتار کرکے اپنے ساتھ لے گئے تھے اور فائرنگ کرکے دو کمسن نوجوانوں کو ماردیا تھا اور آدھے گاؤں کو جلادیا تھا۔ جن لوگوں کو وہ گرفتار کرکے اپنے ساتھ لے گئے، ایک کی لاش کچھ وقت کے بعد مل گئی تھی۔ باقیوں کا آج تک پتہ نہیں چلا۔ اس فوجی آپریشن کے بعد، فوج ان مسلح لوگوں کو یہاں چھوڑ گئی تھی۔ جو اپنے آپ کو “مسلح دفاع” کے نام سے پکارتے تھے اور اپنا سربراہ شفیق مینگل بتاتے تھے۔ جو فخر سے کہتے تھے کہ ہم کشمیر و افغانستان میں “جہاد” کرچکے ہیں، اب بلوچستان کے کافروں (آزادی پسندوں) کے صفائے کیلئے آئے ہیں۔ بڑے داڑھی والے یہ مسلح لوگ اکیلے نہیں ہوتے، انکے ہمراہ فوج کی وردی میں ملبوس کلین شیو اہلکار بھی نظر آتے۔ لیکن صرف ایک ہفتے پہلے ان مسلح لوگوں کو پچیس سے زائد گاڑیوں میں سب نے نکلتے ہوئے دیکھا۔ ان کے جانے کے بعد وہاں سے فائرنگ کی آوازیں اور پراسرار انسانی چیخوں کی آوازیں آنا بند ہوگئیں۔ شاید یہی تجسس اس بلوچ چرواہے کو اس جگہ پر لے گیا کہ دیکھے کہ یہاں تین سال کیا ہورہا تھا۔

ہانگ کانگ میں قائم ایشیئن ہیومن رائٹس کمیشن 1984 کو اس غرض سے قائم ہوئی کہ وہ ایشیائی ممالک میں انسانی حقوق کی پامالیاں کو روکنے اور صورتحال کو بہتر کرنے کیلئے کام کرسکے۔ انہوں نے 27 جنوری 2014 کو ایک ہنگامی پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے کہا بلوچستان کے علاقے توتک سے تین اجتماعی قبریں دریافت ہوئیں ہیں۔ جن سے ابتک 169 لاشیں نکالی جاچکی ہیں۔ انہوں نے اپنے پریس ریلیز میں کہا کہ ایک چرواہے نے توتک کے علاقے میں انسانی اعضاء دیکھے، اس نے اہل علاقہ اور لیویز اہلکاروں کو اطلاع دی۔ جب کھدائی شروع ہوئی تو تین مختلف اجتماعی قبروں سے 169 لاشیں نکالی گئیں۔ بعد میں فوج نے آکر علاقے کو سیل کرکے اپنے قبضے میں لے لیا اور لوگوں کو وہاں سے نکل جانے کا حکم دے دیا۔ اہل علاقہ کے مطابق وہاں مزید لاشیں تھیں۔ لیکن بعد میں کسی کو اجازت نہیں دی گئی۔ بعد ازاں فوج نے یہ اعلان کیا کہ محض 15 لاشیں نکالی گئیں ہیں۔

ان لاشوں میں سے دو قدرے نئے تھے، جن کی شناخت دو لاپتہ بلوچ سیاسی کارکنوں سے ہوئی، جنہیں بلوچستان کے ضلع آواران سے چند ہفتے پہلے پاکستانی فوج گرفتار کرچکی تھی۔ جس سے اس بات کو مزید تقویت ملی کہ یہ تمام لاشیں بلوچ لاپتہ افراد کی ہیں۔ باقی مسخ شدہ لاشوں کو ڈی این اے ٹیسٹ کے نام پر غائب کیا گیا۔ آج تک نا کوئی ڈی این اے ٹیسٹ منظر عام پر آسکی اور نا یہ پتہ چل سکا کہ فوج دو سو کے قریب ان لاشوں کو کہاں لے گئی۔

بلوچ قوم پرست سیاسی کارکنوں کے خلاف پاکستانی فوج کی ” مارو اور پھینکو ” پالیسی کے آغاز کے بعد یہ پہلی اجتماعی قبر نہیں تھی، اس سے پہلے نومبر2010 میں پشین کے علاقے یارو اور بوستان کے درمیان ایک اجتماعی قبر سے 5 لاپتہ افراد جبکہ11 مئی 2011 کو پنجگور میں ایک اجتماعی قبر سے تین بلوچ رہنماؤں آغاہ عابد شاہ، ماسٹر ستار اور سفیر بلوچ کی مسخ شدہ لاشیں مل چکی تھیں۔ 2014 تک اٹھارہ ہزار بلوچ سیاسی کارکن غائب تھے۔ جس کی وجہ سے یہ اندیشہ شدت اختیار کرگیا کہ بلوچستان میں ایسی درجنوں گمنام اجتماعی قبریں موجود ہوسکتی ہیں۔

بلوچ سیاسی جماعتیں اور انسانی حقوق کی تنظمیں جو پہلے سے ہی بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالیوں پر سراپا احتجاج تھے، توتک اجتماعی قبروں کے بعد، انہوں نے اپنے احتجاج میں شدت پیدا کردی، روایتی پاکستانی میڈیا اس مسئلے کو دباتا رہا لیکن سوشل میڈیا کے ذریعے یہ بات عالمی میڈیا تک پہنچی۔ جس کے بعد کچھ عالمی جرائد نے اس خبر کو اپنے صفحوں پر جگہ دی۔ امریکی کانگریس مین لوئی گوہمرٹ نے امریکی کانگرس کے اپنے خطاب میں بلوچستان کے ان اجتماعی قبروں پر بات کی۔ اس عالمی دباؤ کو دیکھ کر اس وقت بلوچستان کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر مالک بلوچ نے دبے الفاظ میں فوج کا نام لیئے بغیر الزام شفیق مینگل پر عائد کرتے ہوئے، جسٹس نور محمد مسکانزئی کی سربراہی میں تحقیقات کیلئے ایک عدالتی کمیشن تشکیل دے دی۔

ایک ہفتے کے اندر ہی بلوچ سیاسی کارکنان کے علاوہ جو مسلسل احتجاج کررہے تھے، عالمی میڈیا اور عالمی انسانی حقوق کے ادارے اس بڑے انسانی المیئے کو یکسر بھول گئے۔ نا اس پر کوئی عالمی فیکٹ فائنڈنگ مشن تشکیل پائی نا سوالات اٹھے۔ سب سے چونکا دینے والی چیز پانچ ماہ بعد عدالتی کمیشن کی رپورٹ تھی۔

جسٹس نور محمد مسکانزئی کی سربراہی میں قائم اس عدالتی کمیشن کے سامنے 57 عینی شاھدین نے اپنے بیانات قلمبند کروائے۔ ان 57 گواہان میں سے 38 افراد نے پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسیز اور فوج کے خلاف اپنے بیانات قلمبند کروائے۔ 20 سے زائد عینی شاھدین نے ان اجتماعی قبروں سے شفیق مینگل کی وابستگی کی تصدیق کی۔ ایک ایسے علاقے میں جہاں فوج، انٹیلی جنس اداروں اور اسکے قائم علاقائی ملیشیاء کے خلاف بولنے کی سزا انتہائی سخت ہو، اور اجتماعی قبریں مل رہی ہوں، اتنی بڑی تعداد میں گواہیاں کچھ معنی رکھتی ہیں۔ لیکن حیرت انگیز طور پر کمیشن نے تمام گواہوں کو یہ کہہ کر مسترد کردیا کہ وہ اپنے الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اور ان اجتماعی قبروں سے پاکستانی آرمی اور خفیہ اداروں کے نا صرف تعلق کو مسترد کردیا بلکہ کمیشن کے رپورٹ سے شفیق مینگل کا نام بھی غائب کردیا گیا۔

عالمی اداروں کی طرف سے اس معاملے پر خاموشی اور ملوث اداروں و افراد کو اتنی آسانی سے کمیشن کی جانب سے چھوٹ ملنا، اس جانب اشارہ تھا کہ توتک کی اجتماعی قبریں نا آخری ہونگی اور نا ہی بلوچستان میں سیاسی کارکنوں کے جبری گمشدگیوں کا سلسلہ رکے گا۔ آنے والے سالوں نے اس بات کی تصدیق کردی۔ 2014 تک لاپتہ افراد کی جو تعداد 18000 تھی وہ اب وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے مطابق 40،000 تک پہنچ چکی ہے، اور توتک کے بعد بلوچستان کے علاقے ڈیرہ بگٹی اور تربت سے مزید اجتماعی قبریں برآمد ہوچکی ہیں۔

ان جنگی جرائم پر عالمی خاموشی کیوں؟ اس کی وجوہات جاننے کیلئے دی بلوچستان پوسٹ نے عالمی سیاست اور بلوچ سفارت پر نظر رکھنے والے فرانس میں مقیم بلوچ نیشنل موومنٹ کے ڈائسپورا کمیٹی کے آرگنائزر ڈاکٹر نسیم بلوچ سے بات کی “میری نظر میں پاکستان کے جنگی جرائم پر بات نہ کرنا یا ان کے خلاف ایکشن نہ لینے کی چند ایک وجوہات ہیں۔ جس میں سرفہرست پاکستان سے انکے وابسطہ مفادات ہیں۔ پاکستان عالمی طاقتوں کے لئے ایک ریاست سے زیادہ ایک کرائے کے فرم جیسا ہے۔ جس طاقت نے جو چاہا ،جیسا چاہا، اس سے کام لیا۔ پاکستان کے پاس نہ کوئی ”ریاستی” معیار ہے اور نہ قومی اقدار۔ پاکستان نے بھی عالمی طاقتوں کے لئے کار گذاری کے دوران خطے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے اور بلیک میلنگ کیلئے مذہبی جنونیت کی آبیاری کی اور آج بھی اسے ہتھیار بناکر دنیا کو بلیک میل کررہی ہے۔ دوسری بات یہ کہ عالمی طاقت خطے میں تبدیلی سے خوف زدہ ہیں، دنیا اس خوف میں بھی مبتلا ہے کہ پاکستان کے واضح جنگی جرائم پر اقدامات اٹھانے سے یا ہماری تحریک کی حمایت کرنے سے۔ پاکستان کی موجودہ مذہبی جنونیت باقی ماندہ پاکستان میں مزید مضبوط ہوگی اور خطے و دنیا کے لیئے وبال جان بن جائے گی۔”

ڈاکٹر نسیم بلوچ بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالیوں پر عالمی خاموشی کا الزام مکمل طور پر عالمی اداروں پر نہیں لگاتے بلکہ وہ اس میں بلوچ سیاسی جماعتوں کی کمزور سفارت کاری کو بھی ذمہ دار سمجھتے ہیں، وہ کہتے ہیں “دو عشرے پورے ہوچکے ہیں کہ لوگ بلوچ کے لئے سفارتکاری کے نام پر باہر بیٹھے ہیں۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بیس سالوں سے بلوچ قوم کیلئے سفارت کاری کے نام پر بیٹھ کر ہمدرد اور دوست پیدا نہیں کئے گئے۔ بین الاقوامی اداروں تک رسائی حاصل نہیں کی گئی۔ پاکستان کے تاریخی یا موجودہ جرائم پر کوئی دستاویزی کام نہیں ہوا ہے۔ اس کا دوش ہم کس کے سر تھونپیں؟”
25 جنوری 2014 سے ایک ہفتہ پہلے درجنوں گاڑیوں میں مسلح لوگ توتک سے نکل کر بلوچستان کے ایک اور علاقے وڈھ باڈڑی کو اپنا ٹھکانہ بناچکے۔ کئی بار وہاں اذیت گاہوں اور اجتماعی قبروں کی بابت آوازیں گونجتی رہیں۔ لیکن وہ آوازیں عالمی اداروں کے سماعتوں سے نہیں ٹکرا سکیں۔ کوئی عام شہری وہاں جانے کی جرات نہیں کرسکتا اور بادی النظر سیکورٹی ادارے وہاں جانا نہیں چاہتے۔ وہ شخص جس پر الزام تھا کہ توتک کے اجتماعی قبروں میں وہ ملوث ہے۔ وہ شفیق مینگل جسے آزادی پسند خفیہ اداروں کے بنائے گئے ڈیتھ اسکواڈ کا سربراہ گردانتے ہیں، جس پر 2010 میں بلوچ لبریشن آرمی نے ایک خود کش حملہ کیا تھا۔ وہ کچھ وقت روپوش رہنے کے بعد 2018 میں آزادی کے ساتھ پاکستان کے عام انتخابات میں شرکت کرتا ہے۔ اور کھلم کھلا جلسے شروع کردیتا ہے۔ اور توتک کے اجتماعی قبروں کے مسئلے کو انہی قبروں میں دبا دیا جاتا ہے۔

لیکن یہ مسئلہ بلوچوں کے حافظے سے نہیں مٹتی، وہ ایک چھوٹے سطح پر ہر فورم پر جاتے ہیں، اور یاد دہانی کراتے رہتے ہیں۔ یہ مسئلہ ڈرامائی انداز میں اس وقت دوبارہ منظر عام پر آتا ہے جب برطانوی پارلمینٹ میں نائیجل ایڈمز، برطانوی وزیر برائے دولت مشترکہ اور انٹرنیشنل ڈولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ ایک سوال کے جواب میں یہ اعتراف کرتے ہیں کہ برطانوی حکومت بلوچستان کے علاقے خضدار، تربت اور ڈیرہ بگٹی سے ملنے ولی اجتماعی قبروں کے بابت علم رکھتی ہے۔

توتک کے اجتماعی قبروں کی برآمدگی کے چھ سال بعد 14 مارچ 2020 کو برطانوی پارلیمنٹ کے پورٹس ماوتھ، ساؤتھ انگلینڈ سے لیبر پارٹی کے ایم پی اسٹیفن مارگن، برطانوی وزیر نائجنل ایڈمز سے بلوچستان کے اجتماعی قبروں کے بابت سوال کرتے ہیں۔ اور جواب میں مذکورہ وزیر کہتے ہیں کہ انکی حکومت کو ان اجتماعی قبروں کے بارے میں اچھی طرح علم ہے۔

اس وقت ہتھیار درآمد کرنے والے ملکوں میں پاکستان دنیا کا دسواں بڑا ملک ہے، جو تقریباً 800 بلین ڈالر سالانہ اس مد میں خرچ کرتا ہے۔ چین، امریکہ اور روس کے بعد پاکستان بڑی تعداد میں یہ ہتھیار برطانیہ سے برآمد کرتا ہے۔ برطانوی وزیر کے اس انکشاف کے بعد کہ وہ بلوچستان میں موجود اجتماعی قبروں کی موجودگی سے باخبر ہیں۔ اور یہ ایک عام معلومات ہے کہ پاکستان یہ درآمد کردہ ہتھیار بلوچستان میں استعمال کررہا ہے۔ تو کیا برطانیہ کے پاس مزید قانونی اور اخلاقی جواز باقی رہتا ہے کہ وہ مزید پاکستان کو ہتھیار برآمد کرتا رہے؟ اور کیا محض یہ تسلیم کرنے تک برطانیہ اجتماعی قبروں کی موجودگی سے باخبر ہے، حکومت برطانیہ کی ذمہ داری بلوچستان میں انسانی حقوق کے مسئلے پر ختم ہوجاتی ہے؟

اس حوالے دی بلوچستان پوسٹ نے اطالوی صحافی فرانسیسکا مرینو سے بات چیت کی۔ فرانسیسکا مرینو جنوبی ایشیاء کے امور کے ماہر ہیں اور اس موضوع پر ایک کتاب ” ایپوکلپس پاکستان” لکھ چکے ہیں۔ انہوں نے ٹی بی پی سے بات کرتے ہوئے کہا” مجھے برطانوی وزیر کے انکشاف سے حیرت ہوئی، لیکن میں چونکی نہیں۔ ہم سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ جو اسلح و ہیلی کاپٹر پاکستان کو بیچے جاتے ہیں، وہ بلوچوں اور پاکستان کے دوسرے شہریوں کے خلاف استعمال ہورہے ہیں۔ میں برطانوی قوانین سے اچھی طرح آگاہ نہیں ہوں، لیکن میں اپنے ملک کے قوانین کو جانتی ہوں۔ اٹلی پاکستان کو اسلحہ فروخت کررہا ہے حالانکہ 9 جولائی 1990 کا اطالوی قانون 185 اس بات کی ممانعت کرتا ہے کہ کسی بھی ایسے ملک کو اسلحہ نہیں بیچی جائے، جہاں اندرونی لڑائی چل رہی ہو، سوائے جب ان پر کوئی بیرونی حملہ ہو، جس کی اجازت اقوام متحدہ کے چارٹر کا آرٹیکل 51 بھی دیتا ہے۔ اس ملک کو اسلحہ فروخت کرنے کی ممانعت ہے جو اٹلی کے آئین کے آرٹیکل 11 کے اصولوں سے ہم آہنگ نا ہو ( اٹلی مسئلوں کا حل جنگوں سے نکالنے کے خلاف ہے)۔ اور ان حکومتوں کو جو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہوں۔ پچھلے سال ہم نے پاکستان کو 682 یورو کے اسلحہ فروخت کیئے۔”

اطالوی صحافی کا کہنا ہے کہ جو بلوچستان کے اجتماعی قبروں پر خاموش ہے، وہ بھی شریکِ جرم ہے ” برطانیہ بلوچستان کے اجتماعی قبروں کے بارے میں جانتا ہے، پورا مغرب جانتا ہے، اقوام متحدہ جانتا ہے بلکہ پوری دنیا جانتا ہے، لیکن کوئی کچھ نہیں کرتا، الٹا پاکستان کو اسلحہ فروخت کرتے ہیں۔ وہ اسلحہ جو بلوچوں کے خلاف استعمال ہوتے ہیں۔ اسکا مطلب یہ ہے کہ ہم نا صرف اس جرم کے شاھدین ہیں بلکہ ان گمنام قبروں کے ذمہ دار بھی ہیں۔ ہم ان بلوچوں کے تکلیف کے ذمہ دار ہیں جو سالوں سے اپنے پیاروں کے واپسی کا انتظار کررہے ہیں۔ ہم ان قبروں کے ذمہ دار ہیں، ہم ان مارے جانے والے بچوں کے ذمہ دار ہیں۔ اور پاکستان کے جرائم میں برابر کے شریک ہیں۔”

برطانوی وزیر کی یہ تصدیق کے انکی حکومت بلوچستان کے اجتماعی قبروں اور انسانی حقوق کے خلاف ورزیوں سے آگاہ ہے، مکمل رضاکارانہ نہیں تھی بلکہ انہیں یہ جواب لیبر پارٹی کے ایم پی اسٹیفن مارگن کے اچانک سوالات کے جواب میں دینا پڑا۔ یہ دراصل بلوچ سیاسی کارکنوں کے ان کوششوں کا نتیجہ تھی جو وہ مسلسل 2014 سے ہی کرتے آرہے تھے۔ کچھ دن پہلے ہی لیبر پارٹی کے مذکورہ ایم پی سے بلوچ نیشنل موومنٹ کے یو کے زون کا ایک وفد دو بار ملاقات کرچکی تھی اور انہیں بلوچستان کی صورتحال سے آگاہ کرتی رہی تھی اور مسلسل اس کوشش میں تھی کہ وہ بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کے مسئلے پر برطانوی پارلیمنٹ میں سوالات اٹھائے۔ جس کا نتیجہ برطانوی وزیر کے تصدیق کے صورت میں آیا۔ بلوچ سیاسی کارکنان اس واقعے کو اپنے لیئے ایک بڑی کامیابی کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

خلیل بلوچ اسی جماعت بلوچ نیشنل موومنٹ کے گذشتہ ایک دہائی سے مرکزی چیئرمین ہیں، وہ برطانوی پارلیمنٹ میں بلوچ مسئلے پر بات چیت کو بلوچ سیاسی آواز کی کامیابی گردانتے ہیں۔ اس بابت ہم نے ان سے بات چیت کی اور پوچھا کہ اب برطانیہ کی ذمہ داری کیا ہونی چاہیئے؟ انکا کہنا تھا کہ “حکومت برطانیہ کی جانب سے بلوچستان میں اجتماعی قبروں کے حوالے سے جو انکشاف سامنے آیا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ یہ انکشاف اچانک نہیں ہوا ہے بلکہ ہماری مسلسل احتجاج، شواہد ریکارڈ پر لانے، بین الاقوامی سطح پر پارٹی کی جانب سے احتجاج، مظاہرے اور سوشل میڈیا سمیت تمام ممکنہ ذرائع بروئے کار لانے کا نتیجہ ہے۔ میں اسے ایک اہم پیش رفت اور بلوچ سیاسی آواز کی کامیابی سمجھتاہوں کہ برطانیہ نے یہ اعتراف یا اقرارکرلیا ہے لیکن میں یہ بھی واضح کرتاہوں کہ محض اقرار کافی نہیں بلکہ برطانیہ کو اس سے آگے بڑھ کر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ برطانیہ عالمی برداری کا اہم رکن ہے اور بالخصوص اس خطے کے حوالے سے برطانیہ کی ذمہ داریاں کچھ زیادہ ہی بڑھ جاتی ہیں۔ اس کی ایک تاریخی پس منظر ہے۔ پاکستان کے تخلیق اور بلوچستان پر پاکستانی قبضے میں برطانیہ کا بہت بڑا کردار ہے، اس تناظر میں دیکھا جائے تو برطانیہ کو بہت پہلے اس کا نوٹس لینا چاہئے تھا۔”

برطانوی وزیر کے پارلیمنٹ میں اس بیان سے تین دن پہلے 11 مارچ 2020 کو امریکی دفتر خارجہ نے پاکستان میں انسانی حقوق کے پامالیوں پر اپنی سالانہ رپورٹ جاری کی۔ اس سالانہ رپورٹ میں بلوچستان میں انسانی حقوق کے خلاف ورزیوں پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے اور بلوچ لاپتہ افراد کو ” سیاسی قیدی ” کے نام سے مخاطب کرکے اس مسئلے کو ایک سنجیدہ مسئلہ قرار دیا، اور فوج پر یہ الزام لگایا کہ وہ بلوچوں کو لاپتہ کرنے اور آئے روز بلوچستان میں آپریشن کرنے میں ملوث ہے۔

بلوچستان میں انسانی حقوق سے متعلق دو عالمی قوتوں کی جانب سے ایک ہفتے کے دوران دو خبریں، بلوچوں کیلئے حوصلہ افزاء ہونی چاہئیں۔ کیا ان سے بلوچستان کے حالات پر اثر پڑے گا؟ ان دو پیش رفتوں کے بعد آج 16 مارچ 2020 کو بلوچستان کی بڑی شہ سرخیاں کیا ہیں؟ ” کوئٹہ: لاپتہ افراد کے احتجاجی کیمپ کو3923 دن مکمل ہوگئے۔”، ” بلوچستان کے علاقے مشکے اور واشک میں فورسز کا آپریشن جاری” اور ” لیاری میں بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین کا احتجاج”۔ کیا کچھ بدلے گا؟