گتیریس کی تشویش – ٹی بی پی اداریہ

111

گتیریس کی تشویش

ٹی بی پی اداریہ

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گتیریس کا پاکستان کا چار روزہ سرکاری دورہ گذشتہ بدھ کو اختتام پذیر ہوا۔ انکا یہ پاکستان کا دوسرا دورہ تھا، انہوں نے پہلا دورہ اسوقت کیا تھا جب وہ اقوام متحدہ میں پناہ گزینوں کے ہائی کمشنر تھے۔

تاہم، سیکریٹری جنرل اپنے حالیہ دورے میں بھی پناہ گزینوں کے بابت خدشات کا اظہار کرتے نظر آئے، حالانکہ اب انکی ذمہ داریوں کی نوعیت بدل چکی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جناب سیکریٹری جنرل خیبر پختونخواہ یا بلوچستان جانے کے بجائے، پناہ گزینوں سے پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد میں ہی ملے۔ خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں افغان پناہ گزینوں کی 80 فیصد بالترتیب 60 اور 20 فیصد قیام پذیر ہیں۔

یہ بات سمجھا جاسکتا ہے کہ اعلیٰ سطحی سربراہان جیسے کہ سیکریٹری جنرل کے دورے کو سیکورٹی خدشات کے تحت پہلے سے محفوظ علاقوں تک محدود رکھا جائے، لیکن جناب گتیریس واضح طور پر خطے کے صورتحال سے اندھیرے میں رکھے ہوئے محسوس ہوئے، جب انہوں نے پاکستان کی ستائش کرتے ہوئے یہ کہا کہ پاکستان دہشتگردوں کی جنت سے بدل کر سیاحوں کی جنت بن رہی ہے، جبکہ عین انکے دورے کے دوران ہی بلوچستان میں ایک خودکش حملے میں پندرہ معصوم شہری جانبحق اور تیئس زخمی ہوگئے۔ وہی بلوچستان جہاں بیس فیصد افغان پناہ گزین قیام پذیر ہیں، لیکن اس دھماکے کی مذمت تک سیکریٹری جنرل کے دفتر سے نہیں آئی۔

اقوام متحدہ کے اعلیٰ حکام سے یہ توقع رکھی جاتی ہے کہ وہ کسی بھی حکومت کے آمرانہ پالیسیوں پر تنقیدی بیانیہ اپنائیں گے، کشمیر کے حالیہ مسئلے پر سیکریٹری جنرل گتیریس کے موقف کی کافی ستائش کی گئی تھی۔ تاہم، حالیہ دورہ پاکستان پر لوگ جناب گتیریس سے اس سے زیادہ توقع رکھ رہے تھے، لوگ امید رکھ رہے تھے کہ انکا دورہ اردگان کے دورے سے مختلف ہوگا۔ لوگ اقوم متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے دفتر کو ایک غیر جانبدار حیثیت سے دیکھنا چاہتے ہیں بجائے اس ملک کے اتحادی کے طور پر جہاں اجتماعی قبریں برآمد ہوتی ہیں۔

اپنے دورے کے دوران سیکریٹری جنرل گتیریس نے کشمیر کے بابت تشویش کا اظہار کیا، پاکستان کے ترقی کو دہشتگردی سے سیاحت کی طرف گردانا، اور پنجاب میں سکھ یاتریوں کیلئے راہداری کھولنے پر ستائش کی۔

یہ دورہ مزید متوازی اور انصاف پر مبنی ہوتا اگر جناب گتیریس بلوچستان سے ہزاروں لاپتہ افراد کے بابت تحقیقات کا حکم دیتا، تاکہ سچائی دنیا کے سامنے آتی کیونکہ پاکستان ہمیشہ ملوث ہونے سے انکار کرتا رہا ہے۔ یہ دورہ مزید شفاف ثابت ہوتا اگر جناب سیکریٹری جنرل پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق، جبری شادیوں، جبری تبدیلی مذہب، توہین رسالت کے قوانین پر لب کشائی کرتے۔ جناب انتونیو گتیریس کا کشمیر پر تشویش تب انصاف پر مبنی ہوتا، جب وہ بلوچستان میں جاری فوج کشی، سندھی سیاسی کارکنوں کے جبری گمشدگیوں اور پشتون تحفظ مومنٹ پر جاری کریک ڈاون پر بھی اسی طرح کے تشویش کا اظہار کرتے۔