کرونا ہماری دہلیز پر – ٹی بی پی اداریہ

106

کرونا ہماری دہلیز پر
ٹی بی پی اداریہ

چین کے شہر ووہان میں پہلی بار سامنے آنے والی بیماری، جو وائرس کووڈ-19 وائرسوں کے خاندان کرونا سے تعلق رکھتی ہے کی وجہ سے شروع ہوئی، اب آدھی دنیا تک پھیل چکی ہے۔ اس کی وجہ سے ابتک 2700 افراد ہلاک اور محض چین میں 80 ہزار افراد متاثر ہوچکے ہیں۔

اس وقت وائرس کا پھیلاؤ قابو سے باہر نظر آرہا ہے، اب تک تیس ممالک میں یہ وائرس داخل ہوچکی ہے۔ حالیہ خبروں کے مطابق مشرق وسطیٰ کے متاثرہ ممالک میں، ایران کرونا وائرس سے سب سے بری طرح متاثر ہوچکا ہے، جہاں ابتک چوبیس ہلاکتیں ہوچکی ہیں اور ایرانی نائب صدر معصومہ ابتیکار و نائب وزیر صحت عراج ہریچی سمیت سو سے زائد افراد اس وائرس سے متاثر ہوچکے ہیں۔

ایران کے حالات دیکھنے کے بعد بلوچستان میں یہ خوف پایا جاتا ہے کہ یہ وائرس بلوچستان و ایران کے 954 کلومیٹر طویل سرحد کی وجہ سے کسی بھی وقت بلوچستان میں داخل ہوسکتی ہے۔ اسی مد میں احتیاطاً حکومت بلوچستان نے ایران آمدورفت کیلئے ٹرانسپورٹ معطل کردی ہے اور بلوچستان کے پانچ اضلاع سے ایران میں داخلے کے سرحدی مقامات گوادر، تربت، پنجگور، واشک اور چاغی کے مقام پر بند کردی ہیں۔

تاہم یہ خدشات موجود ہیں کہ اگر یہ وائرس بلوچستان میں داخل ہوجاتی ہے، پھر ایک انتہائی پسماندہ خطہ ہونے کی وجہ سے بلوچستان کسی بھی طور پر ایسے صورتحال کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ایک رپورٹ کے مطابق بلوچستان کے ساٹھ فیصد بنیادی صحت مراکز (بی ایچ یوز) کو بجلی کی سہولت تک میسر نہیں ہے۔ چالیس فیصد پانی کے سہولت سے محروم ہیں اور نوے فیصد میں لیٹرین تک کی بنیادی سہولت میسر نہیں ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق بلوچستان کے ایک کروڑ بیس لاکھ کی آبادی کیلئے تمام ہسپتالوں کو ملا کر محض 7747 بستر میسر ہیں۔

اعدادو شمار سے یہ واضح ہے کہ بلوچستان کسی بھی ایسے ہنگامی صورتحال کا سامنا کرنے کی نا سکت رکھتا ہے اور نا مقابلہ کرسکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس وقت صرف یہ کیا جاسکتا ہے کہ عوام میں زیادہ سے زیادہ اس بیماری کی بارے میں آگاہی پھیلائی جائے تاکہ جھوٹی خبریں اور افواہیں نہیں پھیل سکیں۔ کیونکہ افواہوں سے عوام میں خوف و ہراس پھیل جاتا ہے، جو از خود ایک پیچیدہ صورتحال کو جنم دیتا ہے، لوگ خوف سے خوراک و اجناس ذخیرہ کرکے محصور ہوجاتے ہیں، جس سے اجناس کی قلت پیدا ہوجاتی ہے۔

ماہرین کے مطابق، کرونا وائرس کے پھیلنے کی صورت میں وہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہیئں جو دراصل ہمارے عمومی زندگی کا حصہ بھی ہیں، تواتر کے ساتھ ہاتھوں کو اچھے سے صابن سے دھو لیں، لوگوں سے غیر ضروری میل جول کم کریں اور کھانے کو اچھے سے پکالیں۔ اگر آپکے علاقے میں وائرس کی تصدیق ہوجاتی ہے تو پھر ماسک پہننا چاہیئے، خاص طور پر این95 ماسک۔

آخری اطلاعات تک پاکستان میں ابتک دو افراد کی کرونا وائرس سے متاثر ہونے کی تصدیق ہوچکی ہے۔ دونوں افراد حال ہی میں ایران سے سفر کرکے کراچی پہنچے تھے۔ دونوں کو قرنطینہ میں رکھا جاچکا ہے۔

حکومت بلوچستان کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے ایک ٹویٹ میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ابتک بلوچستان سے کوئی بھی کیس سامنے نہیں آیا ہے۔ تاہم احتیاطاً بلوچستان کے تمام اسکولوں اور کالجوں کو 15 مارچ تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔