پشتون قوم کی نسل کشی جاری ہے – محمود خان اچکزئی

85

پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ تمام پشتون افغان ملت سے درخواست گزار ہوں کہ آپ کے بچوں کی مسلسل نسل کشی جاری ہے اس حساس وقت اور حالات کا ادراک کرتے ہوئے متحد و منظم ہوکر آگے آئیں، اللہ پاک نے بھی زبانوں کو اہمیت دی ہے اور اس کا خیال رکھا ہے چاروں مذہبی الہامی کتابیں اُن پیغمبروں کے مادری زبانوں میں ہی نازل ہوئی تھیں۔ ان خیالا ت کا اظہار انہوں نے میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ کے سبزہ زار پر پارٹی کے زیر اہتمام مادری زبانوں کے عالمی دن کے موقع پر منعقدہ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

جلسے سے افغان قونصلیٹ کوئٹہ کے دوئم سیکرٹری محب اللہ امر خیل، پارٹی کے مرکزی و صوبائی سیکرٹری عبدالرحیم زیارتوال، جماعت اسلامی کے رہنماء عبدالمتین اخونزادہ، حبیب اللہ ناصر ایڈووکیٹ، ممتاز آرٹسٹ امان اللہ خان ناصر، پی ٹی ایم کے صوبائی کوارڈینٹر نصیب اللہ ناصر، ممتاز ادیب فضل الہیٰ پتمن، اے وی ٹی خیبر کے اینکر جابر شاہ نے بھی خطاب کیا اور گل مینہ نادیہ نے پشتو مادری زبان پر اشعار پیش کیئے۔

محمود خان اچکزئی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پشتونخوامیپ نے اقوم متحدہ کے ادارے یونیسکو کی جانب سے اعلان کردہ مادری زبانوں کے عالمی دن کو منا کر انہیں جو حیثیت دی ہے اور اس میں ہر مسلک کے افراد کی شرکت قابل تحسین ہیں اور ہم آج یہ دن ایسے حالات میں منا رہے ہیں کہ ایک جانب ہمیں اپنی زبان کی ترقی اور فروغ کی فکر لاحق ہے جبکہ دوسری جانب پشتون قوم کی نسل کشی جاری ہے اور اپنے پارٹی اور ان کے کارکنوں کی طرف سے پشتونخوا وطن کے سیاسی لیڈر شپ، کارکن، سردار، خان، عالم، مُلا، تاجر، مزدور، کسان اور طالب علم سمیت سب سے کہنا چاہتا ہوں کہ آپ کے بچوں کی قتل عام شروع ہے آج کے دن بھی کم وبیش لازماً 100 جوان قتل ہوچکے ہونگے اور افغانستان پر مسلط جنگ جو ہم نے شروع نہیں کی بلکہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں سمیت تمام دنیا کی اکثریت نے اس بات کی بنیاد پر اس جنگ کی شروعات کی تھیں کہ روس نے ایک چھوٹے ملک کی آزادی کو سلب کیا ہے لہٰذا امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے کسی غیر تحریر شدہ معاہدے کے تحت اس جنگ کی شروعات کرتے ہوئے افغانستان میں ہر قسم کے اسلحے اور دیگر مالی وسائل کی ترسیل شروع کی اور اس جنگ میں تمام دنیا کے ہر برہ اعظم، ہر رنگ، ہر نسل، ہر دین اور ہر مسلک کے لوگوں نے حصہ لیا ماسوائے قطب شمالی کے سکیموں کے۔ چین جاپان سمیت دنیا کے ان اکثریت کی بنیاد پر جمع ہونیوالوں کے ساتھ 57 اسلامی ممالک بھی شامل تھے اور اس جنگ کو جہاد کا نام دیا گیا جس میں ہر قسم کے اسلحہ سمیت سٹینگر میزائل تک استعمال کیئے گئے لیکن جب روس کو واپس جانا پڑا تو تاریخی افغانستان کو درپدری، بدترین غربت اور زخمی حالت میں ایک طرف چھوڑ دیا گیا اور دوسری طرف اس پر مزید غیر اعلانیہ جنگ مسلط کی گئی۔ اور آج تک کسی نے بھی اس جنگ کے خاتمے کیلئے سنجیدہ اقدامات نہیں اٹھائیں اور اسلامی جہاد کے نام پر افغانستان کو درپدر کرنے والے اسلامی ممالک نے بھی ذمہ داری نہیں نبھائی۔ جبکہ قرآن کا حکم ہے کہ”جب دو فریق آپس میں لڑپڑے تو تم لوگ اس کے درمیان صلح کرو اور اگر کوئی فریق زبردستی کرتے ہوئے نہ مانے تو ان سے زبردستی کے ساتھ پیش آؤ اور پھر دونوں کے درمیان ایمانداری کے ساتھ انصاف کرو“۔ لیکن 57 اسلامی ممالک اس جنگ میں فتوی بازی میں ایک دوسرے سے ہمیشہ آگے رہے ہیں لیکن افغانستان میں امن کے قیام کیلئے کوئی بھی سنجیدہ اقدام نہیں اٹھاتے۔

انہوں نے کہا کہ اپنی قوم اور ملت کی مظلومیت کا احساس دلانے اور انہیں اس مظلومیت سے نجات دلانا ہم سب کا فرض ہے۔جبکہ جاری قتل عام کے انسانی اسلامی امن کی فرض کو نبھانے پر لوگ ناراض ہوجاتے ہیں اور اشرف غننی، گلدبدین حکمتیار، حامد کرزئی اور دیگر تمام افغان رہنماؤں سمیت سب کو یک زبان ہوکر تمام دنیا پر اپنی امن سے متعلق موقف واضح کرنی چاہیے اور میں تمام پشتون ملت سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ کے بچوں کی نسل کشی جاری ہے اس سنگین صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لیں۔

انہوں نے کہا کہ پشتونخوامیپ کے ہر عہدیدار اور کارکن نے اس جنگ کے خاتمے اور اپنے غیور ملت کی دفاع میں کسی قربانی سے دریغ نہیں کرنا ہوگا اور اس قومی فریضے کی ادائیگی میں کسی بھی سستی اور کاہلی کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ پشتونخوامیپ کا کارکن نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ اللہ پاک نے بھی زبانوں کو اہمیت دی ہے اور قران کریم میں کہتا ہے کہ بابا آدمؑ اور بی بی ہوا کی اولاد کا ایک زبان نہیں اور اس میں ہر رنگ کے لوگ شامل ہیں اور اللہ زبانوں کو اپنی خدائی کی ایک پہچان کے طور پر بیان کرتی ہے اور چاروں مذہبی کتابیں ان پیغمبروں کے مادری زبانوں میں ہی نازل ہوئی ہیں۔ لہٰذا جب اللہ تعالیٰ نے بھی زبانوں کا خیال رکھا ہے تو پاکستان کی ریاست اور حکومت نے لازماً پشتو زبان کو تعلیمی دفتری علمی عدالتی اور سرکاری زبان کی حیثیت سے تسلیم کرنا ہوگا اور دوسرے اقوام کے مادری زبانوں کو بھی قومی زبان کی حیثیت دینی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے تمام عوام مرد و زن کو اپنی پشتو زبان پر مکمل عبور حاصل ہیں لیکن ان پڑھ ہونے کے باعث وہ انہیں لکھ اور پڑھ نہیں سکتے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ کی فرنگی استعمار سے آزادی لینے سے قبل بھی ہماری ملت کی اپنی ریاست تھی اور اپنے وطن کے مالک تھے۔ لیکن بالخصوص انگریزی استعمار کی جانب سے افغانستان پر تین بڑی جنگوں کے نتیجے میں جنوبی پشتونخوا کا حصہ بڑے ہندوستان کا حصہ بنا اور 1887ء میں ہمارا پہلا چیف کمشنر کا صوبہ برٹش بلوچستان کے نام سے قائم ہوا جس کے متعلق انگریزی مورخ اولف کیرو ”دی پٹھان“ میں لکھتے ہیں کہ تاریخ میں پہلی دفعہ برٹش حکمرانوں نے اپنے کسی مقبوضے علاقے پر غلط نام رکھا یعنی جنوبی پشتونخوا کے مقبوضہ علاقے پر برٹش افغانستان کی بجائے برٹش بلوچستان کا نام رکھا۔

انہوں نے کہا کہ اس دوران بھی پشتو زبان کی ترقی و ترویج کے لئے جدوجہد جاری رہی۔ 1931ء میں آل انڈیا بلوچ اینڈ بلوچستان کانفرنس بمقام جیکب آباد میں عبدالرحیم احساس نے پشتو زبان کو تعلیمی وسرکاری زبان قرار دینے کی قرار داد پیش کی جس کا تعلق قلعہ عبداللہ سے تھا۔ اور اس کے بعد 1938 میں خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی نے صوبے کا پہلا پرنٹنگ پریس لگوا کر پہلا اخبار استقلال جاری کیا جس کا آدھا حصہ پشتو زبان میں تحریر ہوتا تھا اور اس کے بعد سائیں کمال خان اور ڈاکٹر خدائیداد صاحب نے پشتو رسالے کی اشاعت شروع کی۔

انہو ں نے کہا کہ ستمبر کے مہینے میں ثقافت کے دن کو پہلے سے جوش وخروش کے ساتھ منانے کی تیاری ابھی سے شروع ہونی چاہیے۔

ممتاز آرٹسٹ امان اللہ ناصر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ پشتون افغان قبیلوں کے مختلف اتنڑ کو محفوظ کرنے کی ابھی سے کوشش کرے اور ہم تمام پشتو افغان ملت سے کہتے ہیں کہ ہم اور آپ 5 ہزار سالہ تاریخ کے ساتھ اپنے وطن کے مالک ہیں جو ہمیں کسی نے خیرات اور زکوۃ میں نہیں دیا ہے ہم نے پشتو زبان کی ترقی و ترویج کے ساتھ ساتھ اپنے وطن اور اس کے قومی واک واختیار کیلئے جدوجہد میں مزید تیزی پیدا کرنی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ اس ملک کے استحکام اور ترقی کی واحد راہ ملکی آئین پر عملدرآمد ہے اور اس سے ہر کسی نے ماننا ہوگا اور نام نہاد غداری کے فتووں کے ذریعے ملک چلا نہیں کرتے۔ آئین میں آرٹیکل 6 واضح ہے کہ جو فرد اس آئین کو ماننے سے انکار کرے یا اس کے برخلاف عمل کرے اور ساتھ ہی کوئی دوسرا اس کی حمایت کرے تو دونوں قابل سزا اور غدار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شفاف انتخابات اور ووٹ عوام کا آئینی حق ہے پارلیمنٹ ہی طاقت کا سرچشمہ ہوگی اور خارجہ و داخلہ پالیسیاں پارلیمنٹ کے تابع ہونگی۔

انہوں نے کہا کہ یہ ہم ہے کہ چار اضلاع کے فوج کو پاکستان کا قومی فوج مان رہے ہیں جب کہ اس میں بلوچ سندھی سرائیکی کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے اور پشتونوں کو صرف ملیشیاء (ایف سی) میں بھرتی کرکے اسے ہر جگہ استعمال کرتے رہے ہیں جبکہ ادارے کے طور پر فیڈریشن کے اکائیوں کا اعلیٰ عہدوں پر حق تسلیم کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اپنے ہی بچوں کو رشوت کی راہ پر ڈالنے اور بندوق سے ڈرانے کے ذریعے ممالک نہیں چلا کرتے بلکہ اقوام وعوام میں وہ لوگ قابل قدر ہوتے ہیں جو سچ بولتے ہیں ہماری ملت نے بے حساب شہدا، زخمیوں، سالہا سال جیلوں سمیت ہر قسم کی قربانیاں دی ہیں لیکن اس کے باوجود انہیں قومی واک و اختیار اور ترقی و خوشحالی کا کوئی ذریعہ انہیں حاصل نہیں اور ہم نے بھی ان سخت ترین ظلم و جبر کے باوجود کبھی بھی مردہ آباد کا لفظ تک نہیں کہا ہے لیکن اس کے باوجود پشتون ملت کے ساتھ تیسرے درجے کے شہری کا سلوک رواں رکھا جارہا ہے جو مزید ناقابل برداشت اور قابل گرفت ہے۔ جیسا کہ پاکستان ایک فیڈریشن ہے اور فیڈریشن کے قومی زبانوں کو سرکاری، دفتری، عدالتی اور کاروباری زبانیں تسلیم اور رائج کرنا فیڈریشن کی ذمہ داری ہے۔

دریں اثناء پشتونخواملی عوامی پارٹی کی جانب سے ملک اور پشتونخوا وطن کے مختلف اضلاع اور علاقوں میں 21 فروری کے مادری زبانوں کے عالمی دن کے طور پر اجتماعات، سیمینار منعقد کیئے گئے ہیں جس میں کوئٹہ، پشاور، سوات، کراچی، چمن، مردان، پشین، ہرنائی، کوہاٹ، سبی، لورالائی، مسلم باغ، ڈیرہ اسماعیل خان، بنوں، ژوب، خانوزئی، وزیرستان، درازندہ شامل ہیں۔