مطالبات پورے نہ ہونے پر احتجاجی تحریک کا آغاز کرینگے – وائی ڈی اے

55

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کے صدر ڈاکٹر یاسر خان اچکزئی، ترجمان ڈاکٹررحیم خان بابر، نائب صدر ڈاکٹر یاسر بلوچ نے کابینہ کے دیگر ارکان کے ہمراہ سول ہسپتال میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز کے پرامن احتجاجی طلباء وطالبات کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے گرفتار طلباء کی فوری رہائی یقینی بنائی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا بنیادی حق اور انہیں محروم کرنا جمہوریت کی نفی ہے، بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز کے طلباء و طالبات پر حالیہ بڑھائے جانے والے فیسیں صوبے کے غریب طلباء تو درکنار بلکہ درمیانے طبقے کی دسترس سے بھی باہر ہیں بلکہ ماہانہ وظائف کی کٹوتیاں اور ہاسٹل کی خستہ حالی صوبے کے محروم طلباء وطالبات کو مزید محرومیوں کی طرف دھکیل رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی میں حال ہی میں متعارف کرایاجانیوالا سلف فنانس کا نظام جس میں طلباء و طالبات بھاری بھر کم فیسیں ادا کرنے کے بعد یورنیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کے اہل ہونگے، صوبے کی بدحالی اور غربت کے پیش نظر صوبے کے عوام کیلئے کسی بھی صورت ممکن نہیں ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ موجودہ سلف فنانس پر رکھی گئی سیٹیں صوبے کے طلباء وطالبات کیلئے میرٹ پر مفت قرار دی جائے تاکہ صوبے کے پسماندہ عوام کو مفت تعلیم کے مواقع میسر آسکیں۔

انہوں نے کہا کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کی جانب سے شعبہ صحت اور ہسپتالوں کی مانیٹرنگ بھی صوبے کے بڑے ہسپتالوں کی حالت زار میں تبدیلی نہ لاسکی ہے، ٹراما سینٹر ایک بلڈنگ کے سوا کچھ نہیں ہے۔ ینگ ڈاکٹرز کی جانب سے اس کی بہتری کیلئے دو ماہ قبل تجاویز وزیراعلیٰ بلوچستان کو بھجوادیئے گئے ہیں لیکن اس پر اب تک عملدرآمد ممکن نہیں ہوسکا ہے، موجودہ ٹراما سینٹر کسی بھی چھوٹے سے چھوٹے ناگہانی واقعہ سے نمٹنے کی سکت نہیں رکھتا۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کی روشنی میں پچھلے ایک سال کے عرصے کیلئے ابتدائی طور پر کنٹریکٹ کی 5 سو آسامیوں کو صوبے کے بے روزگار ڈاکٹروں کیلئے مشتہر کرنے، بعد میں انہی ڈاکٹروں کو سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق مستقل ہون اتھا مگر موجودہ حکومت کی جانب سے ایک سال سے زائد کا عرصہ ہونے کو ہے اور تاحال ڈاکٹروں کی عدم مستقلی انتہائی قابل مذمت اور سپریم کورٹ کے فیصلے کے کھلے عام خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ 500 ڈاکٹروں کی فی الفور مستقلی کے احکامات جاری کرتے ہوئے ڈاکٹروں کا سروس اسٹرکچر وضح کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ صوبے کے ٹریژری کیئر ہسپتالوں میں ہاؤس آفیسرز اور پوسٹ گریجویٹ ریذیڈنٹس کے ماہانہ وظائف پنجاب اور خیبرپشتونخوا کے مساوی کرنے کے ساتھ ساتھ ان کیلئے ایک جامعہ انڈیکشن پالیسی تشکیل دی جائے تاکہ ہاؤس آفیسرز اور پوسٹ گریجویٹ ریذیڈنٹس کو درپیش مشکلات کا ازالہ ممکن ہوسکے۔

انہوں نے کہا کہ سی ایس پی آفیسروں کی پوسٹ پر غیر قانونی راہ اختیار کرتے ہوئے تعینات ہونے والے ڈی جی ہیلتھ سروسز کے ڈائریکٹر فنانس کی جانب سے سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ڈاکٹروں کی تنخواہوں میں کٹوتی کا نوٹس لیتے ہوئے ان کی غیر قانونی تعیناتی کے خلاف کمیٹی تشکیل دے کر انہیں فی الفور اپنے عہدے سے برطرف کیا جائے بصورت دیگر ان کے خلاف غیرقانونی تعیناتی کے شواہد آئندہ کے پریس کانفرنس میں میڈیا کے سامنے پیش کرینگے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر ہمارے مطالبات کے حل کیلئے عملی اقدامات کئے جائیں بصورت دیگر ینگ ڈاکٹرز کی ایگزیکٹو باڈی کا اجلاس بلا کر آئندہ کا لائحہ عمل طے کرنے کے ساتھ صوبے کے تمام ہیلتھ یونٹس میں باقاعدہ احتجاجی تحریک کاآغاز کرینگے۔