تفتان میں محصور 350 ایرانیوں کو جانے کی اجازت

63

پاک ایران سرحدی علاقے تفتان میں پھنسے 350 سے زائد ایرانی ٹرانسپوٹرز اور ڈرائیوروں کو ایران منتقل کردیا گیا۔ دوسری جانب کورونا وائرس سے بچاؤ کیلئے تفتان کے قریب خیمہ اسپتال قائم کرنے کا کام شروع کردیا گیا ہے۔

ایران میں کرونا وائرس کے کیسز سامنے آنے کے بعد تفتان میں پاکستام ایران سرحد تیسرے روز بھی بند رہی۔ سرحد کی بندش سے 350 سے زائد ایرانی ٹرانسپوٹرز اور ڈرائیورز گذشتہ تین روز سے تفتان میں پھنسے ہوئے تھے، جنہیں آج واپس جانے کی اجازت دے دی گئی۔ اس کے لیے تفتان بارڈر کو کچھ دیر کیلئے کھولا گیا اور ایرانی ٹرانسپوٹرز مال گاڑیوں کے ہمراہ ایران میں داخل ہوگئے۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر چاغی بادل خان دشتی کے مطابق سرحد صرف ایرانی ٹرانسپوٹرز اور ڈرائیورز کو واپس ایران بیجھنے کیلئے جزوی طور پر کھولی گئی تھی، اب واپس بند کردی گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ایران سے واپسی پر پاکستان ہاؤس میں رکھے گئے 270 پاکستانیوں کو مخصوص مدت مکمل ہونے کے بعد اپنے علاقوں کو جانے کی اجازت دے دی جائے گی۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ ایران سے واپس آنے والے پاکستانیوں کیلئے تفتان شہر سے باہر سیندک کراس کے مقام پر خیمہ اسپتال قائم کرنے کا کام شروع کردیا گیا ہے۔ ڈاکٹرز اور دیگر طبی عملے کی ٹیمیں بھی جلد خیمہ اسپتال میں تعینات کردی جائیں گی۔

دریں اثنا ارکان اسمبلی اور حکومتی نمائندوں نے سیکرٹری صحت، ڈی جی، پی ڈی ایم اے اور دیگر حکام کے ہمراہ تفتان کا دورہ کیا اورایمیگریشن آفس سمیت ایرانی سرحد پر کرونا وائرس سے بچاو کے لئے گئے انتظامات کا جائزہ لیا۔ سیکرٹری صحت، ڈی جی پی ڈی ایم اے، ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ اور اسسٹنٹ کمشنر تفتان نے حکومتی ٹیم کو انتظامات سے متعلق  بریفننگ دی۔