کردار شہید جنرل اسلم اور بلوچ قوم – سنگت بولانی ورنا

98

کردار شہید جنرل اسلم اور بلوچ قوم

سنگت بولانی ورنا

دی بلوچستان پوسٹ

بلوچستان میں مستعمل آزادی کی تحریک میں متعدد عظیم ہستیوں نے وقیع کردار ادا کیا ہے کبھی تحریک کو مصائب کا سامنا ہوا ہے تو کبھی آبداری اور مضبوطی کا جس سے بلوچ قوم میں کبھی جوش تو کبھی ابلاس پیدا ہوگئی ہے تحریک آزادی میں اتار چڑھاؤ ہوتی رہی ہیں جاری حالیہ تحریک آزادی میں شہید بالاچ خان مری نے جو کردار ادا کیا وہ قابل قدر تذکرہ ہے بالاچ مری کی شہادت کے بعد ہمیں تحریک میں ناتوانی دیکھنے کو ملی جو ہمارے یک دگر عدم موافقت کی سبب روبرو ہوئے۔

تاہم شہید استاد اسلم نے تحریک آزادی کو اپنے محنت و مشقت سے ایک بار پھر توانائی بخش دی جس سے بلوچ قوم میں پھیلی قنوط ختم ہوگئی فدائین مجید برگیڈ اور براس کی جو اتحاد پیدا ہوا وہ شہید استاد اسلم کی محنت اور قربانیوں کی بطفیل آشکار ہوا۔

اب بلوچ قوم کو چاہیے کہ استاد اسلم کی کاروان کو اور بھی محکم کریں تاکہ بلوچ قوم میں پھر سے وہ مایوسیاں جنم نہ لیں جو ماضی میں پیدا ہوئے تھے استاد اسلم نے جس طرح اپنے محنت اور قربانیوں سے بلوچ قوم کو ایک مستحکم آزادی کی جنگ دی اب اسکو بلوچ قوم نے فی الحیات رکھنا ہے اور آگے لےجانا ہے اگر بلوچ قوم استاد کی کاروان کو زندہ اور محکم رکھنا چاہتا ہے تو انھیں اپنے آپ میں اسلمی جذبہ پیدا کرنے ہونگے یہی بلوچ قوم کی آزادی کا اہم اساس ہے جس سے پورے بلوچ قوم کو شناسا ہونا چائیے۔

دشمن عناصر شروع دن سے پروپگنڈے کرتے آرہے ہیں کبھی آزادی کی جنگ کو دہشتگردی بتایا تو کبھی کسی اور ملک کی پراکسی تاہم دشمن کے یہ ہمہ پروپگنڈے ناکام ہوتے گئے استاد اسلم نے جس طرح تحریک آزادی کو محکم کیا دشمن کی پروپگنڈوں کو بھی ناکام بنادیا اور ہر موڑ پر دشمن کو کاری ضرب لگائے۔

اگر بلوچ قوم کو اس بات کا ادراک ہے تو بلوچ قوم ایک عظیم استاد سے عاری ہوگئے جس نے پوری بلوچ قوم کو کےلئے غلامی سے نجات اور آزادی جیسی انمول نعمت کی خاطر بےشمار قربانیاں دی یہاں تک کے اپنے جوان سال بیٹے کو بھی آزاد بلوچستان کی بیرک میں لپیٹ کر قربان کردیا بلوچ قوم نے جس طرح استاد اسلم کو قربانی دیتے دیکھا اگر اسی طرح بلوچ قوم بھی قربانیاں دیں تو آزادی ہمیں جو ہم نے سوچا ہے اس سے بسرعت نصیب ہوگی۔

فدائین حملوں کا سلسلہ اور براس جیسی بلوچ قومی فوج کے حملوں نے جس طرح دشمن میں نقاہت پیدا کی ہیں، وہ بلوچ قوم کیلئے خوشی کی بات ہے دشمن اسی شست میں ہے کہ کس طرح بلوچ تحریک آزادی کو نقصان پہنچائے اور ختم کرے ویسے تو استاد اسلم کی ناگہاں شہادت سے تحریک کو غیر محدود نقصان پہنچتا لیکن تنظیمی ارکان نے جس طرح کمان سنبھالا وہ قابل تعریف ہے اب اگر بلوچ قوم دشمن کی سازشوں کو معدوم کرنا چاہتا ہے تو جنگ آزادی میں سب کو اپنا حصہ ڈال کر اسے اور بھی قوت بخشنا ہوگا استاد اسلم نے جو راستہ بلوچ قوم کو دکھایا وہ بلوچ قوم کی آزادی کا وساطت ہے۔

پرالم بات یہ ہے کہ بلوچ قوم و تحریک کو باہمی اختلافات نے کمزور بنادیا ہے اگر اتنے اختلافات کے باوجود بلوچ جنگ آزادی کو آگے لے جارہا ہے اگر یہ اختلافات موافقت میں بدل جائے تو یہ بلوچ قوم کی سب سے بڑی جیت ہوگی آپسی اختلافات کو مٹانے کے لئےاتحاد و اتفاق اور ایک مترادف سوچ کی ضرورت ہے اگر بلوچ قوم کا سوچ ایک ہوجائے تو ان اختلافات کا خود بہ خود خاتمہ ہوجائے گا۔

جس طرح درمیان میں شہید استاد اسلم کے ساتھ تنظیمی ارکان نے اختلاف کیا وہ بلوچ قوم اور تحریک کےلئے سب سے بڑے نقصان تھے لیکن اتنے مصیبتوں کے باوصف بھی استاد اسلم نے ہار نہیں مانا بلکہ اور بھی بسالت کے ساتھ مصیبتوں کا سامنا کرتے ہوئے آگے بڑھا استاد کی مشن کو اگر پایہ تکمیل تک پہنچانا ہے تو سب سے اہم اتحاد یعنی براس کو اور . بھی مستحکم کرنا ہوگا فدائین حملوں کو تیزی سے جاری رکھنا ہوگا یہی بلوچوں کی آزادی کا ڈگر ہے مجھے توقع ہے بلوچ ایک دن اپنے منزل کو پہنچ کر ہی دم لینگے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔