لوگوں کو لاپتہ کرنے والے مجرموں کو کٹہرے میں لایا جائے – عبداللہ عباس

154

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا مسئلہ گذشتہ دو دہائی سے جاری ہے جبکہ اس میں شہید غلام بلوچ و دوستوں کی شہادت کے بعد شدت دیکھنے میں آیا اور جبری گمشدگی کے شکار کئی افراد کی مسخ شدہ لاشیں بلوچستان کے مختلف علاقوں سے برآمد ہوئیں ۔

گذشتہ دو روز کے دوران بلوچستان کے مختلف علاقوں سے لاپتہ پندرہ افراد بازیاب ہوچکے ہیں ان لاپتہ افراد کی بازیابی کا سہرا بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) اپنے سر لے رہی ہے جن کے رہنماوں کے مطابق گذشتہ دنوں آرمی ایکٹ کی حمایت بلوچ لاپتہ افراد کی بازیابی اور گوادر کے حوالے پالیسی سازی سے مشروط کی گئی تھی تاہم بی این پی کو بلوچ سیاسی و سماجی حلقوں کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

بلوچ ہیومن رائٹس آرگنائزیشن (بی ایچ آر او) کے جنرل سیکریٹری عبداللہ عباس بلوچ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویئٹر پر اس حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یقیناً یہ ان خاندانوں کے لئے راحت کی بات ہے جن کے پیاروں کو رہا کیا گیا ہے لیکن سوال اب بھی یہی ہی ہے کہ انہیں کیوں اغواء کیا گیا تھا اور بغیر کسی ٹرائل کے ٹارچر سیلوں میں رکھا گیا، جس سے نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی قوانین اور کنونشنز کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔

عبداللہ عباس نے سوال اٹھایا ہے کہ ان لوگوں کا کیا ہوگا جن کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا؟ کیا مجرمان انسانیت کے خلاف جرائم کے مرتکب ہونے کے باوجود مستشنیٰ رہیں گے؟

خیال رہے بلوچ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے آواز اٹھانے والی تنظیموں کے مطابق ان افراد کی تعداد ہزاروں میں ہے جبکہ ان کا کہنا ہے کہ جہاں چند افراد بازیاب ہورہے ہیں اسی تسلسل کیساتھ لوگوں لاپتہ کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

بی ایچ آر او رہنماء کا کہنا ہے کہ جن سیاسی جماعتوں نے آرمی ایکٹ کے حق میں ووٹ دیکر جنرل باجوہ کی مدت میں توسیع کی راہ ہموار کی ہے، ان کی اطلاع کے لیئے عرض ہے کہ اسی جنرل باجوہ کے دور میں ہی 3505 افراد جبری طور پر لاپتہ کیے گئے، 1216 افراد ماورائے عدالت قتل ہوئے جو کہ صرف بلوچستان کے چند اضلاع کی اطلاعات ہیں جن تک ہماری رسائی ہے۔ بلوچستان کے اکثریت علاقوں میں رسائی ممکن نہیں ہے۔

عبداللہ عباس کا مزید کہنا ہے کہ ہزاروں لاپتہ افراد میں سے صرف چند کی رہائی جنرل باجوہ کے حق میں ووٹ دینے کا متوازی نہیں ہے، وہ سیاسی جماعت جو لاپتہ افراد کی رہائی کا سہرا اپنے سر لیتی ہے، اس میں اتنی بھی ہمت ہونی چاہیئے کہ وہ ہر اس فرد کی ذمہ داری اٹھائے جو اسی دورانیے میں غائب ہوئے ہیں اور مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ بھی کرنا چاہیئے۔