شہید ماسٹر خدابخش ایک گمنام قوم دوست – میرین بلوچ

154

شہید ماسٹر خدابخش ایک گمنام قوم دوست

تحریر: میرین بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

آج میں شہید خدابخش کے بارے میں لکھ رہا ہوں، جن کا تعلق کولواہ گیشکور سے تھا اور وہ ایک ٹیچر تھے۔ وہ اپنے بہادری و دلیری کا اپنی آپ ایک مثال تھے۔ وہ اپنے اندر قوم دوستی کا جذبہ رکھتا تھا اور ایک مخلص انسان تھا۔ آپ کو اپنے قوم کا فکر تھا، ہر وقت اپنے علاقے کے لوگوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہوتے، اگر کسی کو کوئی مسئلہ پیش آجاتا وہ ان کے ساتھ کھڑا ہوتا تھا۔ جب بھی علاقے کے لوگوں کو مسئلہ پیش آتا تو شہید کے پاس آتے تھے تو ان کو کبھی بھی منع نہیں کرتا، شہید علاقے کے تمام مسئلوں کو اپنا مسئلہ سمجھتا تھا۰

جب 24ستمبر 2013 کے دن ضلع آواران میں ہولناک زلزلہ آیا 7.8 کی شدت سے، اس نے علاقے میں تباہی مچا دی۔ ایک ہزار کے لگ بھگ افراد جانبحق ہو گئے۔

اسی دوران بعدمعاش پاکستانی فوج نے مدد کو ایک بہانہ بنا کر آواران کے علاقے کولواہ کے مختلف علاقوں میں اپنا کیمپ بنایا۔ فوجی آپریشن اور گھروں کا لوٹ مار کیا اور علاقے کے لوگوں کو تنگ کرنا شروع کیا، کئی گھروں کو جلایا اور کئی لوگوں کو اٹھاکر لاپتہ کردیا۔ اسی دوران اس ظالم فوج کا کام یہی تھا کہ گھروں کو جلا کر اور لوگوں کو لا پتہ کرنا، لوگ علاقے سے ہجرت کرکے دوسرے شہروں تربت، لسبیلہ اور حب چوکی میں قیام پذیر رہے۰

لیکن دوسری طرف دشمن نے شہید کو تنگ کرنا شروع کیا، کئی دفعہ آپ کو کیمپ میں بلاکر دھمکیاں دیتے اور آپ کے گھر میں بھی آکر آپ کو تنگ کرتے اور فون کے ذریعے آئی ایس آئی کے کارندوں نے دھمکیاں دیں، ان سب مشکلات کے باوجود آپ ڈٹےرہے، کئی دفعہ لوگوں نے کہا کہ آپ یہاں نہیں رہیں، کسی دوسرے شہر میں جائیں، آپ کا جواب یہی تھا اکیلا میں کس طرح جاؤ میں اپنے عوام کو چھوڑ کر اکیلا نہیں جا سکتا ہوں۰

جب بھی فوج آپریشن کے لیئے آپ کے گاوں کو گھیرا کر لیتا، سب لوگ پہاڑوں اور جنگلوں کی جانب جاتے تھےاور سکون و آرام سے کسی کو بیٹھنے نہیں دیتے، ان سب فوجی آپریشنوں کی وجہ سے زیادہ تر لوگ تنگ آکر دوسروے شہروں کی طرف گئے۔ ان آپریشن کے باوجود شہیدکبھی بھی دوسرے شہر جانے کا ارادہ نہیں کرتے۔ شہید ہر وقت یہی کہتا تھا کہ یہ ظالم فوج تباہی مچادے گا یہ کسی کو معاف نہیں کریگا۔

2015 میں جب آرمی نے اپنا آپریشن تیزکردیا، لوگوں کو کیمپ میں بلاکر اُن کو تنگ کرتےاور دوسری طرف لوگوں کو لاپتہ کرنے کا سلسلہ تیز کردیا گیا، اس دوران فوسز نے چھ بندوں کو اٹھا کر لاپتہ کردیا، آپ نے اور شہید ثناء اللّٰہ نے فوج کے خلاف بغاوت کیا کہ فوج بلاوجہ ہمارے عوام کو تنگ کررہا ہے۔ ہم فوج کے خلاف ریلی نکالیں گے۔ آپ ہر دن آرمی کیمپ گئے کہ ہمارے بندوں کو رہا کرو، تو آرمی کے کرنل کاشف نے صاف انکار کردیا کہ آج کے بعد یہاں آنے سے گریز کریں۔ ان کو میں نہیں دوں گا لیکن اسکے باوجود آپ ڈٹے رہے اور دو دن کے بعد وہ دوبارہ کیمپ چلے گئے۔ 12 فروری 2015 کوآپ دونوں کو گرفتا کیا اور شہید ثناءاللہّ کی تین کے بعد لاش پھینکی گئی اور شہید کو مرکزی کیمپ سے خضدار منتقل کیا گیا۔ آپ پر بہت جسمانی تشدد کرکے آپ کے پاؤں اور ہاتھوں کو کرنٹ دے کر اور اور پیروں پر جابجا چاقو سے کٹ لگا کر، 3 مارچ 2015 کو آپ کی تشدد زدہ لاش خضدار سیول ہسپتال منتقل کیا گیا اورتیسرے دن آپ کی لاش آبائی علاقے کولواہ گیشکور لایا گیا۔ اسی دن پھر دشمن نے آپ کے سارے گھروں کو جلادیا، آپکے شہادت کے بعد پورا علاقہ خالی ہو گیا، سارے لوگ دوسرے شہروں میں چلے گئے، اپنا گھر اور قیمتی سامان چھوڑ کر، دوسرے علاقوں کا رخ کیا۔

آپ کو دشمن نے اتنا تنگ کیا، آپ پر ہر طرح کے طریقے آزمائے گئے، آپ کو یہ بھی آفر دیا گیا کہ ہمارے لیے کام کرو لیکن آپ نے صاف انکار کردیا، آپ کا بات یہی تھا کہ یہ فوج دشمن ہے، ایک دن تباہی مچا دےگا، آپ نے اپنے قریبی دوست کو بتایا تھا کہ آرمی والے مجھے تنگ کر رہے ہیں کہ ہمارے لیے کام کرو، آپ نے صاف انکار کیا تھا کہ اگر یہ میں کروں تو مجھے تاریخ اور میرا قوم معاف نہیں کریگا۔

آپ ان سب چیزوں کے باوجود ڈٹے رہے، آپ کا جواب یہی تھا کہ میں کسی بھی جگہ نہیں جاؤں گا، میں اکیلا نہیں جاسکتا کہ میں اپنے عوام کو چھوڑ کر بھاگ جاؤں، اس طرح کے کام مجھ سے نہیں ہوتے، آپ اپنے قوم اور لوگوں کے لئے قربان ہو گئے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔