بلوچستان برفباری: قلعہ عبداللہ میں آٹھویں روز بھی لوگوں کو مشکلات کا سامنا

64

قلعہ عبداللہ میں برفباری کے آٹھویں روز بعد بھی بہت سے علاقوں کے لوگ ہنوز محصور، آمد ورفت کے راستے بند، خوراک کی شدید قلت

تفصیلات کے مطابق آٹھ روز گزرنے کے باوجود بھی ضلع قلعہ عبداللہ میں آج بھی بہت سے علاقوں کے لوگ گھروں میں محصور ہے اور ان کے ہاں خوراک کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے۔ ان علاقوں میں توبہ اچکزئی، آرمبی کاکوزئی، خواجہ عمران، خڑگئی، سپینہ تیژہ شامل ہے۔

مذکورہ علاقوں کے ہزاروں کی تعداد میں لوگ برفباری کی وجہ سے مکمل طور پر گھروں میں محصور ہے اور ان کے پاس خوراک کے ذخائر ختم ہوگئے ہیں۔

آرمبی کاکوزئی کے قبائلی رہنماء حاجی کمین خان کاکوزئی نے بتایا کہ آرمبی اور دیگر علاقوں میں اب بھی راستے بند ہے اور درجنوں کمرے شدید برفباری کے باعث گر چکے ہیں، بہت سے مالی نقصانات ہوئے ہیں تاہم جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت جلد سے جلد لوگوں کی مدد کریں۔

دوسری طرف ضلعی انتظامیہ نے ڈپٹی کمشنر قلعہ عبداللہ میجر (ر) بشیر احمد کی قیادت میں مذکورہ محصور علاقوں کے راستے کھولنے کی کوشش کی مگر محدود وسائل اور جدید مشنری کی عدم دستیابی سے راستے مکمل طور پر نہیں کھول سکے۔

انتظامیہ کے مطابق پی ڈی ایم اے کی جانب سے امدادی سامان متاثرہ لوگوں میں تقسیم کرنے کیلئے ہیڈ کوارٹر پہنچا دیا گیا ہے، جس سے سروے کے بعد متاثرین میں تقسیم کیا جائیگا۔

خیال رہے گذشتہ دنوں توبہ اچکزئی کے علاقے میں ہیلی کاپٹر کے ذریعے سے محصور لوگوں میں خوراکی سامان کے پیکٹ گرائے گئے تاہم عوامی وس ماجی حلقوں نے پی ڈی ایم اے کی کارکردگی پر نکتہ چینی کرتے ہوئے ان کے اقدامات کو ناقص قراردیا اور کہا کہ غفلت سے کوئی انسانی المیہ رونما ہوسکتا ہے اس لئے ایمرجنسی بنیادوں پر ریلیف کا کام بہتر طریقہ کار کے ساتھ کیا جائے۔