امریکہ-ایران جنگ اور بلوچ – برزکوہی

352

امریکہ-ایران جنگ اور بلوچ

برزکوہی

دی بلوچستان پوسٹ

موجودہ حالات کے پیش نظر، شاید ہی کوئی ایسا طبقہ ہائے فکر ہو، جہاں یہ سوال گردش نہیں کررہی ہو کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ، ایران پر براہ راست حملہ آور ہوکر، ایک روایتی جنگ کا آغاز کریگا یا نہیں؟ اگر حملہ ہوگا تو وہ کس نوعیت کا حملہ ہوگا؟ حالات کس کروٹ بدلینگے، مشرق وسطیٰ کس صورتحال سے دوچار ہوگا، علاقائی سطح پر کیسی تبدیلیاں رونما ہونگی اور ان تبدیلیوں کے اثرات بلوچستان و بلوچ قوم پر کیا پڑیں گی؟

میں بحیثیت لکھاری طوطے کی طرح رٹے رٹائے عالمی سیاست، جنگی حالات و واقعات پر موجود تجزیوں و تبصروں کا اگر متحمل ہوسکا تو یہ قلم کیساتھ نا انصافی ہے، اور نا ہی میں ہوائی و تصواراتی، سنی سنائی تجزیوں و تبصروں کا قائل ہوں۔ بے شک! ہم بحیثیت قوم و بحثیت انسان، دنیا جہاں سے الگ تھلگ نہیں ہوسکتے ہیں، اور تمام بدلتے حالات کے اثرات بلواسطہ یا بلاواسطہ ہم پر پڑتے ہیں، خاص طور پر بحیثیت ایک مظلوم و محکوم قوم، ہم ہر معمولی و غیر معمولی حالات و واقعات کے اثرات سے ضرور اثر انداز ہوتے ہیں۔

اپنے تصوراتی تجزیات میں طبل جنگ پِیٹنے سے پہلے، ذرا ماڈرن وار فیئر کے جدید جہتوں پر غور کرنا بھی ضروری ہے، جہاں اس جدید دور میں دو ریاستیں براہ ریاست ایک دوسرے کے ساتھ ایک روایتی جنگ کے آغاز سے حد درجہ اجتناب کرتے ہیں۔ پوری عرب بہار اور شام کی صورتحال اسی ماڈرن وارفیئر کا عملی اظہار ہے۔ جہاں جنگیں پارکسیز کے ذریعے لڑی گئیں۔ اور اگر فریقین جوھری ہتھیار سے لیس ہوں تو، وہاں روایتی جنگ کا امکان تو سرد جنگ کے زمانے سے ہی بہت معدوم ہے۔ البتہ ایک دوسرے پر پریشر ڈالنا، یعنی ہر ایک کی کوشش ہوتی ہے کہ دوسرے کو دفاعی پوزیشن میں لاکھڑ کرے یا مجبور کرکے آئندہ توبہ کروائے، یہ کام ریاستیں اور ان کے خفیہ ادارے پروکیسیز یا اپنے مخالف ریاست کے اندر سے جنم لینے والی تحریکوں سے حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ (تحریکوں اور پروکسیز میں فرق اس پر پھر کبھی تفصیل سے بحث ہوگی)

فرض کریں، اگر امریکہ براہِ راست ایران پر شدت کے ساتھ حملہ کرکے ایران پر مکمل قبضہ کرتا ہے یا اندر سے رجیم بدلتا ہے یا پھر جاکر مزید اس کو تقسیم در تقسیم کردیتا ہے، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا پھر امریکہ اس فارمولے کو کب تک اسی طرح قائم رکھ سکتا ہے یا کنٹرول کرسکتا ہے؟ جبکہ باقی چھوڑیں افغانستان اور عراق ہمارے سامنے واضح مثال اور تجربہ ہیں۔ ہم افغانستان کو لیتے ہیں، ایران کے مقابلے میں طالبان رجیم افغانستان میں انتہائی تباہ حال شکل میں موجود تھی جب امریکہ نے حملہ کیا لیکن آج تک امریکہ افغانستان پر مکمل کنٹرول حاصل نہیں کرسکا ؟ اور یہ بھی غور طلب ہے کہ طالبان کے علاوہ مجموعی افغان قوم میں امریکہ کے خلاف کس حد تک نفرت تھی؟ اور آج ایران میں امریکہ کے خلاف نفرت کس حد تک ہے؟ افغان قوم نے کس حد تک امریکہ کے منظور نظر حکومت کو قبول کیا اور ایران کی عوام کس حد تک قبول کرنے کو تیار ہے؟ یہ اہم اور بنیادی سوال ہیں۔

اس وقت ایران میں ملا رجیم کی مخالفت میں کس حد تک فارسی، عرب، کرد، بلوچ یا دیگر اقوام میں ایسی منظم قوت اور قیادت موجود ہے جو امریکہ کی مدو و کمک سے اپنی رٹ قائم کرسکے؟ اگر دلیل یہ بنتا ہے کہ جب امریکہ کا معاشی، جنگی اور فوجی سپورٹ مکمل ہو تو قوت بننے میں دیر نہیں لگتا، تو پھر افغانستان میں امریکی اور اتحادیوں کی لامحدود افغان قوم کو جنگی، معاشی، فوجی سپورٹ پھر بھی پاکستانی پروکسی طالبان سے امریکہ کیوں نجات حاصل کرنا چاہتا ہے؟

یہ تمام عوامل اس امر کی جانب اشارہ کرتے ہیں، امریکہ براہ راست ایران میں اپنی فوج اتارنے سے اجتناب کرے گا، اور یہ جنگ بلواستہ معاشی پابندیوں، عالمی دباؤ، پراکسیوں، اندرونی خلفشار اور گاہے بگاہے کے ٹارگٹ کلنگ سے لڑتا رہے گا، جب تک کہ وہ ایران میں ملا رجیم نہیں بدلتی یا انہیں جھکاتی نہیں اور دوسری جانب ایران بھی اسی طرز سے لڑتا رہے گا۔ بلکہ یہ لڑائی 1979 میں امریکی سفارت خانے پر قبضے کے دن سے شروع ہوچکا ہے اور آج تک جاری ہے، بس اسکے شدت میں کمی بیشی آتی رہتی ہے۔

یہاں ایران-امریکہ کے تعلقات و جنگ کے نوعیت پر بات کرنا اسلیئے ضروری ہے کہ بلوچ قومی تحریک برائے آزادی میں ایک ایسا مصنوعی طبقہ ہائے فکر جنم لے چکا ہے، جو عملی طور پر بوریا بستر باندھ کر، اس انتظار میں بیٹھے ہوئے ہیں کہ کب امریکہ بہادر ایران میں فوجیں اتارے گا اور امریکی جنرل اپنے ہیلی کاپٹر سے اترکر ایک جادوئی ڈبے میں بند بلوچستان کی آزادی کی چابی ان کے ہاتھ میں تھمائیں گے، اور وہ ایک نجات دہندہ کی طرح، آخری وقت میں اس چابی سے آکر آزادی کا دروازہ کھولیں گے اور ہرطرف انکی جئے جئے کار ہوگی۔

اب جب تک کہ وہ چابی انکے ہاتھ میں تھمائی نہیں جارہی، یہ مذکورہ گروہ فی الحال ڈونلڈ ٹرمپ کے ہر ٹویٹ پر زور زور سے بغلیں بجاتا نظرآتا ہے، اور جب خطے میں تھوڑا تناؤ پیدا ہوجائے تو یہ تیسرے جنگ عظیم کا طبل اتنا زور سے بجانا شروع کردیتے ہیں کہ شور میں اپنی ہی آواز نہیں سنتے۔ ” دیکھو سلیمانی مارا گیا، اب ایٹمی جنگوں کی باری ہے، ایران نے پچاس میزائل امریکی بیس پر فائر کردیئے اب تو جنگ ہی جنگ ہے” وہ تو غارت ہو ایران کا کہ میزائل حملوں سے چھ گھنٹے پہلے سوئٹزر لینڈ اور عراق کو مطلع کردیا تھا کہ وہ ایسی کاروائی کرنے جارہے ہیں اور امریکہ نے بیس خالی کرکے حفاظتی تدابیر کرلیں تھی، اور میزائل بھی ارادتاً نشانے کے ادھر اُدھر گرتے رہے۔ اس پر ستم انہوں نے یہ کہہ دیا کہ بس یہی ہمارا بدلہ تھا، اب ہم اچھے بچوں کی طرح چپ کرجائیں گے بس امریکہ مزید ہمیں تنگ نا کرے۔ اس سے اچھی بھلی جنگ رک گئی اور بلوچستان آزاد ہوتے ہوتے رہ گئی۔ اب یہ گروہ دوبارہ ٹوئیٹر پر آزادی کا انتظار کررہی ہے۔

اس تمام صورتحال اور سوچ کو نظر انداز کیا جاسکتا ہے، لیکن اس پر ستم یہ ہے کہ مذکورہ گروہ اپنے اس مزاحقہ خیزی کو ایک ایسا کانسپیرسی تھیوری بناچکی ہے، جسکے مضمرات لامحالہ ہر نوخیز ذہن پر منفی پڑیں گے، اور خاص طور پر اس کانسپریسی تھیوری میں اپنی خاموش دستبرداری کو تین خوبصورت جذباتی بلیک میلنگ نکات میں چھپایا گیا ہے یعنی
1۔ جو امریکہ بہادر کا انتظار کرنے کے بجائے عملی طور پر آزادی کیلئے لڑرہے ہیں، مررہے ہیں وہ بیوقوف اور جذباتی ہیں، اور نوجوانوں کو بے موت مروا کر ضائع کررہے ہیں۔
2۔ بیس سال مشرقی بلوچستان میں جو جنگ لڑرہے تھے، وہاں سے ہم مورچے خالی کرکے، بیانوں، ٹویٹوں اور فیس بک پوسٹوں میں مغربی بلوچستان کو پہلے آزاد کریں گے، اور جو اتفاق نہیں کرتا وہ ایرانی پراکسی ہے، متحدہ آزاد بلوچستان کا مخالف ہے۔
3۔ ہم نہیں لڑرہے ہیں کیونکہ تب تک آزادی ممکن نہیں جب تک کوئی بیرونی ملک مکمل حمایت نہیں کرے، لیکن اگر کوئی اور اپنے کسی زخمی یا بیمار تک کو کسی اور ملک لے گیا بھلے وہ لڑرہا ہو، مررہا ہو، وہ پراکسی ہے۔

کون ذی شعور بدبخت بلوچ جہدکار یہ نہیں چاہتا کہ بلوچ گل زمین اور بلوچ قوم کی منصوعی و غیر فطری تقسیم ختم ہو، اور پوری بلوچ قوم ایک ہی عظیم تر سرزمین کا مالک ہوکر دنیا کے خطے پر نمودار ہوجائے۔ مگر مذکورہ گروہ کے ارادے، جنگی تبصرے اور تجزیئے محض خیالی ہیں، معروضی حقائق سے بے علمی ہیں اور اپنے بے عملی کو چھپانے کے ہیں۔

جب سوویت یونین سپرپاور تھا تو ہر طرف سوشلزم کی پرچار و بلندی تھی، قوموں میں انقلاب برپا ہوا، افغانستان میں بھی ثور انقلاب آیا، ہم بھی بلوچ سوشلسٹ، لیننسٹ و کمیونسٹ اور پتہ نہیں کیا کیا بن گئے، لیکن نتیجہ صفر جمع صفر حاصل صفر ہی رہا۔ جب تیاری نہیں تھا تو نتیجہ لاحاصل تھا، ابھی امریکہ نواز بن کر ہم کیا کرسکتے ہیں؟ سودیت یونین کو پھر ایک ازم تھا لیکن امریکہ کو کچھ نہیں ہے، بقول نواب خیر بخش مری کے امریکہ، امریکیوں کے علاوہ کسی کا نہیں ہوتا۔

بات سادہ سی ہے، کوئی امریکہ و روس آئے، یا کوئی ازم وزم، اول و آخر بات یہ آتی ہے کہ آپکی آزادی ہے، آپکی جنگ ہے، بوجھ آپکو اٹھانا ہے، جنگ آپکو لڑنی ہے۔ اگر عالمی حالات بدلتے ہیں، آپکے حق میں آتے ہیں، کوئی مدد کردیتا ہے تو وہ بونس ہے۔ لیکن اگر عالم کہتا ہے کہ ہم آپکی آزادی کی حمایت نہیں کرینگے تو کیا آپ اپنے آزادی سے دستبردار ہوجاؤ گے؟ اسلیئے بلوچستان کی آزادی کو ایران کے میزائلوں میں، یا امریکہ کے ڈرونوں میں، ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹوئیٹوں میں نہیں، اپنے زمین پر ڈھونڈو زیادہ بہتر ہے۔

ایک دفعہ نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر مالک بلوچ سے میری بلدیہ ہوٹل کوئٹہ میں ملاقات ہوئی، جس میں انہوں نے کہا کہ “ہم نہ لڑینگے، نہ قربانی دینگے، نہ پہاڑوں پر جائینگے، جب امریکہ سپورٹ کریگا ہم خود آزاد ہونگے، آج اگر مالک کی طرح کوئی بیٹھ کر وہی باتیں کرے تو، اس نے اتنے سال جہد میں ضائع کردیا، جب اسے گھوم پھر کر ڈاکٹر مالک کے موقف پر ہی آنا تھا۔ 19 سال پہلے ہم نے مالک کے اس موقف کو مسترد کردیا تھا اور جھوٹ و دھوکا قرار دیا تھا، آج ہم اسے کیسے قبول کررہے ہیں؟

آپ نیشنل پارٹی و مالک وغیرہ گروہ کے ساتھ بیٹھیں، یا بی این پی وغیرہ کے ساتھ، وہ ایسا نہیں کہ خود کو براہِ راست غدار یا جنگ سے فرار تسلیم کرتے ہیں، بلکہ انکے پاس لمبی چوڑی تھیوریاں ہیں کہ وہ کیسے صحیح ہیں آزادی کی جنگ نا لڑ کر، آزادی کی بات نا کرکے۔ اور باقی سب کیسے جذباتی اور سطحی ہیں۔ اب بظاہر اسی طرح کی خام تھیوریاں ایک حلقے میں تیار ہورہی ہیں، اب وہ پَک کر کیا ہونگی۔ قیاسات سے اجتناب کرکے بس دیکھتی رہنی چاہئیں۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔