مضمراتِ آزادی – میرک بلوچ

73

مضمراتِ آزادی

تحریر: میرک بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

مقداری کیفیت اپنے مضمرات کے تحت اثر پذیری سے مکمل ہم آہنگ گذرتے رہتے ہیں ۔ ان تمام صورت میں ہی انسانی معاشرہ اپنے مراحل طے کرتا جاتا ہے۔ المیے، حادثات، انقلابات، تنزیلی و ترقی، راحت، خوشی، رنج، جوش،سکڑپن وسعت وغیرہ اپنے جدلیاتی عناصر سے مربوط ہوکر آگے بڑھتے ہیں۔ انسانی معاشرے میں رونما ہونے والے واقعات کا ان تمام چیزوں سے ٹھوس اور گہرے تعلقات ہوتے ہیں۔ انسان، معاشرے میں باشعور ہوکر ہی ان تمام صورتحال کا ادراک رکھتا ہے۔

بلوچ قومی آزادی کی تحریک انسانی معاشرے سے ہی جنم شدہ عنصر ہے، اس لئے ان تمام معاشرتی عناصر سے علیحدہ نہیں ہوسکتا۔ اس لئے ہر طرح کی صورتحال سے دوچار ہونا از حد ضروری ہوتا ہے۔ قومی آزادی کی تحریک مختلف نشیب و فراز اور مختلف کٹھن حالات سے گزر کر اب بھی اپنے تمام مضمرات کے ساتھ جاری و ساری ہے۔ جاری تحریک کے دوران بہت سے کرب ناک و اذیت ناک لمحات بھی آئے جو کہ بہر حال جدوجہد کا حصہ ہوتے ہیں ۔ مگر تحریک ان سارے نقصانات کو برداشت کرکے جاری ہے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ ماضی کی تحریکات کے برعکس موجودہ تحریک مکمل اور واضع نظریات کی حامل ہے اور وہ ہے بلوچستان کی آزادی اور 11 اگست 1947ء والی پوزیشن کی بحالی۔ اس اہم نقطے کو مدنظر رکھ کر جدوجہد کو ایک روشن شکل و صورت عطا ہوئی۔ اس جدوجہد کی ابتدائی حیثیت 27 مارچ 1948ء ہے، مگر آزادی کی تحریک 13نومبر 1839ء سے منسلک ہے جب وطن پرست خان بلوچ میر محراب خان اور ان کے جانثاروں کی شہادت کے بعد برطانوی استعمار نے بلوچ وطن پر قبضہ کرکے اس کے حصے بخرے کئے۔

جہد مسلسل کا یہ عمل مختلف مراحل سے گزر کر جاری و ساری ہے اور جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ بلوچ تحریک ایک مکمل تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔ اس کی تاریخی اہمیت کو مدنظر رکھ کر ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ بلوچ رہنما 1948ء کے جبری قبضے کے فوراً بعد اقوام متحدہ سے رجوع کرتے۔ یورپ کے استعماری طاقتوں نے مختلف خون کی سرحدیں چھوڑی ہیں اور ستم یہ کہ 11 اگست 1947ء کی مختصر آزادی کے بعد 27 مارچ 1948 کے قبضے پر استعماری طاقتوں نے لب کشائی نہیں کی ۔ 1948ء مظلوم قوموں کے لئے مشترکہ طور پر سیاہ ترین سال ہے ،اسی سال کردوں، بلوچوں، فلسطینیوں، شمالی قبرص ، ساوتھ صحارہ ، وغیرہ کو قبضہ گیروں کے حوالے کیا گیا یہ کالونیل باونڈریز ہیں ۔ لیکن اب ان کا حل ناگزیر ہے کیونکہ سرد جنگ کے بعد اس جدید دنیا کے تقاضے بھی بدل گئے ہیں ۔ بلوچ قومی آزادی کی تحریک کے ہاتھ سنہرا دور آیا ہے اور ہمت ،شجاعت، بے باکی سے آگے بڑھنے کا واضح سگنلز دنیا کی طرف سے موجود ہیں۔

جاری تحریک اب واضع اور شفاف ہوچکی ہے اور اس کی شفافیت مزید ہوگی۔ تحریک اس وقت واضح طور پر ایک نقطے پر مرتکز ہوچکی ہے اور تحریک کی نمائندہ پارٹیاں ٹھوس بنیادوں پر اپنے ڈھانچوں کے ساتھ موجود ہیں۔ اب بلوچ قومی آزادی کی جماعتیں بھانت بھانت کی بولیوں میں تقسیم نہیں ہیں۔ بلوچ قومی آزادی کی تحریک میں شامل جماعتیں یہ ہیں 1) بلوچ نیشنل موومنٹ 2) بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد 3) اور براس میں شامل سرمچاروں کی تنظیمیں ۔

بلوچ نیشنل موومنٹ بلوچ سرفیس ماس پارٹی ہے، اسی طرح BSO آزاد بلوچ آزادی پسند نوجوانوں کی سرفیس میں بہترین طلبہ آرگنائزیشن ۔ یہ وہ جماعتیں ہے جو سب سے زیادہ ریاستی جبر و ستم کا سامنا کرچکے ہیں اور کررہے ہیں کیونکہ ان جماعتوں کی بنیادیں خالص سائنسی اور نظریاتی بنیاد پر استوار ہیں۔ ان جماعتوں کے ارکان اعلیٰ تعلیم یافتہ شہری پرتوں سے وابستگی رکھتے ہیں ۔ اور سارے بلوچ معاشرے کا احاطہ کئے ہوئے ہیں۔

اب صورتحال ان ہی جماعتوں کے رہنماؤں اور کارکنوں کے ہاتھ میں ہے اور ساری ذمہ داری قدرتی طور پر ان ہی کے کندھوں پر آن پڑی ہے۔ اس وقت تدبر و دانائی کی اشد ضرورت ہے اور اب آگے بڑھنے کے لئے ان جماعتوں کے رہنماؤں اور کارکنوں کے درمیان ٹھوس بنیادوں پر نظریاتی ہم آہنگی مستقل رابطے ضروری ہیں۔ یہ پارٹیاں انتہائی منصوبہ بندی کے ساتھ بلوچ قوم سے رابطے میں رہیں اور قوم کی قدم قدم پر نہ صرف رہنمائی کریں بلکہ انھیں ہر وقت سچائی کے ساتھ حالات و واقعات سے آگاہ کرتے رہیں۔ اپنے عمل سے قوم کو یہ باور کرائیں کہ وہ تنہا نہیں ہے کیونکہ بلوچ قوم ہی اس تحریک کا وارث ہے اور یہ پارٹیاں ان کی نگہبان ہیں۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔