بلوچستان کی 21 سالہ یوٹیوبر انیتہ جلیل کی خودکشی کی کوشش

1379

انیتہ جلیل کا تعلق بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر سے ہے جبکہ وہ بلوچستان کی واحد یوٹیوبر لڑکی کے طور جانی جاتی ہے، اس علاوہ وہ اداکاری اور آرٹس میں دلچسپی رکھتی ہے۔

انیتہ جلیل کی خودکشی کی بات جمعرات کے روز منظر عام پر آئی جس کی تصدیق انہوں نے اپنے آفیشل انسٹاگرام چینل پر کی۔

انیتہ جلیل نے انسٹاگرام پر اپنے بات کا آغاز ان الفاظ سے کیا کہ میں نہیں چاہتی کہ لوگ مجھ سے ہمدردی کریں لیکن میرا دل ٹوٹ چکا ہے، ایک ایسی چیز سے میرا دل ٹوٹا جس کو میں اپنا سمجھتی تھی۔

انیتہ جلیل کو مذکورہ ویڈیو میں ہسپتال میں ایک بیڈ پر لیٹے دیکھا جاسکتا ہے جہاں انہیں ڈرپس لگی ہوئی ہیں، جس کے حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ یہ ڈرپس مجھے آج نہیں بلکہ دو دنوں سے لگی ہوئی ہیں۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ جب کوئی اپنے لیے ایک گھر لیتا ہے تو اس کو اپنا سمجھ کر اس میں ہر طرح کی چیزیں رکھتا ہے میں نے بھی ایک جگہے کو اپنا گھر سمجھا اور اس میں بغیر کسی لالچ کے ہر طرح کی چیزیں ڈالتی رہی۔

انیتہ نے خودکشی کی اصل وجوہات بتانے سے گریز کیا لیکن ان کا کہنا ہے کہ بلوچی فلم انڈسٹری سے ان کا دل ٹوٹ چکا ہے۔

انیتہ جلیل نے بلوچی فلم انڈسٹری کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ہمارے یہاں سب سے بڑا مسئلہ شراب پینا ہے، جب ایک آرٹسٹ شراب پی کر لڑکیوں یا خواتین کے درمیان بیٹھتا ہے تو وہ سب کی عزت کو بھول جاتا ہے اور میرے ساتھ بھی ایسا ہی واقعہ ہوا۔

انیتہ جلیل نے کسی شخص کا نام نہیں لیا تاہم انہوں نے بتایا کہ نیند کی بہت سی گولیاں کھاکر دو دن قبل انہوں نے خودکشی کی کوشش کی تھی جس کے بعد وہ بے ہوش تھی۔