کوئٹہ: بارش اور سردی میں لاپتہ افراد کے لیے احتجاج

122

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں بارش اور سردی کے باجود وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کی جانب سے جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاج جاری رہا، لاپتہ افراد کیلئے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاج کو 3777دن مکمل ہوگئے جہاں خضدار کے علاقے زہری سے سماجی کارکن اللہ داد بلوچ، کوئٹہ سے وکلاء برادری سے تعلق رکھنے والے افراد نے کیمپ کا دورہ کرکے لاپتہ افراد کے لواحقین سے اظہار یکجہتی کی۔

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ کا اس موقعے پر کہنا تھا کہ سردی، گرمی، بارش، برفباری کسی بھی طرح کے حالات میں ہم اپنا احتجاج جاری رکھینگے، ہم اس وقت تک آواز اٹھاتے رہینگے جب تک بلوچ لاپتہ افراد کو رہا نہیں کیا جاتا ہے۔

وائس فار بلوچ مسنگ پرنسز کی جانب سے گذشتہ ایک دہائی کے زائد عرصے سے احتجاج جاری ہے جبکہ اس دوران تنظیم کی جانب سے کوئٹہ سے کراچی اور اسلام آباد تک طویل لانگ مارچ بھی کیا گیا۔

ماما قدیر بلوچ کا مزید کہنا ہے کہ عرصہ دراز سے بلوچ قوم کی نسل کشی کی جارہی ہے، ریاست کی جانب سے ہزاروں کی تعداد میں بلوچ فرزندوں کو شہید کرنا اور ہزاروں کی تعداد میں بلوچوں کو پابند سلاسل کرنا، غیر قانونی طریقے سے اپنے عقوبت خانوں میں غیر انسانی اذیت اور تشدد کا نشانہ بنانا پھر ان کی لاشیں مسخ کرکے ویرانوں میں پھینکنا روز کا معمول بن چکا ہے۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ نام نہاد قوم پرستوں نے بلوچ لاپتہ افراد و شہداء کے مسئلے کو حل کرنے کے نام پر سودا بازی شروع کی ہے جبکہ ریاستی لشکری کشی ڈیرہ بگٹی، مستونگ، جھاؤ، آواران، مکران اور بولان سمیت پورے بلوچستان میں تیز کردی گئی ہے۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں سے لوگوں کو جبری طور پر لاپتہ کرنے کا تسلسل تاحال جاری ہے جن میں خواتین و بچے بھی شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے اس سے قبل بھی ملکی و بین الاقوامی اداروں سمیت حکومت سے گزارش کی ہے کہ کسی شخص کو جبری طور پر لاپتہ کرنا غیر انسانی فعل ہے اگر کسی پر کوئی الزام ہے تو انہیں ملکی و بین الاقوامی قوانین کے تحت عدالتوں میں پیش کیا جائے، ہم انسانی حقوق کے تنظیموں سے ایک دفعہ پھر اپیل کرتے ہیں کہ وہ بلوچستان میں جنم لینے والے انسانی المیے کے حوالے سے سنجیدگی کے ساتھ توجہ دیں۔

دریں اثنا کراچی سے فورسز کے ہاتھوں لاپتہ بلوچ نیشنل موومنٹ رکن رفیق بلوچ کے گمشدگی کو دو سال مکمل ہونے پر بلوچ سوشل میڈیا ایکٹوسٹس کی جانب سے کمپئین چلایا جارہا ہے جس میں سیاسی و سماجی تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد بھی حصہ لے رہے ہیں۔

اس حوالے سے بی این ایم کے رہنما ناصر بلوچ نے سماجی رابطوں کی ویب سائیٹ پر کہا کہ سیاسی کارکن رفیق بلوچ کی طویل عرصے سے گمشدگی سے واضح طور پر یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان بین الاقوامی قوانین کی قدر نہیں کرتا ہے لیکن پھر بھی انسانی حقوق کے محافظ خاموش ہیں جس سے ان کی انسانی ہمدردی پر بہت سے سوالات اٹھتے ہیں۔

لاپتہ رفیق بلوچ کے بہن سعیدہ بی بی کا کہنا ہے کہ میرا معزور بھائی رفیق بلوچ 2 سالوں سے اذیت برداشت کر رہا ہے، ان کے ساتھ اغوا ہونے والے تمام طلبہ بازیاب ہوچکے ہیں مگر تاحال ان کی کوئی خبر نہیں۔ میں اپیل کرتی ہوں کہ میرے بھائی کو رہا کرکے مجھے اور میرے اہل خانہ کو اس اذیت سے نجات دلائیں۔

سعیدہ بی بی سے اتفاق کرتے ہوئے انسانی حقوق کے علمبردار آمنہ مسعود جنجوعہ نے پاکستان کے وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ رفیق بلوچ معذور ہے جس کے باعث آزاد ہونے کا زیادہ مستحق ہے۔

علاوہ ازیں نوشکی سے تعلق رکھنے والے طالب علم سمیع اللہ بلوچ کے جبری گمشدگی کو دس سال مکمل ہوگئے۔

لواحقین کے مطابق سمیع اللہ مینگل ولد میر ہزار خان کو 16 نومبر 2009 کو ڈاکٹر بانو روڈ ٹی ڈی ایس ٹیلر کے سامنے سے اس کے بھائی پروفیسر عبدالرحمٰن کے ہمراہ حکومتی اداروں نے گرفتار کیا جبکہ عبدالرحمٰن کو اسی دن چھوڑ دیا گیا لیکن سمیع اللہ تاحال لاپتہ ہے۔