شور کی یخ بستہ راتیں – شہسوار بلوچ

121

شور کی یخ بستہ راتیں

تحریر: شہسوار بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

گرمیوں کی راتیں سردیوں میں بدل گئے، ہر رات سردی کی وجہ سے دوسری رات سے زیادہ سخت ہوتی جا رہی تھی، رات کو کمبل اوڑھ کر بھی سردی ہوتی تھی، میں اپنا ڈائیری اٹھا کر اوپر پہاڑی کی طرف گیا، موسم بھی کافی سرد تھا اور اوپر سے چاند کی روشنی بھی ٹمٹما رہی تھی، چاند کو سردی بالکل لگ ہی نہیں رہی تھی، مجھے ایسا محسوس ہو رہا تھا یخ بستہ سردی اور آج کی چاندنی ایک دوسرے سے ہمکلام ہیں۔ اسی کے ساتھ میری نظر ڈائیری کے اس صفحے پر پڑی جس پر میں نے پری کی دروشم پر کچھ لکھا تھا، چاندنی رات میں پری کی کمی بھی بہت محسوس ہو رہی تھی۔ میں سوچ رہا تھا پری سے پچھلے چھ مہینوں سے رابطہ نہیں ہوا، کس حال میں ہو گی۔ طبیعت کیسے ہو گی، اس کی یونیورسٹی کیسی چل رہی ہوگی، کیا ہماری منگنی فکس ہو گئی ہوگی کہ نہیں، آخری مرتبہ جب اماں کا احوال رستم کیساتھ آیا تھا اماں نے کہا تھا ہماری تیاری ہے کہ پری کے گھر تمہارا ہاتھ مانگنے جانا ہے۔

میں انہی خیالوں میں تھا کے میرے پاس رضوان آکر بیٹھ گیا اور کہنے لگا یار کیا ہوا کن سوچوں میں گم ہو، گھر کی یاد آرہی ہے کیا؟ نہیں یار ہمارا گھر تو یہی ہے، آپ سناؤ سردی کیسا ہے، اف پوچھو مت سردی تو غذب کی ہے، ایسا لگ رہا ہے اب کے بار جنوری، فروری کی سردی بھی حد کردیں گے، پچھلی دفع تو برف بھی کافی پڑی تھی، جس میں پھسلنے کی وجہ سے میرے پاؤں میں چوٹ بھی لگی تھی۔ مگر دیکھو اب کی بار میں نے بہت ہی مظبوط اور گرپ والے آرمی شوز خریدے ہیں۔ چھوٹے بھائی نے میرے واسطے بھیجے ہیں۔

ٹہرو یار! میں کچھ لکڑیاں جمع کرکے آتا ہوں، تب تمہارے ڈائیری سے اچھی سی شاعری سنتا ہوں، رضوان لکڑیاں جمع کرنے گیا، میں ڈائیری کی صفوں کو ادھر ادھر کرتا گیا، کافی اچھی شاعریاں پڑھنے کو ملیں، پڑھتے پڑھتے رضوان بھی پہنچ گیا، جس کے ہاتھوں لکڑیوں کا ایک گھچا تھا، جلد ہی ہم نے آگ جلائی، اوپر آج کی چاندنی اور شور کی پہاڑں کی زیبائی ایک طرف منظور بلوچ کی عمدہ شاعری

طوبے بڑزے روشنی شیفے
شار ٹی زندگی تینا شیفے

بس آج کی رات تھی، شاعری عروج پر تھی، خشک شامیں یخ بستہ ہوائیں، دل کو گرما دینے والی پری کی یادیں تھیں، ایک طرف دسمبر کی جدائی تھی، دوسری طرف آنے والے نئے سال کی نئی امیدیں تھیں، شاید انہی سرد راتوں میں یادوں کی وجہ سے شاعری کو اس مہینے میں کچھ زیادہ ہی توجہ حاصل ہوتی ہے، دوسری طرف وطن کا شہسوار ہونے کا جنون اور بھی زیادہ ہو رہا تھا۔ اس سردی میں اور من ہی من میں یہ سوچ رہا تھا یہ آجوئی کی جنگ ہے، دل یہ کہہ رہا تھا چوم لوں اپنے سی تیری کو یہی ہی تیرا پری ہے، تجھے پچھلی زندگی بھول جانا ہے، تو شہسوار ہے وطن کا، یاد کر وہ دن جب تیرے دوست نے تجھے شہسوار نام دیا تھا، اس کی زندگی دیکھ کیا کیا تکلیفیں کاٹ رہا ہے، عشق ء وطن میں اور دوسرے سنگتوں کو دیکھ جو اتنے حوصلے کہ ساتھ وطن کی آزادی کیلئے لڑ رہے ہیں، مشکلات تو سب کی زندگی میں آتے ہیں، مگر ان کا مقابلہ کرو خود مت جھکو۔ دوست! وقت کو جھک جانے پر مجبور کرو کیونکہ تمہیں جن دوستوں نے حوصلہ دیا ہے جن دوستوں نے تم پہ محنت کی ہے اس کھٹن اور سخت حالت میں ساتھ دیا ہے ان کے صف میں کھڑے ہو کر دشمن کے ہر سوچ کو ناکام بنا دو، تم تو قوم کے اصل سپاہی ہو۔ تماری زندگی اب وہ زندگی نہیں جس میں صبح وقت پر کپڑے پریس ہو کر ملیں، تمہاری وہ زندگی ہے سب کچھ برداشت کر کے سامنے والے دوست کی آنکھوں میں مسکراہٹ دیکھنا ہے، تمیں تو ریحان جیسے فدائی کی نقش ء قدم پر چلنا ہے، جس نے کم عمری میں بھی دی لیجنڈ (the legend) بن کر ساری دنیا کیلئے ایک مثال قائم کیا۔

تمیں وہ لمحہ یاد کر کے قوم کی آجوئی کیلئے جنگ لڑنا ہے، جب ریحان جیسے فرزند کے ہاتھوں کی مہندی بھی پرانی نہ ہوئی تھی کہ اماں یاسمین نے اسے رخصت کیا، ارے یار شہسوار تجھے شکور بن کر تو امیر کے رستے پر چلنا ہے، تجھے آغا مہراب خان عاجزی کے رستے پر چلنا ہے، تجھے حئیو اور حق نواز بن کر شور کی فضاؤں کو آباد کرنا ہے، تجھے یہ یخ بستہ ہوئیں پکار رہی ہیں، تجھے امیر قریب سے پکار رہا ہے، تجھے امیر کی منزل کی طرف آگے بڑھنا ہے، دسمبر کی سخت راتیں ہوں یا اگست کی گرمی، تجھے بس آگے بڑھنا ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔