شام میں 50 لاکھ بچوں کو انسانی امداد کی ضرورت ہے- یونیسف

28

بچوں کیلئے اقوام متحدہ کے فنڈ، یعنی یونیسف کا کہنا ہے کہ شام میں 2018 کے دوران 1,000 سے زائد بچوں کی ہلاکت ہوئی۔ یوں، یہ سال 2011 سے شروع ہونے والی جنگ کے دوران سب سے زیادہ ہلاکت خیز سال رہا۔

شمال مغربی شام کے ادلب گورنریٹ میں بدھ کے روز ایک گنجان آباد کیمپ میں میزائل حملوں کے دوران کم سے کم 12 افراد کی ہلاکت ہوئی، جن میں بچے بھی شامل تھے۔ اس حملے سے قریب واقع ایک ہسپتال کو بھی نقصان پہنچا اور انسانی بھلائی کے چار فعال کارکن زخمی ہو گئے۔

اس سے ایک روز قبل یونیسف کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ شمال مشرقی شام میں ترک اور شامی کرد فوجوں کے درمیان لڑائی میں کم سے کم 10 بچے ہلاک اور 28 زخمی ہوئے۔

شام میں یونیسف کے نمائندے، فران ایکویزا کا کہنا ہے کہ 9 برس سے جاری اس ہولناک لڑائی میں بچے سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس بحران کی سطح، شدت اور پیچیدگی تشویشناک ہے۔

گذشتہ سال شام کے بچوں کیلئے ہلاکت خیز ترین سال تھا اور بدقسمتی سے لگتا ہے کہ یہ سال بھی ویسا ہی رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس سال کے آغاز سے ہم اب تک 657 بچوں کی ہلاکت کی تصدیق کر چکے ہیں۔ اس بات کا قوی امکان ہے کہ بچوں کی ہلاکتوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو۔

اقوام متحدہ نے ستمبر تک بچوں کے بارے میں ہونے والی 1,800 سے زائد شدید خلاف ورزیوں کی تصدیق کی ہے۔ ان میں ان کی ہلاکتیں، زخمی ہونے، انہیں کم سن فوجیوں کی حیثیت سے بھرتی کرنے اور ان کے اغوا کے واقعات شامل ہیں۔

یونیسف کا کہنا ہے کہ شام میں 50 لاکھ بچوں کو انسانی امداد کی ضرورت ہے اور ان میں سے نصف سے زائد اندرونی طور پر بے دخل ہو چکے ہیں۔ یونیسف کا کہنا ہے کہ سب سے زیادہ خطرات سے دوچار بچے ملک کے شمال مشرقی علاقوں میں ہیں۔

ایکویزا کے مطابق  40,000 بچے الہول کیمپ میں محصور ہو گئے ہیں۔ یہ کیمپ کردش ملیشیا سیرین ڈیموکریٹک فورسز چلا رہی ہے۔ ایکویزا کے مطابق، ان میں سے 28,000 بچے غیر ملکی ہیں۔ ان 28,000 بچوں میں سے 20,000 کا تعلق عراق سے اور 8,000 کا تعلق مختلف قومیتوں سے ہے۔ کیمپ میں 80 فیصد بچے 12 سال سے کم اور 15 فیصد پانچ سال سے کم عمر کے ہیں۔

چونکہ زیادہ تر بچے داعش کے عسکریت پسندوں کے ہیں، انہیں خارجی تصور کیا جاتا ہے۔ ان کے اصل ملک انہیں قبول کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔ لہذا، وہ کیمپ کی سخت زندگی گذارنے پر مجبور ہیں۔

ایکویزا کا کہنا ہے کہ یہ بچے خود مجرم نہیں ہیں بلکہ یہ جرائم کا شکار ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ان بچوں کو ان کے والدین کے جرائم کی سزا نہیں دینی چاہئیے، بلکہ انہیں با مقصد مستقبل کی امید فراہم کی جانی چاہئیے۔