جنگی حکمتِ عملی | قسط 9 – دھوکہ اور حقیقت

53

دی بلوچستان پوسٹ کتابی سلسلہ
جنگی حکمتِ عملی اور اُس کا تحقیقی جائزہ

مصنف: سَن زُو
ترجمہ: عابد میر | نظرِثانی: ننگر چنا

قسط 9 |چوتھا باب – دھوکہ اور حقیقت

سن زو کی کتاب ”جنگی فن“ کے مختلف ابواب میں فوج کی نقل و حرکت کی رہنمائی کیلئے کئی اہم ضابطے اور اصول بیان کئے گئے ہیں لیکن ”دھوکہ اور حقیقت“ کے باب میں سن زو نے اس موضوع پر کوئی خاص روشنی نہیں ڈالی ہے‘ اس کے باوجود اس ماہر نے جو قوانین اور اصول بیان کئے ہیں وہ امر ہیں‘ مثال کے طور پر اس نے ایک اشارہ دیا ہے کہ ”فوجی جنگی چال میں پختگی اور کمال کا تقاضا یہ ہے کہ کوئی بھی چیز تحقیق طلب اور نامکمل نہ چھوڑی جائے اگر ایسا کیا جائے گا تو کوئی بھی دانشمند فوجی جاسوس آگے بڑھ کر راز حاصل کرنے میں کامیابی نہیں ہوپائے گا اور نہ ہی آپ کا کوئی سچا اور دانشمند دشمن آپ کے خلاف کوئی کامیاب منصوبہ تشکیل دے پائے گا‘ اچانک ان مقامات پر پہنچ جائیں جنہیں بچانے کیلئے آپ کا دشمن بے قرار ہو ایسے مقام پرآندھی طوفان کی طرح تیز رفتاری سے پہنچ جائیں جہاں آپ کے پہنچنے کا دشمن کو وہم و گمان بھی نہ ہو۔“

اس نے ”باقاعدہ فوجی نقل وحرکت‘ جنگی ترتیب اور چال“ کے باب میں لکھا ہے کہ ”جنگ کے دوران دشمن کو دھوکہ اور فریب دینے پر زور دیں‘ اس طریقے سے آپ ضرور فتح یاب ہوں گے‘ جنگی نقل و حرکت بھی فقط تبھی کریں جب یہ سمجھیں کہ یہ فائدہ مند ہوگی بصورت دیگر ایسا نہ کریں‘ جنگی صورتحال کو نظر میں رکھیں فوج کی صف بندی کریں‘ حالات کے مطابق اپنی افواج کو مجتمع(Concentrate) یامنتشر Disperse کرکے رکھیں‘ جنگی مہم کے دوران آپ کی رفتار ”آندھی“ جیسی ہونی چاہئے‘ فوجی نقل و حرکت کے وقت آپ آرام سے اپنی شان و شوکت اور گھنے جنگل کی طرح مدغم ہوکر آگے بڑھیں‘ دشمن پر اچانک حملہ آور ہوتے ہوئے اس کی لوٹ مار کرتے وقت جھلساتے ہوئے آگ کے شعلے کی طرح بن جائیں اور اپنی تپش سے جھلسا کر رکھ دیں‘ جب آپ ایک مرحلہ طے کرلیں تو آپ میں پہاڑ جیسی استقامت اور استقلال ہونا چاہئے‘ جب آپ چھپنا چاہیں تو اس طرح کہ دشمن آپ کو ڈھونڈ نہ سکے‘ جب دشمن پر حملہ آور ہوں تو اس پر اچانک اس تیز رفتاری سے حملہ کریں جیسے آندھی اور طوفان اچانک تباہی مچادیتے ہیں۔

جب دشمن کے حوصلے بلند ہوں تو اسے چھیڑنے سے گریز کرنا چاہئے‘ اس پر حملہ تب کریں جب فوجیوں کو اپنے ملک کی یادستاتی ہو اور وہ سستی و کاہلی کی وجہ سے نکمے ہوچکے ہوں‘ یہ کردار پر ضابطہ رکھنے کا ایک فن ہے‘ آپ بہتر فوجی نظم وضبط رکھیں اور دشمن فوج کی بدنظمی و بے ترتیبی پر سخت نظر رکھیں ایسی کشیدگی اور بدنظمی کی حالت میں اس پر نہایت تیز رفتاری اور خطرناک آوازوں سے حملہ کردیں‘ یہ ذہن پر ضابطہ رکھنے کا ایک فن ہے‘ جب آپ جنگی میدان کے قریب ہوں تو دور سے آنے والے دشمن کی تاک میں رہیں جب آرام میں ہوں تو دشمن کے تھکنے کا انتظار کریں یہ طبعی قوت پر ضابطہ رکھنے کا ایک فن ہے‘ دشمن جب پورے ضابطے اور ترتیب کے ساتھ پیش قدمی کررہا ہو تو اسے کچھ نہ کہیں ایسے دشمن کو بالکل ہی نہ چھوئیں جس کی فوجی صف بندی میں دانشمندی کے ساتھ تعلق رکھنے والی ترتیب موجود ہو‘ یہ حالات کے مطابق تبدیلی اور ہیر پھیر کا ایک فن ہے۔“

ٍ وہ ”جنگی میدان کی نو قسمیں“ نامی باب میں کہتا ہے ”فوجیوں کو نہایت خطرناک صورتحال کی طرف دھکیل دیں تو وہ زندہ رہنے کی کوشش کریں گے انہیں موت کے میدان کی طرف پھینکیں تو وہ بچنے کی کوشش کریں گے۔“

انداز ے(Estimates) کے باب میں وہ بتاتا ہے کہ ”دشمن کے اس مقام پر حملہ کریں جس کیلئے وہ تیار نہ ہو اور آپ کے پہنچنے کا اسے یقین ہی نہ ہو۔“ یہ جنگ کے نہایت اہم اصول ہیں۔

قدیم چین کی جنگی فن کی کتابوں میں دھوکہ اور حقیقت پر بہت بحث کی گئی ہے‘ کئی ماہرین نے اس فن کو ین(yin) اور یئنگ(Yang) سے تشبیہ دی ہے جس کے مطابق ین(Yin) کے معنی ہیں دھوکہ اور یئنگ کے معنی حقیقت ہے‘ یہ کسی حد تک صحیح بھی ہے لیکن یہ بات سولہ آنے صحیح نہیں ہے کیونکہ کبھی حقیقی کام دھوکے کی شکل میں کرلیا جاتا ہے لیکن حقیقی نظر آنے والی کئی جنگی سرگرمیاں فقط دھوکہ ہوتی ہیں اور دشمن افواج کو دام میں لانے کا حربہ ہوتی ہیں۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔