جنگی حکمتِ عملی | قسط 4 – پہلاباب (حصہ سوئم)

53

دی بلوچستان پوسٹ کتابی سلسلہ
جنگی حکمتِ عملی اور اُس کا تحقیقی جائزہ

مصنف: سَن زُو
ترجمہ: عابد میر | نظرِثانی: ننگر چنا

قسط 4 | پہلا باب – دفاعی حکمت عملی (حصہ سوئم)


چینی تاریخ میں ”جنگی فن“ کی اہمیت

سن زو نے اپنی کتاب”جنگ کا فن“ میں اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ جنگ میں زیادہ اہم کام دشمن کی حکمت عملیوں کی منصوبہ بندی کو زیر و زبر کرنا ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ مضبوط سفارتکاری کے ذریعے اسے (دشمن کو) اپنے اتحادیوں سے الگ کرکے اکیلا کردیا جائے اور تیسری بات اس کی فوج پر حملہ کرنا ہے۔ زیادہ سے زیادہ خراب حکمت عملی شہروں پر حملہ کرنا ہے۔ سن زوکا یہ اصول عسکری حکمت عملی کے فن کا جو ہر یا روح ہے جسے تاریخ میں تمام عسکری سائنسدانوں نے اہمیت کی نگاہ سے دیکھا ہے‘ اس کے علاوہ جارحیت کے خلاف جنگوں میں بھی اس بات کو بہتر اصول کے طور پر مانا گیا ہے۔

میرے خیال میں فوجی حکمت عملی کے دوران غور و فکر کے بعد فیصلہ کرنے اور دشمن کو حکمت عملی کے فن سے شکست دینے کے سن زو کے پاس دومفہوم ہیں‘چین کی تاریخ میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جن کے ذریعے اس کے اس اصول کو واضح طور پر سمجھا جاسکتا ہے۔

لانگ ژونگ(Long zhong) میں فریقین کے مابین ہونے والی گفتگو

تین گھرانوں کی حکمرانی والے زمانے (220-265ق۔م) میں لیوبی(Liu Bei) تین بار ژوگ لیانگ کے گھانس پھونس والے گھر کی طرف گیا تھا کہ وہ چین کی فتح کیلئے لیو کی مدد کرے۔ لانگ ژونگ (شنگ نیگ کی اعلیٰ انتظامی وحدت County اور ہوبی Hubei والا صوبہ) میں ہونے والی بات چیت میں ژونگ لیانگ(Zhuge Liang) نے اس کے سامنے تین اصول رکھے جن کا تعلق مخصوص حکمت عملی سے تھا۔

1۔ مغرب کی طرف پیش قدمی کرکے سچوان(Sichuan) پر قبضہ کرکے اسے عسکری مرکز بنانا چاہئے‘اس کے بعد مناسب موقع دیکھ کر وسط کے میدانی علاقوں کی طرف جانا چاہئے جو زردندی (Yellow River) کے درمیانے اور نچلے طرف واقع ہیں۔
2۔ اس کے بعد ملک(Wu) سے اتحاد کرنا چاہئے کیونکہ ملک شوہان(Shuhan) کے فوجیوں کو ایک ایک کرکے نہیں مارا جاسکتا۔
3۔ شمال کی طرف ملک چاؤ چاؤ (Cao,cao) سے اتحاد ختم کیا جائے۔ اس سے ان لوگوں کیلئے سیاسی ماحول صاف اور واضح ہوجائے گا جو آگے بڑھ کر(Lui) کی حمایت کریں گے۔

لیوبی نے ژوگ لیانگ کو اپنی فوج کا چیف آف اسٹاف بننے کیلئے کہا تھا لیکن اس سے قبل اس نے یو آن شاؤ (Yuan Shao) کو مدد کرنے کی گزارش بھی کی تھی‘ اس کے بعد لیوبی مدد کیلئے لیو باؤ (Lui Biao) کی طرف بھی گیا تھا لیکن اس زمانے میں اس کے پاس فوج کیلئے کوئی مرکز نہیں تھا‘ اس کا سبب یہ تھا کہ لیوبے اس وقت اپنی قوم سے متعلق کوئی تجزیہ نہیں کرپایا تھا اور صحیح حکمت عملی اختیار کرنے سے متعلق اس نے غوروفکر کیا ہی نہیں تھا۔ ان دنوں کے دوران میدانی علاقوں میں مختلف حکمرانوں کی جدوجہد جاری تھی اس لئے وہاں لیوبی کے لئے چاؤ چاؤ سے لڑکر اپنی فوج کیلئے مرکز بنانا ممکن نہ تھا اس کے علاوہ میدانی علاقوں میں لڑنے والے حکمرانوں کو آپس میں لڑانے سے بھی اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچا۔ ”ژوگ لیانگ نے ”ونگ ژونگ“ کے ساتھ گفتگو کے دوران ”سچوان“ کی خاص جغرافیائی اہمیت کو محسوس کر لیا تھا اور سوچ بچار کے بعد اس نتیجے پر پہنچا تھا کہ مذکورہ علاقہ میں لیوبی کو ضرور اپنا فوجی مرکز قائم کرنا چاہئے۔

اب آیئے لانگ ژونگ میں زیر بحث آنے والے تین نکات کاجائزہ لیں۔
پہلانکتہ یہ تھا کہ سچوان کے علاقے کو عسکری مرکز بنایا جائے‘ لیوبی کی فوج طویل سفر کے بعد سستا کر تازہ و توانا ہوجائے گی‘ اس کے بعد اس فوج کیلئے وہاں سے مرکزی میدانی علاقوں کی طرف پیش قدمی کرنا آسان ہوجائے گا‘ اس علاقے میں انسانی آبادی کے ساتھ ساتھ اشیائے خوردونوش اور ہر چیز کی فراوانی تھی اس لئے لیوبی کیلئے یہ ایک اہم اقتصادی مرکز بھی ثابت ہوسکتا تھا۔دوسری بات یہ کہ لیوبی بیک وقت چاؤ چاؤ اور سن کوا(Sun Qua) سے جھگڑا مول نہیں لے سکتا تھا۔تیسری بات یہ تھی کہ لیوبی کی فوج حملہ کرنے کے ارادے سے آسانی سے آگے بڑھ سکتی تھی‘ اس کے ساتھ ساتھ پیچھے ہٹتے وقت بھی اس کیلئے بڑا بچاؤ موجود تھا۔ لیوبے‘ وو کی حکمران سے بھی اتحاد کرسکتا تھا کیونکہ اس زمانے میں مغربی علاقے میں ملک وی (Wei) کے حکمران اور مشرقی جنوبی علاقے کے ملک ”وو“ کے بادشاہ طاقتور بھی تھے اور جنگ کے جھمیلوں سے بھی آزاد تھے وہ ”وو“ سے اتحاد کرکے ”وی“ سے الگ ہوگیا تھا اور دوسرے محاذوں پر لڑنے کے دردِسر سے بچ گیا تھا۔ اس لئے اسے پرامن کا ماحول ملنے کی وجہ سے فوج کو مزید طاقتور بنانے کا سنہری موقع مل گیا تھا‘ اس قسم کی حکمت عملی اختیار کرنے سے اس کے ممالک کی صاف حد بندی اس کی مددگار ہوگئی تھی۔

لیوبی‘ چاؤ سے اتحاد نہ کرتا لیکن وہ (Han) خاندان کا قریبی عزیز تھا اس خاندان کے حکمران تمام چین کے شہنشاہ تھے جو اس کے تابع تھے‘ وہ چین کو اپنے زیردست رکھنے کے ارادے سے شہنشاہ کے نام سے خود فرمان جاری کرتا تھا‘ اس لئے سیاسی سوچ کا تقاضا یہ تھا کہ چاؤ چاؤ کو نظر انداز نہ کیا جائے۔ لیوبی نے فیصلہ کیا کہ اس گھرانے کے مذکورہ حکمران کی آشیر واد بہر صورت حاصل کرے اس لئے کہ یہ شہنشاہ اسی کا ”خون“ ہے۔اس کا سچوان والا علاقہ مغرب کی طرف اور پہاڑی تھا اس لئے اس کیلئے بڑا بچاؤ تھا۔چاؤ چاؤ کو سچوان پر حملہ کرنے سے قبل ”وو“ کو زیر کرنا تھا جو اس کے ملک کے مشرق کی طرف تھا۔

لون لانگ اور ژوگ لیانگ نے جس حکمت عملی کا ذکر کیا تھا‘ وہ دشمن کی طرف سے اختیار کردہ حکمت عملی پر حملہ آور ہونے کی ایک اہم دلیل تھی۔

کوانلن(Kuanlin) کی جنگ:
دشمن کو محض بصیرت سے شکست تسلیم کروانے کا ایک اہم واقعہ اور بھی ہے جو 354ق۔م میں رونما ہوا تھا۔ ان دنوں میں ژاؤ (Zhao) کی راجدھانی ہنڈن(Handan) تھی جواب صوبہ ہیبی(Hebei) میں واقع ہے‘ ملک (Wei)کی راجدھانی‘ دالیانگ(Daliang) میں تھی‘جسے اب (Keifan) کہاجاتا ہے اور وہ ہینان(Henan) صوبے میں واقع ہے‘ ملک کی (QI) کا دارالخلافہ لینزی(Lenzi) تھا‘جسے اب زیبو(Zebo) کہاجاتا ہے اور وہ شن ڈانگ(Shandong) صوبے میں واقع ہے۔
وی کا فوجی حکمران جنرل پنگ جیان(Pang Juan) ایک لاکھ فوج لے کر ژاؤ (Zhao) کے دارالخلافہ ’ہندن‘ پر حملہ آور ہوا۔ ژاؤ نے مدد کیلئے اپنا نمائندہ کی‘ کی طرف بھجوایا کی‘ کے حکمران نے ژاؤ کے قاصد کی خبریں سن کر صلاح ومشورے کیلئے فوجی جرنیلوں اور دیگر اہم عہدیداروں کو اپنے پاس بلوایا تاکہ اس پر سوچا جاسکے کہ ژاؤ کو کس طرح بچایا جائے؟ اس پر جنرل تی جے(Tie Ji) نے کہا کہ اسے ایک لاکھ فوج دے دی جائے تو وہ ژاؤ کو بچاسکتا ہے اس پر کی‘ کے عسکری مشیر پنگ بن(Ping Bin) نے اعتراض کیا اور کہا کہ ژاؤ کو بچانے کا صحیح طریقہ وی کی راجدھانی پر حملہ ہے‘ اس نے مزید بتایا کہ وی کی اہم فوج ہنڈن کا گھیراؤ کرکے بیٹھی ہے اور اس کے دارالخلافہ کو بچانے کیلئے پیچھے کوئی لمحہ ہی باقی نہیں ہے اگر ان کے مشورے کے مطابق دلیانگ پر حملہ کیا جائے گا تو وی کے حکمران کے لئے دلیانگ کو بچانے کیلئے اپنے جنرل پنگ جیان کو پیچھے بلانا پڑے گا اور بغیر کسی خون خرابے کے پنگ جیان‘ ہنڈن کا گھیراؤ ختم کرکے پیچھے ہٹ جائے گا اس صورت میں کی‘ کی فوج‘ پنگ جیان کی پیچھے ہٹتی ہوئی فوج کو گھات لگا کرباآسانی شکست دے سکتی ہے۔ اس جنگ کوکوانلن کی جنگ کہاجاتا ہے‘ اس واقعے سے معلوم ہوگا کہ جنرل تین جے نے اپنی فوجی قوت کے ذریعے ژاؤ کی جان چھڑانے کا سوچا تھا لیکن پنگ بن کامنصوبہ اسے عقلمندی سے شکست دینا تھا۔

منگ تیاؤ کی جنگ:
1763 قبل مسیح میں یی ینگ(Yi Ying) نے نفع ونقصان کا اچھی طرح اندازہ لگا کے اپنی خاص جنگی حکمت عملی کے فن سے دشمن کو شکست دی تھی۔ یہ شخص سنگ تنگ (Sang Tung) کا اہم فوجی عملدار تھا جسے اھ ہینگ(Ah hang) کا خطاب دیا گیا تھا‘ یہ لقب وزیراعظم اور فوج کے چیف آف اسٹاف کے برابر ہے۔ لی ینگ نے سنگ تنگ کو مشورہ دیا تھا کہ ژیاجے(Xia Jie) کو خراج نہ دے۔ اس سے مرادیہ تھی کہ اس حکمران کو طاقت کا پتہ چل جائے کہ وہ لوگوں میں کتنا مقبول ہے۔ سنگ تنگ نے لی ینگ کا مشورہ مان کر اس سال ژیاجے کو خراج نہیں دیا۔ سنگ تنگ کے خراج ادا نہ کرنے پر یہ حکمران آگ بگولہ ہوگیا اور ایک بریگیڈ اس کی طرف روانہ کی جو 9 قبائل پر مشتمل تھی۔ لی ینگ نے دیکھا کہ ”ژیاجے“ عوام میں بہت مقبول ہے اس لئے سنگ تنگ کوخراج دینے اور اس سے معافی لینے کا مشورہ بھی دیا۔

دوسرے برس بھی سنگ تانگ نے ژیاجے کو خراج دینے سے انکار کردیا۔ ژیاجے نے سنگ تیانگ کی طرف سے خراج ادا کرنے سے انکار پر 9 قبائل پر مشتمل فوج اس پر حملے کیلئے بھجوانی چاہی لیکن اس موقع پر تمام 9 قبائل نے اس سے انکار کردیا اور کہا کہ ہم غریب ہیں ژیاجے جیسا کہ ان قبائل کو ہر سال حملے کیلئے بھجواتا تھا اس لئے فوجی تھک چکے تھے فقط تین قبائل حملے کیلئے تیار تھے۔ اس پر یی ینگ نے سنگ تنگ کو کہا کہ ’ژیا جے‘ اب اپنی مقبولیت اور فوجی قوت گنوا بیٹھا ہے‘ اس کی مختصر فوج کے حوصلے پست ہو چکے ہیں اور ’ژیاجے‘ کی فوج کو للکارنے کا یہی بہترین موقع ہے۔ سنگ تنگ نے یی ینگ کا مشورہ قبول کرتے ہوئے دوسرے حکمرانوں کی امدادی افواج لے کر اینی(Anyi)کے منگ تیاؤ علاقے علاقے میں اچانک ژیاجے پر حملہ کر دیا اور اسے شکست دے دی۔ تاریخ میں اسے ’منگ تیاؤ کی جنگ‘ کہا جاتا ہے۔ یہ جنگ بہترین موقعہ تاڑنے کی انوکھی جنگ تھی۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔