جنگی حکمتِ عملی | قسط 13 – جاسوسوں کا استعمال

34

دی بلوچستان پوسٹ کتابی سلسلہ
جنگی حکمتِ عملی اور اُس کا تحقیقی جائزہ

مصنف: سَن زُو
ترجمہ: عابد میر | نظرِثانی: ننگر چنا

قسط 13 | چھٹا باب – جاسوسوں کا استعمال

سن زو کی کتاب ”جنگی فن“ میں جاسوسوں کے استعمال کا باب آخر میں دیا گیا ہے‘ اس باب میں جنگ کے دوران جاسوسوں کے استعمال کی اہمیت پر بہت زور دیا گیا ہے۔ جاسوسوں کے استعمال کا مقصد ہے دشمن سے خبردار رہنا۔ یہ اصول سن زو کے اس تصور کی حمایت کرتا ہے کہ ”دشمن کو اچھی طرح جانچیں پرکھیں اور اپنی قوت کا بھی جائزہ لیں۔ اس طریقے سے آپ ناقابل شکست بن جائیں گے۔“ ہمیں یہاں یہ دیکھنا ہے کہ سن زو نے اس موضوع پر کس طرح سے بحث کی ہے۔

جاسوسوں کے استعمال کے باب میں سن زو کہتا ہے کہ ”ایک عقلمند حکمران اور مخلص فوجی جنرل دشمن پر حملہ کرکے فتح حاصل کرتے ہیں اور ان کی کامیابیاں عام لوگوں کی کامیابیوں سے زیادہ اعلیٰ اور افضل ہوتی ہیں‘ اس کا سبب یہ ہے کہ ان میں صحیح پیشنگوئی کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے ایسی پیشنگوئی کی قوت اور روحوں اور دیوتاؤں سے حاصل نہیں کی جاسکتی اور نہ ہی علم نجوم کے ذریعے حاصل ہوتی ہے‘ ایسی باتیں فقط ان لوگوں سے معلوم کرکے پیشنگوئیاں کی جاسکتی ہیں جنہیں دشمن کے سر سے پاؤں تک‘ اس کا علم ہوتا ہے۔“

قدیم زمانے میں ”ششنگ“ گھرانے کا درجہ کمال پر پہنچنا”یی ژی“(Yi zhi) کی وجہ سے تھا جس نے اپنی ساری عمر ایکسیا(Xia) کی نوکری میں گزار دی تھی۔”چو“(Zhou) گھرانے کا کمال”لویا“(Luya) کی جدوجہد کا نتیجہ تھا۔ جو ین(Yin) حکمران کا فوجی جنرل تھا اس لئے کہا جاسکتا ہے کہ دانشمند حکمران اور مخلص فوجی جرنیل‘ جن میں عقلمند لوگوں کو بطور جاسوس منتخب کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے‘ وہ ضرور بڑی کامیابیاں حاصل کر پاتے ہیں۔

جاسوسوں کی پانچ اقسام ہوتی ہیں:
1۔ ملکی جاسوس۔ 2۔ اندرونی جاسوس۔ 3۔ دہرے کردار کے حامل جاسوس۔ 4۔ افواہ پھیلانے والے جاسوس اور۔ 5۔ بچ کر آنے والے جاسوس۔
جب پانچوں قسم کے جاسوس چوری چھپے اپنے‘ اپنے فرائض منصبی کی ادائیگی میں ایمانداری سے مصروف عمل ہوتے ہیں تو انہیں سلیقے سے چلنے والا فطری رابطہ کہا جاتا ہے جو کسی حکمران کے لئے انمول خزانے کی حیثیت رکھتا ہے۔

ایک حکمران کو پانچوں قسم کے جاسوسوں کی مکمل کارکردگی سے متعلق اچھی طرح علم ہونا ضروری ہے اس کے دوستوں کے سارے ماحول کے علم کا دارومدار ”دہر ے کردار“ کے حامل جاسوس پر ہوتا ہے اس لئے اس کے ساتھ اچھا برتاؤ لازمی تصور کیا جاتا ہے۔ فوج میں کمانڈر سے زیادہ قربت رکھنے والے جاسوس کی کارکردگی کو خفیہ رکھا جاتا ہے۔

سن زو کی کتاب ”جنگی فن“ کی خاص خوبی یہ بھی ہے کہ اس نے جنگی حکمت عملی اور جنگی چال کی حقیقتیں اپنے عملی جنگی تجربات کومد نظر رکھ کر اور دشمن کے جنگی ماحول کی معلومات کی بنیاد پر لکھی ہیں‘ اس کیلئے جاسوسی اطلاع حاصل کرنے کا تصور یا دشمن کو جنگی ماحول سے باخبر لوگوں کو بے انتہا اہمیت دینا نہایت ضروری ہوتا تھا‘ وہ دشمن سے متعلق معلومات حاصل کرنے کیلئے بہت زیادہ وسائل استعمال کرتا تھا‘ وہ اس بات کا بھی قائل نہیں تھا کہ کوئی دشمن سے متعلق اطلاع روحوں یا دیوتاؤں سے حاصل کی جاسکتی ہے‘ اسے اس بات سے بھی چڑتھی کہ ماضی کے ایک جیسے واقعات یا علم نجوم کے ذریعے بنائی گئی جنگی حکمت عملیوں سے بھی اچھی اور صحیح معلومات مل سکتی ہے۔

سن زو بتاتا ہے کہ ”ملکی جاسوس وہ ہیں‘ جن کا دشمن ملک سے تعلق ہوتا ہے اور انہیں ہم معاوضہ دے کر رکھتے ہیں‘ اندرونی جاسوس دشمن فوج کے اہلکار ہوتے ہیں جو ہمارے لئے کام کرتے ہیں‘ دہرے کردار کے حامل جاسوس دشمن کی طرف سے مقرر کردہ جاسوس ہوتے ہیں جنہیں لالچ دے کر ہم استعمال کرتے ہیں‘ افواہیں پھیلانے والے جاسوس ہمارے مقررکردہ اپنے لوگ ہوتے ہیں جنہیں جھوٹی اطلاعات مہیا کی جاتی ہیں جنہیں وہ دشمن فوج میں پھیلا دیتے ہیں‘ بچ جانے والے جاسوس وہ ہیں جو دشمن کے ہاں سے خیریت کے ساتھ واپس آکر ہمیں ضروری اطلاع پہنچاتے ہیں جب تمام قسموں کے جاسوس مل کر کام کرتے ہیں تو دشمن کو سانس لینے کی مہلت بھی نہیں ملتی۔“

مطلوبہ معلومات جمع کرنے کے بارے میں سن زو کا نقطہ نظر یہ ہے کہ ”اگر آپ فوج پر حملہ کرنا چاہتے ہیں کسی شہر پر یلغار کرنے کی خواہش رکھتے ہیں یا کچھ لوگوں کو قتل کروانا چاہتے ہیں تو اس حالت میں قلعہ کے اندر رہنے والی فوج کے اہلکاروں پھاٹک کے پہریداروں فوجی اہلکاروں کے ذاتی محافظوں کی تصیح کریں۔“ لیکن اس سے وہ یہ بات بھول جاتا ہے کہ دشمن کی رہائش کی جگہ کی معلومات مردم شماری فوج کے استعمال کیلئے ضروری اشیاء کو محفوظ رکھنے والے مقامات‘ جاسوسی کے دائرے میں آجاتے ہیں۔

جاسوسی کی تاریخ
جن لوگوں کو چین اور دنیا کے دیگر ممالک کی جنگوں کی تاریخ سے متعلق معلومات ہوں گی وہ اس حقیقت سے پوری طرح باخبر ہوں گے کہ جنگ لڑنے کیلئے جاسوس نہایت اہم ہیں‘ اس میں کسی شک وشبہے کی گنجائش نہیں ہے قدیم دور میں جاسوسی کے طریقے بھی پرانے تھے جو اب نہایت پیچیدہ صورت اختیار کر گئے ہیں‘ موجودہ دور ٹیکنالوجی کا حامل ایک سلجھا ہوا اور ترقی یافتہ دور ہے اس لئے ہم جاسوسی کیلئے بھی جدید طریقے استعمال کرتے ہیں جس میں سیٹلائٹ کا طریقہ بھی استعمال کیا جارہا ہے‘ اس کے باوجود بھی ملکوں کی خفیہ معلومات جمع کرنے کیلئے آج بھی جاسوسی کو اہم مقام حاصل ہے‘ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جاسوسی کی بنیادی شکل سن زو کے قدیم دور سے مختلف نہیں ہے جو آج سے 2 ہزار برس اور کچھ عرصہ قبل گزرا ہے۔ ذیل میں کچھ مثالیں دی جاتی ہیں جس میں قدیم اور موجودہ دور کے ملکی جاسوسوں کا احوال دیا جارہا ہے:

چواور ہن(Chu And Han) میں جاری جنگ:
”چو“ اور ”ہن“ کے مابین جاری جنگ کے دوران‘ چو‘کی فوج میں ”فن ژین“ نامی ایک اعلیٰ اہلکار ہوتا تھا جو ہر مسئلے کو نرمی کے ساتھ حل کرنے کیلئے مشہور تھا اس لئے چو کا حکمران ”چیانگ یو“ اس کی بہت عزت کرتا تھا‘ بادشاہ کے دربار سے وابستہ مشیر ژینگ لیانگ(Zhang Liang) اور چین لنگ اس سے بہت ڈرتے تھے کیونکہ وہ جنگی منصوبہ بندی کا ’مہا عالم‘ تھا۔

چین پنگ کو پتہ تھا کہ چیانگ یوشکی ذہن کا مالک ہے اس لئے اس نے دونوں فریقین میں جاری جنگ کے دوران ایک شاندار منصوبہ تیار کیا‘ اس نے قاصد کے ذریعے فن ژین کی جانب بعض تحائف اور اس کے بھتیجے فن شے کی طرف سے ایک جعلی خط بھیجا۔

اس جعلی خط میں فن شے نے اپنے چچا فن ژین کو لکھا تھا کہ وہ ”ہن“ کے حکمران بونگ کے ہان مشیر کے طور پر کام کررہا ہے‘ اس نے یہ بھی لکھا تھا کہ لیوبونگ ایک سخی اور کھلے ذہن کا مالک ہے اس لئے وہ اس کی نوکری میں بے حد خوش ہے۔ قاصد جان بوجھ کر اس وقت ”چو“ کے فوجی کیمپ میں گیا جب فن ژین موجود نہ تھا‘ اس لئے اس نے جعلی خط اور تحائف جا کر فوجی کیمپ کے سنتری کو دے دیئے جس نے پھر یہ چیزیں ضروری سمجھ کر سیدھا جاکر بادشاہ چیانگ یو‘ کو دے دیں‘ بادشاہ یہ خط پڑھ کر شک میں پڑگیا۔ فن ژین واپس آگیا۔
بادشاہ چیانگ یو نے اس سے پوچھا ”کیا فن شے تمہارا بھتیجا ہے؟“
جس پر اس نے اعتراف کیا اور اسے مزید بتایا کہ اس کا وہ بھتیجا فن شے تو بچپن میں ہی مرچکا ہے‘ یہ بات سن کر چیانگ یو کو مزید شک ہوگیا کہ فن ژین‘ لیوبونگ سے مل گیا ہے۔
اگلے برس لیویونگ اور چیانگ یو کے نمائندوں‘ دونوں فریقین نے معاہدے کی باتیں کیں‘ جب چیانگ یو کا نمائندہ ”ہن“ پہنچا تو چین پنگ نے اس کے ساتھ ڈھونگ کرتے ہوئے کہا کہ اسے فن ژین سے متعلق پتہ چلا ہے کہ وہ دونوں کی باتوں اور معاہدہ کرنے پر راضی نہیں ہے اور اس نے چیانگ یو کے نمائندوں کو یہ بھی بتایا کہ شاید لیویونگ نے فن ژین کے احترام کی وجہ سے دعوت کا اہتمام کیا تھا جو اس نے اس کے نہ آنے کی وجہ سے ختم کردیا ہے‘جب چیانگ یو کو اس واقعہ کا پتہ چلا تو اس کا فن ژین پر شک مزید بڑھ گیا‘ اس کے بعد وہ فن زین کا کوئی مشورہ نہیں سنتا تھا اور ان دونوں کے مابین تعلقات مزید خراب ہوتے چلے گئے۔

اس کے بعد فن ژین کو استعفیٰ دینے پر مجبور کردیا گیا جو اپنے شہر واپس آتے ہوئے راستے میں وفات پاگیا۔ آخری وقت تک اسے یہ پتہ نہیں تھا کہ بادشاہ چیانگ اس پر کیونکر غصہ ہے‘ یوں بادشاہ چیانگ یو اور فن ژین کو لڑا کر ایک دوسرے سے الگ کرنے  کا منصوبہ کامیاب رہا۔

تین بادشاہوں کے زمانے میں ”وو“ کے بادشاہ ”چاؤیو“ نے بھی یہی منصوبہ تیار کیا جس کے نتیجے میں بادشاہ ”چاؤ‘ چاؤ“ نے اپنے دو سپہ ایڈمرل یانگ اور چئنگ کو قتل کردیا‘ ان دونوں لوگوں کے قتل ہوجانے کے بعد چاؤ چاؤ نے چی بے کی جنگ میں شکست کھائی تھی۔

ہٹلر کی طرف سے روسی جاسوسوں کا جھوٹی افواہیں پھیلانا:
دوسری عالمی جنگ کے دوران ہٹلر کے جاسوسی اہلکاروں نے ایک جھوٹی اطلاع دے کر روسی جنرل توہا‘ چیوسکی کے خلاف غداری کا مقدمہ قائم کرنے کی کوشش کی تھی‘ سوویت روس کی ریڈ آرمی کے جرمن جاسوس نے ایک جھوٹی اطلاع بھیجی تھی۔ جھوٹی اطلاع دینے والے ذریعے نے اس پر یہ الزام لگایا تھا کہ وہ جرمنی کیلئے کام کررہا ہے‘ اور طاقت کے ذریعے اسٹالن کی قیادت کو ختم کرنے کی کوشش کررہا ہے‘ جرمنی میں موجود روسی جاسوس نے یہ خفیہ اطلاع لاکھوں روبل دے کر حاصل کی تھی۔

اس اطلاع کے مطابق سپریم کمانڈ کو روس کاغدار سمجھا گیا‘ نتیجے کے طور پر نہ صرف جنرل توہان چیوسکی کو گولی مار کر ہلاک کردیا گیا بلکہ دیگر کئی جنرلوں کو بھی مجرم قرار دیا گیا‘ یہی وجہ تھی کہ جنگ کے ابتدائی دور میں روس نے جرمنی کے ہاتھوں شکست کھائی۔

نتیجہ:
مقامی اور دہرے کردار کے حامل جاسوس دشمن کے خلاف استعمال کرنے کے نقطہ نظر سے بہت اہم ہوتے ہیں اگر انہیں صحیح معنوں میں استعمال کیا جائے گا تو دشمن فوج میں اتحاد ختم ہوجائے گا اور وہ انتشار کا شکار ہوجائے گی‘ اگر دشمن کی صفوں میں اندرونی انتشار بڑھے گا تو وہ خود ہی بے ہتھیار ہوجائیں گے۔

جاسوسی کے استعمال کو نہایت خفیہ رکھا جائے‘ جاسوسوں کو ہمیشہ ہوشیار اور ہر کٹھن مسئلے کا مردانہ وار سامنا کرنا چاہئے اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو دشمن فریق انہیں دہرے کردار کے حامل جاسوسوں کے ذریعے ٹھگ لے گا۔

جاسوسوں کوکھلے دل سے انعام و اکرام سے نوازنا چاہئے اور ان کے کام پر داد دینے میں کنجوسی سے کام نہیں لینا چاہئے۔ جاسوسوں کواستعمال کرتے ہوئے بہادری سے کام لیا جائے ان کے کام کے دائرے اور کارکردگی کو محدود نہ رکھا جائے۔ جاسوسوں کے لئے یہ بات نہایت ضروری ہے کہ جس کام کیلئے انہیں مقرر کیا گیا ہو اس کی تکمیل کیلئے انہیں ایڑی چوٹی کا زور لگانا چاہئے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔