ایک استاد ایک بھائی حئی بلوچ – ثاقبہ بلوچ

128

ایک استاد ایک بھائی حئی بلوچ

تحریر: ثاقبہ بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

ہم سے تو جدا ہوئے اسے سات سال ہوگئے مگر آج بھی امی کسی کو پکارتی ہے تو لب پہ حیّو نام آجاتا ہے، حیّو کے ساتھ میرے بہت ہی عمدہ مگر کم وقت بیتے، جو مجھ جیسے نا علم کے لیئے ناکافی ہیں۔

میں تو حئی جیسے ماہر استاد کی راہ اب تک تکتی ہوں، میں اب بھی اس سے سیکھنا چاہتی ہوں، آج بھی اس کے خلوص بھرے کندھوں پہ سر رکھ کر شہداء کے ارمانوں کی کہانیاں سننا چاہتی ہوں۔ میں اب بھی چاہتی ہوں کہ وہ آکر کچھ کہے اور میں اس پر عمل کروں، وہ انقلاب کا درس دے میں خاموشی سے اس کے سراہنے بیٹھ کر اس کو سنتی جاؤں۔

سوچتی ہوں حئی جیسا استاد ہم سے جدا نہ ہو تے تو آج ہم اپنے ہر کام کو ایک منفرد انداز میں انجام دے سکتے تھے، اس کی قابلیت و بہادری سے مستفید ہوکر ایک نئے راستے کا تعین کرتے، وہ راستہ جس پہ عمل کرکے اس کے ارمانوں کو پایہ تکمیل تک پہنچا سکتے۔

حئی میں جانتی ہوں کہ یہ الفاظ بہت کم ہیں، میرے بس میں نہیں کہ میں آپ کے کردار کو اپنے قلم سے بیان کرسکوں لیکن دل کے ارمان اور تیرے خلوص کو کھینچنے کی کوشش ضرور کرونگی، اگر وہ صفات بیان نہ کر سکوں جس سے تمارے جہد کی تعریف میں کچھ کمی رہ جائے تو بشخداری۔

وہ لفظ نہیں میرے پاس کہ حئی کی بہادری، مہر و محبت کو بیان کروں، کبھی انسان اپنے احساس کو قلم سے بیان نہیں کرسکتا لکھتے لکھتے جب خیال آئے کہ اب آپ مجھ سے دور ہیں، اب میں آپ سے کلام نہیں کرسکتی۔ مجھے یاد ہے آپ سے وہ ملاقات جب آپ اور میں سردیوں کے موسم میں آگ کے پاس بیٹھ کر باتیں کر کے ہنس رہے تھے مگر مجھے کیا معلوم کہ اگلے کچھ لمحوں میں میری یہ ہنسی غم میں بدلنے والی ہے۔ لیکن آج بھی ان غموں کے سہارے میں اس آگ کے ساتھ بیٹھ کر تجھ سے باتیں کرتی ہوں تجھ سے اپنا خلوص بیان کر سکتی ہوں۔

میں اور حئی اسکی شادی کے بارے میں بات کر رہے تھے کہ اچانک مجھے میری بہن کی آواز آئی، اس کی آواز سنتے ہی میں باہر آگئی۔ باہر آتے ہی نہ جانے کیوں مجھے باہر کا موسم اور ہلکی ہلکی بارش کی بوندیں اداس محسوس ہونے لگے اور یوں لگا جیسے میں نے کچھ کھودیا، میں حئی سے رخصت نہیں کرپائی اور کچھ لمحے گزرنے کے بعد لرزتے پیروں کے ساتھ جب میں گھر میں داخل ہوگئی تو ایک میت کے پاس لوگوں کا ہجوم دیکھ کر میں گھبرا گئی، پتہ چلا کہ ابو پاکستانی خفیہ اداروں کے اہلکاروں کے ہاتھوں شہید ہوگئے ہیں.

اس کے بعد حئی سے صرف دو بار ملاقات ہوئی، مگر بہت کم وقت کے لیئے، میں سوچتی ہوں حئی جیسا استاد ہم سے جدا نہ ہوتے تو آج میں اپنے ہر کام کو ایک منفرد انداز میں کرسکتی۔

حئی سے ایک سال تک رابطہ منقطع ہوتے وقت ہر لمحے میرا دل بکھر جاتا، آنکھیں نم ہوتے ہی میں آنسو پی جاتی اور دل سکون چاہنے کی آس رکھتے ہوئے بس سوچوں میں گم جاتی، حئی اپنے شہید ہونے سے پہلے ہی ہم سے جدا ہوکر بولان کے پہاڑوں میں دشمن کی ہر گھڑی انتظار میں رہتے، دشمن کی نیندیں حرام کرکے وہ حلال زادہ ہونے کا ثبوت دے رہا تھا۔

جب ایک سال بعد 2014 کو پتہ چلا کہ حئی ہم سے جدا ہوگئے، تب دل نے اس بات کو ماننے سے انکار کر دیا اور آج بھی دل یہ ماننے کے لئے تیار نہیں ہم تو آج بھی اسے پہاڑوں میں تصور کرتے ہیں۔

آج دشمن کو بے چین و بے سکون دیکھ کر راحت محسوس کرتی ہوں کہ حیّو کی زندگی کتنی قیمتی راہ میں قربان ہوئی کہ جس کا دشمن اس کی شہادت کے بعد بھی نیست و نابود دکھائی دے رہا ہے۔ حیّو پُھل کا وہ قول کہ اس قوم کو اب بارود کی گونج سے نیند سے بیدار کرنا ہے اور اس نے وہی اپنا قول پورا کرکے بلوچ قوم کے آنے والے نسلوں تک امر ہوگئے۔

حئی اپنے نام کے مطلب کی طرح ہمیشہ زندہ ہے، نہ صرف ہماری دلوں میں بلکہ تاریخ کے پنوں میں اس کے بہادری کے قصے ہماری آنے والی نسلوں کے لئے مشعلِ راہ ہیں، آج بھی جب دشمن کی طرف چلنے والے ہر گولی کی آواز میں حیّو کے ہَکل کی آواز گونج اٹھتا ہے، جیسے کوئی آسمانی بجلی کڑک کے کسی پہاڑ کو ریزہ ریزہ کرتی ہو، حیّو دشمن پر اسی آسمانی بجلی کی مترادف حملہ آوار ہوکر فتح یاب ہوگیا۔

ماں کی وہ درد بھری آواز میں دشمن کو للکارنے والے وہ الفاظ ” یاد تخیس کنے ہم دلیر او مَلً ارے” کو عملی جامہ پہناکر سرزمین کی آغوش میں میٹھی نیند پورا کر رہا ہے۔

حیّو لمہ وطن کا حق ادا تو کردیا، ساتھ ساتھ لمہ جان کے بھی سینے کو مزید چوڑا رکھا کہ حیّو کی صورت میں ہمیشہ دلیر ورنا دشمن پر کاری ضرب کی طرح وار کرتے رہیں گے۔

حئی کے ساتھ ساتھ امیر، دلجان، سمیع، امتیاز، عرفان، بارگ، اور کئی ایسے بہادر نوجوان آج ہمارے پاس نہیں مگر ان کی سوچ ہمارے ساتھ ہیں اور ان کا راستہ ہی مشعلِ راہ ہے۔

آج بھی نوجوان ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے جان کا نذرانہ پیش کررہے ہیں، آج بھی لوگ حیّو کے قلو “پیغام” پر عمل کررہے ہیں، جسے حیّو نے اپنی شہادت سے قبل کہا تھا “آزادی کی جنگ میں جب تک بندوق کی آواز زندہ ہے سمجھنا میں زندہ ہوں” عمل کر کے آزادی کی جنگ میں بندوق کی آواز زندہ رکھے ہوئے ہیں، حئی ہر وہ گولی کی گونج میں محسوس ہوتی ہے، جو دشمن کا سینہ پار کرے، آج بھی پہاڑوں میں میرے نوجوان بھائی دشمن کا ڈٹ کر مقابلہ کررہے ہیں۔

بولان، شور و پارو کے اطراف سے جب بھی ہوائیں چلتی ہیں تو حیّو کی مہکتی خوشبو مجھے سکون فراہم کرتی ہیں کہ میں نے صرف جسمانی طور پر ایک بھائی کھویا لیکن تا ابد وہ میری آنکھوں کا ٹھنڈک بن کر میرے سکون کا ذریعہ بنا.

حئی سنائی دیتی رہیگی جب تک مظلوم قوم کی غیرت مند نوجوان اپنی دھرتی کی دفاع میں دشمن کو نیست و نابود کرنے گولی چلائنیگے۔

نثار تا ابد رہیگا


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔