گلزار ایک بے گناہ کے قاتل کو چند بندوقوں کیلئے پناہ دے رہا ہے ۔ بی آر اے

196

بلوچ ریپبلکن آرمی کے ترجمان سرباز بلوچ نے میڈیا کو جاری بیان میں کہا ہے کہ 31 اگست کو کیچ کے علاقے تمپ ملک آباد کے قریب محمد جان ولد حسن کو کچھ افراد نے اغوا کر لیا اور رہائی کے بدلے میں زیورات کا مطالبہ کیا۔ محمد جان کے لواحقین نے اپنے پیارے کی بازیابی کیلئے فوری طور پر زیورات اغوا کاروں کو پہنچا دیئے جبکہ دوسری دن اس کی لاش برآمد ہوئی۔

علاقہ مکینوں نے بی آر اے مرکزی نمائندوں سے رابطہ کر کے ایک کیمپ کمانڈر کندن پر شبے کا اظہار کیا جس کے بعد تنظیم کے ایک سینئر رہنما کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دے کر ان کو اس معاملے کی تحقیقات کی ذمہ داری سونپی گئی تحقیقات میں مذکورہ کیمپ کے دو ارکان کمبر اور آزاد سے تحقیقات کی گئی جس سے تقریباً ثابت ہوگیا کہ کمبر اور آزاد سمیت کیمپ کے کمانڈر کندن کیمپ ساتھی واحد اور ودار نے مل کر محمد کو چند زیورات کیلئے بے گناہ قتل کیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ کمیٹی کی سفارشات لیکر کمیٹی کا سربراہ کندن سے ملنے کیلئے جارہا تھا مگر کندن پہلے ہی فرار ہوکر گلزار کے پاس چلا گیا اور گلزار اب ایک بے گناہ کے قاتل کو چند بندوق کیلئے پناہ دے رہا ہے۔ تنظیم گلزار کے اتحادی تنظیموں کو بھی آگاہ کرتی ہے کہ گلزار ایسے عناصر کی پشت پناہی کررہا ہے جوکہ چند تولہ زیورات کے لیئے بے گناہ لوگوں کو قتل کررہے ہیں۔

سرباز بلوچ نے مزید کہا ہے کہ کندن اور اس کے چار ساتھی جو اس گھناؤنی عمل میں ملوث ہیں گلزار کا انہیں پناہ دینا تحریک کیلئے انتہاہی نقصاندہ عمل ہے اس سے تحریک میں غلط رحجانات پیدا ہونگے اور جرائم پیشہ عناصر کی حوصلہ افزائی ہوگی جس کے نتیجے میں عوام تحریک سے بدظن ہونگے، بی ار اے ایسے عناصر کو کسی صورت معاف نہیں کریگی چاہے وہ کسی کے بھی پناہ میں کیوں نہ ہو کیونکہ تنظیم کے جہد کاروں کے ہاتھوں میں ہتھیار اس قوم کی دفاع کیلئے دی گئی ہیں اگر اسی بندوق کی طاقت کو عام لوگوں کو قتل کرنے اور لوٹ مار کیلئے استعمال کرینگے تو تنظیم ایسے عناصر کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائے گی۔