فرق اور فرض – شانتل بلوچ

139

فرق اور فرض

تحریر: شانتل بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

روز مرہ کی طرح میں کالج جانے کی تیاری میں لگی تھی، اچانک سہیلی نے فون کیا کہ آج کالج نہیں آونگی، تم میری کتابیں لائبریری سے اٹھا لینا۔

میں فون رکھتے ہی پھر سے تیاری میں لگ گئی، وین کی انتظار میں تھی کہ پڑوسیوں کی چند لڑ کیاں پاس سے گذریں، جو مجھے عجیب نظروں سے دیکھ رہے تھے، جیسے وہ شرما رہے ہوں. مجھے دیکھتے دیکھتے گزر گئے .لیکن میں کچھ سمجھ نہیں رہی تھی کہ آخر کیوں یہ لوگ مجھے دیکھ رہے ہیں، میں واپس ہوئی، یہی سوچتے سوچتے کہ آخر کچھ تو ضرور ھے۔

گھر آکر امی سے کہنے لگی امی آج میں کیسے لگ رہی ہوں، صبح جاتے یوے صباء کے گھر والے مجھےبہت گھور رہے تھے، امی نے سن تو لیا میری بات، پر کوئی خاص وجہ نہیں بتا سکے. دو مہینے کہ بعد اس گھر میں کوئی واقعہ ہوا، امی نے مجھے اپنے ساتھ جانے کو کہا، پہلے تو میں نے جانے سے انکار کر لیا، امی کے تھوڑے ڈانٹ کے بعد جانے کیلئےراضی ہوگئی، کیونکہ میں اس بات سے حیران تھی کہ مجھے کیوں گھورتے ہیں.

جب ہم اس گھر میں پہنچے تو کچھ چیزیں ادھر ادھر بکھری ہوئی تھیں، تھوڑا سا آگے کچھ کپڑے تار پر جھنڈے کی طرح لٹکے ہوئے تھے، ایک عورت ہمیں دیکھ کر ایک کمرے کا تالا ڈھونڈنے لگی، جلدی سے چابی لیکر آئی اور کمرے کا دروازہ کھولا، پانی چائے پینے کے بعد کچھ باتیں ھونے لگیں، اچانک امی نے پو چھا کہ میری بیٹی نے کہا ہے آپ لوگوں کے گھر کی بیٹیاں اسے غور سے دیکھتے ہیں .

تو وہ عورت بولنے لگی کہ ہم ایک غریب خاندان سے تعلق رکھتے ھیں، ہمارا گھر جلا دیا ہے فوج نے، سونے اور قیمتی چیزیں لوٹ لیا، بھیڑ بکریوں کو بھی مار دیا، جنکے سہارے پل رھے تھے .

اس عورت نے اپنی پوری کہانی سنالی، یہ سنتے سنتے آنسو گر پڑے اور بولنے لگی اس ماحول میں کسی کو احساس نہیں کہ ھم کتنے وقت کی روٹی کھالیتے ھیں اور کیسے گھر چلا رہے ہیں.غربت کی وجہ سے وہ سارے لوگوں کو دیکھتے ہیں.

اسنے یہ بھی بولا کہ میرے بچوں پہ سب ہنستے ھیں کہ انکے پاس اچھے کپڑے نہیں، انکی اچھی تربیت نہیں اور آج اس شہر میں کچھ لوگ ہم پر ہنستے ہیں. یہ حقیقت ہے جب 2 یا 4 عورت ایک ساتھ بیٹھ جاتی ہیں لازم کسی کا مزاق اڑاتے ہیں .

اس طرح کی کمزوریاں، مجبوریوں کو نہیں سمجھ سکتے اور اس طرح کی کمزوریوں کی وجہ سے ہماری بہنیں احساس کمتری میں مبتلا ہو جاتی ہیں.
یہ سب سنتے ہوئے مجھے افسوس بہت ھوا لیکن پھر بھی عجیب محسوس کررھی تھی، جب میں گھر آئی اپنے بھائی سے پو چھا کہ ان پڑوسیوں کے بچوں کو اسکول میں داخل کرلیں، بھائی ہنستے ھوئے بولا اسکول میں کیوں تم ادھر پڑھا لو انکے بچے کو، میں نے کہا اسکول کیوں نھیں؟ بھائی نے جواب دیا کہ اگر فوج کو پتہ چلا کہ یہ اس شھید کے بچے ھیں، تو ان بچوں کو بھی زندہ نھیں چھوڑیں گے۔

تب میں صرف یہ سوچتی تھی کہ فرق کیا ہے اور فرض کیا ہے؟ فرق صرف یہ تھا کہ ہمارے معاشرے میں کوئی مجبوری کو نہیں سمجھتا، فرق یہ تھا کہ یہ لوگ وہ کپڑے پہن نہیں سکتے تھے جو کسی آفیسر کے بچوں نے پہنے ہو، حالانکہ چہرے میں یہ کسی سے کم نہیں تھے اور فرض ہم سب پہ بنتا ہیکہ اپنے معاشرے میں اپنے بلوچ بھائی یا بہن کو اس معاشرے میں خود ایک سگے بہن یا بھائی سمجھ کر کمک کر لیں.

آج اگر ہم بلوچ اس حالت پہ آکے رک گئیں ھیں تو کیوں ہم ایک نہیں ھوتے؟ کیوں ہم اپنے اس ماں یا بہن کو بٹھاکر صفائی کے بارے میں چار الفاظ نھیں بولتے یا کیوں ہم اس بات کو فرض نہیں سمجھتے کہ ہماری وہ بلوچ بچے جو بے گھر ہیں جو آج اس حالت میں اسکول نہیں جا.سکتے انکو فارغ اوقات میں چار الفاظ پڑھالیں جو ہمارے مستقبل میں چمکتے ستارے جیسے ہوں؟.

بلوچ قوم حالت جنگ میں ہیں، لیکن کچھ فرض ہم پہ بنتا ہے کہ ایک دوسرے کو سمجھالیں، ایسا نہ ہو کہ پیٹ پیچھے ایک دوسرے کو بولیں جس کی وجہ سے ہم متاثر ہو جائیں۔

ایک دوسرے سے اکثر ہم یہی کہتے ہیں، جو قوم کو بکیھر نے کی نشانیاں ہیں. ہمارے بھائی اور ابو ایک ساتھ پہاڑوں میں مشکلات کا سامنا کررہے ہیں. کیوں نہ ہم ان کے محنت کو محبت بنالیں ہم بھی ایک دوسرے میں فرق کیوں ڈھونڈتے ہیں، دشمن کی بھی کچھ سازشیں ہیں، انہیں ہم اپنے قوم پر حاوی ہونے نہ دیں بلکہ ہم پوری طرح کوشش کریں کہ جو ہم پہ فرض ہے وہی فرض نبھالیں، ہمارے بھائی اپنے سر پہ کفن باندھ کر چلے ہیں تو ہم کیوں ایک دوسرے میں فرق ڈھونڈتے ہیں.


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔