عالمی ادارے بلوچستان میں انسانی حقوق کے پامالیوں کا نوٹس لیں – ماما قدیر

35

کوئٹہ پریس کلب کے سامنے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کی جانب سے احتجاج کو 3752 دن مکمل ہوگئے۔ انسانی حقوق کے کارکن حوران بلوچ سمیت سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے افراد نے کیمپ کا دورہ کرکے لواحقین سے اظہار یکجہتی کی۔

اس موقعے پر وی بی ایم پی کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے بلوچ سرزمین کو ظلم و بربریت کا آماجگاہ بنایا ہوا ہے، ستر کی دہائی میں بلوچوں کی بستیوں کو بمباری کی گئی اور ان کے گھر جلائے گئے انہیں دربدر کی زندگی گزارنے پر مجبور کیا گیا جبکہ ہزاروں بلوچ پاکستانی قبضہ گیریت کے شکار ہوکر جلاوطنی پر مجبور ہوئے لیکن اقوام متحدہ اور عالمی امن انسانی حقوق کے دعویداروں کے لیے بلوچ قوم کی نسل کشی اور پامالی کی کوئی اہمیت نہیں تھی اسی طرح آج بھی پاکستان نے چھ دہائیوں کے ظلم و جبر کو برقرار رکھا ہوا۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں پاکستانی فورسز بمباری کرکے بلوچ آبادیوں کو ویران کرچکے ہیں، عالمی ادارے خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے جنہیں اسی بلوچستان میں مذہب کے نام پر پاکستان کی پھیلائی ہوئی کشت و خون تو نظر آتی ہے لیکن بلوچ قوم کی تیز تر ہوتی نسل کشی اور بلوچ قوم کے خلاف پاکستانی وحشت بلوچ فرزندوں کی اغواء اور تشدد کی خلاف قرار دادوں اور نسل کشی سمیت جنگی قوانین کو پاکستان اپنے پاؤں تلے روند رہا ہے اس سنگین صورتحال میں عالمی برادری اور انسانی حقوق کے اداروں کا کردار ادا نہ کرنا اس خطے سمیت دنیا کے امن اور انسانی حقوق کی قوانین کی حیثیت پر سوالیہ نشان ہیں۔

ماما قدیر بلوچ نے مزید کہا کہ پاکستان جیسے انسانی اقدار اور امن انصاف، انسانی حقوق اور عالمی قوانین کے دعویدار ہیں جسے وہ ہر فورم پر دہراتے ہیں لیکن ان کے تمام دعوؤں کے باوجود آج دنیا میں انسانی حقوق کا حامی متاثرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہیں اور عالمی ادارے اپنے قوانین پر اپنے عزم کا اعادہ کررہے ہیں وہی بلوچ سرزمین پر ہزاروں بلوچ پاکستانی عقوبت خانوں میں پاکستان کی فورسز کے ہاتھوں تشدد کا سامنا کررہے ہیں جس کا احساس کرتے ہوئے امریکہ، برطانیہ سمیت دنیا کے ذمہ دار ممالک اور اقوام متحدہ سمیت عالمی ادارے بلوچ سزمین پر پاکستانی جبر کے خلاف اپنا کردار ادا کریں۔

دریں اثنا انسانی حقوق کے لاپتہ کارکن راشد حسین اور عطا نواز بلوچ سمیت دیگر لاپتہ افراد کی عدم بازیابی کے خلاف کوئٹہ میں ان کے لواحقین کی جانب سے پمفلٹ تقسیم کیے گئے۔

خیال رہے انسانی حقوق کے کارکن راشد حسین کو گذشتہ سال متحدہ عرب امارات سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا، چھ مہینے بعد میڈیا میں دعویٰ کیا گیا کہ انہیں انٹرپول کے ذریعے پاکستان منتقل کیا گیا تاہم ان کے لواحقین کے مطابق راشد حسین کو میڈیا کے دعووں سے قبل غیر قانونی طور پاکستان منتقل کیا گیا اور تاحال لاپتہ ہے۔

علاوہ ازیں بلوچستان میں انسانی حقوق کے لیے سرگرم تنظیم بلوچ ہیومن رائٹس آرگنائزیشن کے مرکزی انفارمیشن سیکرٹری عطا نواز کو دو سال قبل کراچی کے علاقے گلستان جوہر سے سکیورٹی فورسز نے اٹھا کر لاپتہ کردیا تھا لیکن تاحال انہیں منظر عام پہ نہیں لایا گیا۔

راشد حسین کے لواحقین اور بی ایچ آر او کی جانب سے اعلامیے میں کہا گیا کہ کل 22 اکتوبر کو کوئٹہ میں لاپتہ افراد کے لیے احتجاجی ریلی نکالی جائے گی اور پریس کلب کے سامنے مظاہرہ ہوگا۔