حانی بلوچ جبری گمشدگی کیس، وفاقی و صوبائی حکومتوں کو نوٹس جاری

214

سندھ ہائی کورٹ نے لاپتہ بلوچ کے اہلخانہ کی درخواست پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو نوٹس جاری کردیئے۔

حانی بلوچ نے اپنی اور اپنی منگیتر کے جبری گمشدگی کے خلاف درخواست دائر کی ہے، وہ پہلی بلوچ خاتون ہے جن کی جبری گمشدگی کی درخواست عدالت میں آئی ہے۔

درخواست گذار حانی بلوچ کے مطابق نسیم بلوچ، شہید ذالفقار علی بھٹو یونیورسٹی میں قانون کا طالب علم ہے، ماہ رمضان کے دوران 5 مئی کی شام نسیم کو ان کے ایک دوست نے فون کرکے ملاقات کے لیے بلایا، جب وہ باہر گیا تو فورسز کے مسلح اہلکاروں نے اسے حراست میں لے لیا اور بعد میں ڈیفینس ٹو میں واقع گھر لے آئے جہاں پورے گھر کی تلاشی لی گئی لیکن کچھ بھی نہیں ملا۔

آئینی درخواست میں کہا گیا ہے کہ نسیم کے ساتھ درخواست گذار (حانی) کو آنکھوں پر پٹی باندھ کر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا جہاں وہ طیاروں اور گاڑیوں کی آواز سن سکتی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: بلوچستان میں سو سے زائد خواتین لاپتہ ہیں – بی این ایم

حانی بلوچ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ مجھے اور نسیم کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا، بندوق سے مارا گیا، تھپڑ مارے گئے اور کبھی بال کھینچے گئے اور کہا جاتا رہا کہ تم لوگ تسلیم کرو تمہارا تعلق بلوچ مسلح تنظیم بی ایل اے سے ہے۔

حانی بلوچ کا کہنا ہے کہ تشدد کے باوجود ہم انکار کرتے رہے کہ ہمارا تعلق بی ایل اے سے نہیں ہے بلکہ ہم طالب علم ہیں اور آپ کا گورنمنٹ کہتا ہے کہ پڑھو لکھو، قلم کو اٹھاو، ہم نے تو بندوق نہیں اٹھائی بلکہ ہم نے قلم اٹھائی ہے۔

حانی گل کے مطابق نسیم ان سے کہتا رہا کہ میں کسی تنظیم کا رکن نہیں ہوں تو پھر کیوں تسلیم کروں، اگر میں ہوتا تو مجھے پڑھنے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ میں پہاڑوں میں ہوتا اور میں ایک طالب علم ہوں مجھے ان چیزوں سے تعلق ہی نہیں ہے۔

مزید پڑھیں: نور ملک – دی بلوچستان پوسٹ فیچر رپورٹ

حانی کا کہنا ہے 22 جون کو انہیں رات ڈیڈھ بجے اقراء یونیورسٹی کے قریب لاکر چھوڑ دیا گیا اور ساتھ میں دھمکی دی گئی کہ کسی کے ساتھ بات نہیں کروگی جبکہ نسیم چھ مہینے سے حراست میں ہے۔

حانی بلوچ نے اس درخواست میں صوبائی اور وفاقی وزارت داخلہ، آئی جی سندھ، ڈی آئی جی اور ایس ایس پی جنوبی کو فریق بنایا ہے۔

سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس کریم خان آغا کے عدالت میں آج اس درخواست کی پہلی سماعت ہوئی اور عدالت نے 30 اکتوبر تک فریقین سے موقف طلب کرلیا ہے۔