بی این ایم کیجانب سے جنوبی کوریا اور جرمنی میں مظاہرے

100

بلوچ نیشنل موومنٹ کے مرکزی ترجمان نے کہا کہ بلوچستان میں پاکستان کی بربریت اور انسانی حقوق کے سنگین خلاف ورزیوں کے خلاف پارٹی کا عالمی سطح پر آگاہی مہم جاری ہے۔ اس سلسلے میں آج جنوبی کوریا اور جرمنی میں بی این ایم کی جانب سے احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔ یہ مظاہرے پاکستانی فوج کی جانب سے بلوچ خاتون حانی گل بلوچ اور اس کی منگیتر کے اغوا اور حالیہ جھاؤ آپریشن کے خلاف کئے گئے جہاں عوام کو اجتماعی سزا کا نشانہ بناکر سینکڑوں افراد کو اُٹھا کرفوجی کیمپوں میں منتقل کیا گیا۔ ان پر انسانیت سوز تشدد کیا گیا اور اس اذیت رسانی اور ٹارچر کے بعد شدید زخمی حالت میں چھوڑ دیئے گئے۔ زخمیوں کو علاج معالجے کی کوئی سہولت میسر نہیں اور انہیں گھروں سے باہر جانے کی اجازت بھی نہیں۔

ترجمان نے کہا جرمنی کے شہر ہنوفر اور جنوبی کوریا کے شہر بوسان میں مظاہرے کئے گئے۔ مظاہرین نے پلے کارڈ اور بینر اٹھائے ہوئے تھے، جن پر پاکستان کے خلاف نعرے، بلوچ شہدا اور لاپتہ افراد کی تصاویر آویزاں تھیں۔ مظاہرین نے مقامی افراد میں پمفلٹ تقسیم کئے اور انہیں پاکستانی مظالم کے بارے میں آگاہی دی۔

انہوں نے کہا کہ مئی کے مہینے میں کراچی سے پاکستانی فورسز نے حانی گل بلوچ کو اس کے منگیتر محمد نسیم کے ساتھ اغوا اور لاپتہ کیا تھا۔ تین مہینے شدید ذہنی اور جسمانی تشدد کے بعد حانی گل بلوچ کو چھوڑ دیا گیا مگر محمد نسیم ابھی تک پاکستانی فوج کی خفیہ زندانوں میں اذیت برداشت کر رہے ہیں۔ اس طرح کی مظالم بے شمار ہیں مگر شدید خوف اور میڈیا پر پابندی کے باعث ایسی خبریں باہر نہیں آتے ہیں۔ حانی گل بلوچ کی جرات کی وجہ سے یہ خبر سامنے آئی ہے۔ یہ کیس سندھ ہائی کورٹ میں بھی درج ہے مگر بلوچ قوم مسلسل دھوکہ کی وجہ سے پاکستان کے تمام اداروں سے اعتماد وامید کھوچکا ہے۔ بلوچ قوم کی نظریں عالمی اداروں پر مرکوز ہیں کہ وہ پاکستان کی بربریت کے خلاف اقدام اٹھائیں گے۔

ترجمان نے کہا کہ جرمنی اور جنوبی کوریا میں مظاہرین نے بلوچستان کی آزادی، پاکستانی قبضے، کالونیلزم اور فوجی آپریشنوں کے خلاف نعرہ بازی کی۔ حالیہ فوجی آپریشنوں میں جھاؤ آپریشن نہایت شدید نوعیت کا تھا جس میں کئی گاؤں کے تمام مرد حضرات کو بھیڑ بکریوں کی طرح ٹرکوں میں بھر کر فوجی ٹارچر سیلوں میں منتقل کیا گیا۔ حالیہ مظاہروں کا مقصد دنیا کے سامنے پاکستانی مظالم کو آشکار کرنا ہے۔ دنیا کو چاہیئے کہ وہ ان مظالم کے خلاف لب کشائی کرے اور سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر پاکستان کو قانون کے کٹہرے میں لائے۔