آزادی مارچ شرکاء کو روکنا نقصاندہ ہوگا – مولانا غفور حیدری

32

جمعیت علماء اسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل و سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان باعزت طورپر استعفیٰ دیں اور گھر چلے جائیں بصورت دیگر عوام کی طاقت سے انہیں گھر بھیجا جائے گا، جمعیت کے زیراہتمام 27 اکتوبر کو کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی اور بھارتی مظالم کے خلاف ملک بھر میں ریلیاں جبکہ 31 اکتوبر کو کارکنان آزادی مارچ کیلئے اسلام آباد پہنچیں گے، حکومت میں شامل وزراء سابقہ حکومتوں میں بھی تھے جنہیں گالی گلوچ کے علاوہ کچھ نہیں آتا، جمعیت کا دھرنا پرامن ہوگا اور کسی بھی املاک کو نقصان نہیں پہنچایا جائیگا۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے گزشتہ روز جمعیت بلوچستان کے امیر و رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالواسع و دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پرسیکرٹری اطلاعات دلاور خان کاکڑ، رکن صوبائی اسمبلی حاجی محمد نواز کاکڑ، سابق رکن اسمبلی انجینئر عثمان بادینی، سابق وزراء سید مطیع اللہ آغا، سردار یحییٰ خان ناصر، حافظ خلیل اور دیگر بھی موجود تھے۔

مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ 27 اکتوبر کو جمعیت کے کارکنان سڑکوں پر آئے گی جس کے بعد 31 اکتوبر کو آزادی مارچ کیلئے کارکن اسلام آباد کا رخ کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے ملک کا بیڑہ غرق کردیا ہے جمعیت علماء اسلام کے زیراہتمام آزادی مارچ کے سلسلے میں میڈیا پر کوریج کو سنسر کیا جارہا ہے جس کی ہم مذمت کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان آزادی مارچ کے شرکاء کی اسلام آباد پہنچنے سے پہلے استعفیٰ دیکر باعزت طریقے سے گھر چلاجائے بصورت دیگر عوام انہیں اپنی طاقت سے گھر بھیجے گی، کشمیر سے متعلق حکومت صرف مگرمچھ کے آنسو بہارہی ہے، وفاقی کابینہ میں شامل وزراء سابقہ حکومتوں کے حصہ رہ چکے ہیں، آزادی مارچ کے سلسلے میں مسلم لیگ (ن) کی قیادت سے ملاقات ہوئی ہے اور وہ بھرپور ساتھ دینے کیلئے تیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم میاں محمد نواز شریف کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں کہ جنہوں نے آزادی مارچ کی حمایت کردی۔ اس کے علاوہ پاکستان پیپلزپارٹی، پشتونخواملی عوامی پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی کے ساتھ بھی رابطے جاری ہیں، کسی بھی سیاسی جماعت کو آئینی اور جمہوری حق حاصل ہے اوراسی حق کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم آزادی مارچ کرنے جارہے ہیں، ہمارا مارچ اور دھرنا مکمل طور پر پرامن ہوگا اور کسی بھی طرح کے املاک کو نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے آزادی مارچ کے شرکاء کو روکنے کی حماقت کی گئی تو حکومت کیلئے نقصان دہ ثابت ہوگا، حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے کسانوں سے لیکر نوجوانوں، ڈاکٹرز، وکلاء، انجینئرز اور تاجر مجبوراََ سراپا احتجاج بن گئے ہیں، پاکستان بھر کے تاجروں کی جانب سے 28 اور 29 اکتوبر کو مطالبات کے حق میں شٹرڈاؤن ہڑتال اور اسلام آباد میں لاک ڈاؤن کرنے کا اعلان کیا گیا ہے اور آج کوئی بھی حکومتی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر موجودہ صورتحال میں وزیراعظم بضد ہوکر کرسی پر براجمان رہیں گے تو یہ ان کی غلط فہمی ہے غریب عوام دو وقت کی روٹی کیلئے پریشان ہے، معیشت ڈوب گئی ہے اگر اسی طرح چلتا رہا تو عوام مجبوراََ حکومت کو زبردستی گھر بھیج دے گی۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں وزیراعظم کی ملک میں عدم موجودگی کے دوران چیف آف آرمی اسٹاف کی جانب سے تاجروں کو بلایا گیا جس کو سیاست میں مداخلت سمجھتے ہیں اور یہ ان کیلئے اور ملک کیلئے درست نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ چیف آف آرمی اسٹاف ہو یا ملک کا کوئی بھی ادارہ اس نا اہل حکومت اوراس کی ڈوبتی ہوئی کشتی کو بچانے کی بجائے غیر جانبدار رہے، جمعیت علماء اسلام سمیت ملک کے تمام سیاسی و جمہوری جماعتیں اداروں کا احترام کرتی ہیں اداروں کا بھی فرض بنتا ہے کہ ملک کی استحکام کیلئے کردار ادا کریں۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی کارکنوں کو ڈرا کر اور انہیں دھمکیاں دی جاتی ہے جس کے منفی اثرات مرتب ہونگے، جمعیت علماء اسلام کی آزادی مارچ ملک کی استحکام اور جمہوریت کی بحالی کیلئے ہیں لیکن اس کے باوجود اگر جمعیت کے کارکنوں اور قافلوں کو ہراساں یا روکنے کی کوشش کی گئی تو ہم خاموش نہیں رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہم پرامن لوگ ہیں اور پرامن طریقے سے اپنا جمہوری احتجاج ریکارڈ کرارہے ہیں ملک بھر جمعیت علماء اسلام کے زیراہتمام 15 ملین مارچ منعقد کئے گئے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ جمعیت علماء اسلام پرامن سیاسی و جمہوری جماعت ہے، شرپسندی پھیلانے اور کسی بھی طرح کے املاک کو نقصان پہنچانے والے کو گرفتار کیا جائے۔ جمعیت بھرپور ساتھ دیگی۔