آواران کے 120 طلباء کو برطرف کرنا نا انصافی ہے – گورگین بلوچ

86

بی ایس او پجار کے صوبائی صدر گورگین بلوچ نے کہا ہے کہ ضلع آواران کے 120 طلباء کو بلوچستان بورڈ کی طرف سے بغیر وجوہات کے ریسٹیکیٹ کرنا ضلع آواران جیسے پسماندہ علاقے کے طلباء کے ساتھ ناانصافی ہے اور امتحانی عملہ کی نااہلی بدنیتی اور انا پرستی کے زد میں آنے والے طلباء کے ساتھ ہم شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا ضلع آواران پورے بلوچستان کے پسماندہ ترین ضلعوں میں شمار ہوتا تعلیم صحت جیسے بنیادی سہولیات سے محروم ہونے والے علاقے کے طلباء کے ساتھ بلوچستان بورڈ ناانصافی کررہی ہے، ہم نے بارہا بلوچستان حکومت کے اراکین کو اس مسئلے سے آگاہ کیا مگر کوئی شنوائی نہیں ہوئی، متاثرہ طلباء بلوچستان بورڈ کی اس رویہ کی وجہ سے تعلیم ادھورہ چھوڑ کر محنت مزدوری کرنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ تعلیم دان مسلسل اپنی فکر کو طلباء کی فکر میں شامل کرکے نئی شکل دیتا رہتا ہے مگر یہان کے تعلیمی انتظامیہ اپنی انا زد مسئلہ کو سوالیہ نشان بنا کر طلباء پر چھوڑ دیتا ہے اور یہان تفریق پیدا کرنے والے طاقتیں مظلوموں پر ظلم ڈھاتے رہتے ہیں، آواران جیسے پسماندہ غریب مفلس طلباء کے ساتھ ایک ظلم سے کم نہیں اگر بلوچستان بورڈ نے اپنی اس رویہ پر نظر ثانی نہیں کی ہم پورے بلوچستان میں ہڑتال کا جواز رکھتے ہیں اور ہم ضلع آواران کے متاثرہ طلباء کے ساتھ ہمیشہ کھڑے ہیں۔