قلات سے خاتون تین بچوں سمیت فورسز کے ہاتھوں لاپتہ

232

بلوچستان کے ضلع قلات سے پاکستانی فورسز نے ایک شخص کو خاتون اور اس کے تین کم سن بچوں کے ہمراہ حراست میں لیکر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔

خواتین اور بچوں کو اس وقت گرفتار کرکے لاپتہ کیا گیا جب وہ قلات کے نواحی علاقے میں ایک مزار پر منت مانگنے گئے تھیں۔

ذرائع نے ٹی بی پی کو بتایا کہ کوئٹہ سے پیر شاہ کے مزار پر منت مانگنے کے لیے جانے والے حاجی رحیم داد بنگلزئی کے بیٹے عبدالعزیز اور ان کی 35 سالہ بیٹی بی بی سلیمہ کو اس کے تین بچوں،دس سالہ بی بی فریدہ، چار سالہ بی بی جنت، ایک سالہ زبیر احمد کو بس سے اتار کر پاکستانی فورسز کے اہلکاروں نے حراست میں لیکر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔

بلوچستان میں جبری گمشدگیاں سنگین صورتحال اختیار کرچکی ہے جبکہ بلوچ خواتین و بچے بھی ان گمشدگیوں کا شکار ہورہے ہیں۔

ماضی میں بلوچستان کے مختلف علاقوں، بولان، مشکے، قلات، ڈیرہ بگٹی، نصیر آباد، سبی اور مکران اس نوعیت کے واقعات رپورٹ ہوچکی ہے جن میں کم سن بچوں اور خواتین سمیت بزرگوں کو پاکستانی فورسز کے ہاتھوں تشدد سمیت جبری گمشدگیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

دو ماہ قبل کوہستان مری کے مختلف علاقوں میں فوجی آپریشن کے دوران خواتین و بچوں سمیت سترہ افراد کو حراست میں لیکر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا تھا۔

اسی طرح 23 جولائی 2018 کو مشکے کے علاقے النگی سے لاپتہ کیے جانے والے تین بلوچ خواتین 55 سالہ نور ملک زوجہ اللہ بخش، 22 سالہ حسینہ زوجہ اسحاق اور 18 سالہ ثمینہ بنت اللہ بخش تاحال بازیاب نہیں ہوسکے ہیں جبکہ ان کے ہمراہ لاپتہ کیے جانیوالے دو بچے دس سالہ ضمیر ولد اللہ بخش اور دولت ولد داد محمد رواں سال جون کے مہینے میں بازیاب ہوئیں تھے۔

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف آواز اٹھانے والی تنظیموں اور سیاسی جماعتوں کا موقف ہے کہ جبری گمشدگیوں میں کمی بجائے تیزی آئی ہے جبکہ گذشتہ سالوں سے خواتین و بچوں کو پاکستانی فورسز اور ان کی سرپرستی میں چلنے والے ڈیتھ اسکواڈ گروپ حراست میں لیکر تشدد کا نشانہ بناتے ہیں۔