قبائلی معتبر میر علی محمد اور حمل بلوچ کا قتل بلوچ نسل کشی کا تسلسل ہے – بی این ایم

79

بلوچ نیشنل موومنٹ کے مرکزی ترجمان نے کہا کہ مقبوضہ بلوچستان میں بلوچ کشی اور اجتماعی سزا کا بھیانک عمل جاری ہے۔ مشکئے گزی سے بیس روز قبل پاکستانی فوج نے حمل ولد مراد بلوچ کو حراست میں لے کر قریبی فوجی منتقل کردیا تھا جہاں انہیں غیرانسانی تشدد کے ذریعے قتل کیا گیا۔ ان کی لاش فوج نے اپنی نگرانی میں دفن کی ہے۔ لواحقین کو خبر باہر نکلنے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئی ہیں۔ ایسی دھمکیاں ہمیشہ مزید افراد کی قتل و تا ابد گمشدگی کی صورت میں برآمد ہوتے ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ واشک کے علاقے میں علاقائی معتبر شخصیت میرعلی محمد چاکراڑی کو پاکستانی فوج نے اُس وقت قتل کیا جب وہ اپنے ایک عزیز کی شادی میں شرکت کرکے واپس گھر جارہے تھے۔ انہیں گھر سے کچھ فاصلے پر اہلخانہ کی نظروں کے سامنے گولیوں کی بھوچاڑ کرکے قتل کردیا گیا۔ خواتین و بچے چیختے چلاتے رہے لیکن ان کی یہ چیخ وہیں دب کر رہ گئی اور ان درندوں نے میر محمد علی جیسے معتبر شخص کو قتل کردیا۔

انہوں نے کہا کہ میر علی محمد علاقے کے ہر دلعزیز، نہایت مہربان اوراعلیٰ سخاوت کے مالک شخص تھے۔ انہوں نے علاقے میں لوگوں کی بھلائی کے لئے اپنا تن، من اور دھن قربان کیا تھا۔ پورا علاقہ انہیں اپنا سرپرست قرار دیتا تھا۔ ان کی دل سے تعظیم کی جاتی تھی۔ پاکستانی فوج نے بلوچ آزادی پسندوں کے خلاف کام کرنے کے لئے میرصاحب پر شدید دباؤ ڈالا، انہیں لالچ کی بھی پیشکش کی۔ جب یہ حربے ناکام ہوئے تو ان کے خاندان سے پانچ لوگوں کواٹھایا گیا۔ ان سے پینسٹھ لاکھ روپے تاوان لینے کے بعد چار لوگ رہا کر دیئے لیکن ایک نوجوان ابھی تک فوج کی حراست میں ہے۔ ان تمام مظالم کے باوجود میرصاحب نے آزادی پسندوں کے خلاف استعمال ہونے سے انکار کی ہے۔ بلآخر انہیں اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔ بلوچ نیشنل موومنٹ میر علی محمد کو ان کی جرات، قربانی اور شہادت پر سلام پیش کرتا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ مشکے سے حمل ولد مراد بلوچ کو بیس دن قبل گھر سے فوج نے حراست میں لے کر قریبی کیمپ منتقل کیا تھا۔ وہاں ان پر بے پناہ تشدد کرکے انہیں شہید کردیا گیا ہے۔ حمل کی لاش کا چہرہ تک دکھائے بغیر فوج نے اپنی نگرانی میں دفنایا تاکہ لواحقین ان کی جسم کے زخم دیکھ نہ سکیں۔ ایسے شواہد کی کوئی کمی نہیں کہ فوج نے زیر حراست بلوچوں کے اعضاء نکالنے کے بعد لاش ورثا کے حوالے کر دیئے ہیں یا ویرانوں میں پھینک دیئے ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ میر علی محمد اور حمل بلوچ اجتماعی سزا کا نشانہ بنے۔ گزشتہ کئی سالوں سے بلوچستان میں ہزاروں افراد اجتماعی سزا کا نشانہ بن چکے ہیں۔ یہ سلسلے آج بھی جاری ہے۔ پاکستان کی فوج، خفیہ اداروں اور فوج کی سرپرستی میں قائم دہشت گرد ڈیتھ سکواڈ کی جانب سے اجتماعی سزا کا مقصد بلوچ قوم کو آزادی کی تحریک کے حمایت سے دست بردار کرنا اور فوج کے لئے کام کرنے پر مجبور کرنا ہے لیکن بلوچ قوم نے تاریخ میں کسی بھی قابض یا حملہ آور کے سامنے سر نہیں جھکایا ہے، بلکہ ہمیشہ مزاحمت کی ہے اور آج پھر اپنی تاریخ دُہرا رہا ہے۔