امارات حکومت راشد حسین کی غیر قانونی طور پر پاکستان حوالگی بابت جواب دے – ممبر یورپین پارلیمنٹ کا خط

371

ممبر یورپین پارلیمنٹ جیوڈ کرٹن ڈارلنگ نے یہ خط متحدہ عرب امارات کے برسلز میں تعینات سفیر عیسیٰ حماد کو بھیجا ہے

دی بلوچستان پوسٹ کو موصول اس خط کے کاپی کے مطابق ممبر یورپین پارلیمنٹ جیوڈ کرٹن ڈارلنگ نے امارتی سفیر محمد عیسیٰ حماد سے انسانی حقوق کے کارکن اور بلوچ سیاسی کارکن راشد حسین کی غیر قانونی طور پر گرفتاری اور پھر پاکستان کے حوالگی کے بابت جواب طلب کیا ہے۔

نارتھ ایسٹ انگلینڈ سے لیبر پارٹی برطانیہ کے ایم ای پی نے اس پورے صورتحال پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے اس خط میں مزید کہا ہے کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ جیسی متعدد انسانی حقوق کی تنظیموں نے کھلم کھلا اس حوالے خدشات ظاہر کرچکے ہیں کہ اگر راشد حسین کو پاکستان بھیج دیا جاتا ہے، تو ان کی زندگی کو خطرات لاحق ہونگے۔

خط میں ایم ای پی کہتی ہیں ” پاکستانی نیوز چینلوں کے رپورٹ سے ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ ان تمام خدشات کے باوجود راشد حسین کو انٹرپول کے ذریعے پاکستان حوالے کردیا گیا ہے”

ایم ای پی نے خط میں مزید کہا ہے کہ “میں نے ایک دستاویز دیکھی ہے جو ایگزٹ کے لیے وفاقی حکام کی جانب سے جاری کیا گیا تھا۔ اس دستاویز سے ظاہر ہوتا ہے کہ راشد حسین 22 جون کو متحدہ عرب امارات سے پاکستان کے شہر نوشکی کے لیئے روانہ ہوئے تھے، جہاں کوئی عوامی ہوائی اڈہ موجود ہی نہیں ہے۔ مجھے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ راشد حسین کو سفری دستاویزات کے بغیر ہی متحدہ عرب امارات سے ڈی پورٹ کیا گیا ہے۔”

اس خط کی کاپی یورپی یونین کی خارجہ امور اور سلامتی پالیسی کے نمائندے فیڈریکا موغرینی اور یورپی یونین کے وفد کے سربراہ ، جین فرانسوا کیٹین کو بھی بھیجی گئی ہیں۔

واضع رہے گذشتہ برس دسمبر میں متحدہ عرب امارات کے حکام نے 23 سالہ بلوچ کارکن راشد حسین بروہی کو گرفتار کیا تھا۔ راشد حسین کے خلاف کوئی الزام عائد نہیں کیا گیا تھا اور متحدہ عرب امارات کے حکام سے حاصل کردہ دستاویزات کے مطابق انہیں 22 جون کو پاکستان ڈیپورٹ کر دیا گیا تھا۔ لیکن اب تک راشد حسین کو پاکستانی عدالتوں میں پیش نہیں کیا گیا ہے۔ راشد حسین کے اہل خانہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ پاکستان میں ان کی جان کو شدید خطرہ ہے۔

یہاں کلک کرکے مذکورہ خط کا مکمل متن پڑھیں۔