کون سعد اللہ؟ – لطیف بلوچ

98

کون سعد اللہ؟

تحریر: لطیف بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

ایک سیاسی کارکن، ایک سماجی کارکن، ایک قلمکار، ایک فٹبالر، ایک ہمدرد دوست، ایک قوم دوست، ایک وطن پرست، ایک ایسا انسان جس نے اپنی قوم کی بدحالی کو خوشحالی میں بدلنے کا خواب دیکھا تھا، جو ایک خوشحال، نفرتوں، استحصال، جبر، لوٹ و کھسوٹ سے پاک معاشرے کا قیام، ایک خودمختار، خوشحال و آزاد بلوچستان کا تمنا دل میں رکھتا تھا۔ وہ صرف یہ چاہتا تھا کہ اس کے ماں و بہنیں گھروں میں لکڑیاں جلانے کے بجائے سوئی سے نکلنے والی اپنی قدرتی گیس سے روٹیاں پکائیں، وہ تو صرف یہ چاہتا تھا کہ ان کے بچوں کو اعلیٰ تعلیم، صحت کی سہولت حاصل ہو، وہ چاہتا تھا بلوچستان کے وسائل بلوچ بچوں پر خرچ ہوں، بس اس کا یہ خواب اسکا جرم بن گیا کیونکہ آقاوں نے غلاموں کے خواب دیکھنے پر بھی پابندی لگا دی ہے۔ قبضہ گیر ڈرتے ہیں کہ اگر غلاموں نے خواب دیکھا اور اس خواب کی تعبیر کے لئے آٹھ کھڑے ہوئے تو آقاوں کیخلاف آٹھ کھڑے ہونگے، جس طرح دیگر بلوچ فرزندوں نے اپنے حسین خواب کو سچ ثابت کرنے کے لئے دشمن کیخلاف کھڑے ہوکر سیاسی و مسلح مزاحمت کا آغاز کیا، قابض مزاحمت سے ڈرتے ہیں، سچ سے ڈرتے ہیں، علم، و شعور حق گوئی سے ڈرتے ہیں۔

سعد اللہ شعور رکھتا تھا، وہ با علم تھا، وہ جانتا تھا کہ ہماری یہ بدحالی اور غلامی قدرت کی طرف سے نہیں بلکہ قابض اور زمینی خداوں کا انعام ہے۔ وہ لکھتا تھا، سوال پوچھتا تھا لیکن ان کے سوالوں کے جواب کسی کے پاس نہیں تھے، اس لیئے سعداللہ کی آواز کو خاموش کرنے کے لئے، سوالوں کو دبانے کے لئے اور سچ پر پردہ ڈالنے کے لئے انہیں اٹھا لیا گیا۔ جب کسی قابض اور ظالم کے پاس محکوموں کے اٹھائے گئے سوالوں کا جواب نہیں ہو، پھر وہ طاقت استعمال کرتے ہیں۔ سعداللہ کے ہاتھوں میں بندوق نہیں تھا بلکہ وہ قلم ہاتھوں میں لیئے مکالمہ کرنا چاہتا تھا، وہ گمراہ کن حقائق کو طشت ازبام کرکے اصل حقیقت کو سامنے لارہا تھا، وہ سیاست کے علاوہ سماجی مسائل کو اجاگر کرنے کے لئے آواز بلند کررہا تھا، کھیلوں خصوصاً فٹبال کے کھیل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا، نوجوان کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کرتا تاکہ نوجوان دیگر سماجی جرائم و برائیوں کے شکار ہونے کے بجائے ایک صحت مند معاشرے کی تعمیر کے لئے کردار ادا کرسکیں، تعلیم اور کھیلوں سے بے پناہ محبت کی وجہ سے وہ اسٹیشنری اور اسپورٹس شاپ چلا رہا تھا تاکہ طلباء اور کھلاڑیوں کی مدد کرسکیں۔

سعد اللہ غریب طلباء اور کھلاڑیوں کا اپنی محدود وسائل میں رہ کر ہر طرح سے مدد کرنے کی کوشش کرتا، وہ یہ سمجھتا تھا کہ اگر ان نوجوانوں کی مدد نہیں کرینگے تو یہ نوجوان تعلیمی اداروں اور کھیلوں کے میدانوں میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے کے بجائے سماجی برائیوں کا حصہ بنیں گے اور سماج دشمن عناصر ان نوجوانوں کو اپنے مقاصد کی حصول اور تکمیل کے لئے استعمال کرینگے۔

سعد اللہ بلوچ کی یہ علم دوستی، سیاسی و سماجی سرگرمیاں مقتدر قوتوں کو ناگوار گذرے، وہ نہیں چاہتے تھے کہ سعد اللہ علم و شعور کی روشنی پھیلائیں، اس لیئے علم دشمن، سماج دشمن اور کھیل دشمن ریاستی اداروں نے دس سال قبل 25 اگست 2009 کو رمضان کے مہینے میں سعد اللہ بلوچ کو عید گاہ روڈ خضدار سے حراست میں لیکر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا تھا، جو تادم تحریر لاپتہ ہے۔

یہ صرف ایک سعد اللہ کی کہانی نہیں بلکہ ایسے ہزاروں سعد اللہ بلوچ قوم کی آزادی اور خوشحالی کی جدوجہد میں اٹھائے گئے، لاپتہ کئے گئے یا قتل کردیئے گئے اور مسخ شدہ حالت میں کسی سڑک اور ویرانے سے انکی لاشیں ملی اور یہ سلسلہ تاہنوز جاری ہیں تاحال ایسے بہت سے سعد اللہ، وطن کی محبت اور علم و شعور کی سزا پاکر اندھیروں کے حوالے ہورہے ہیں یا پھر تاریک راہوں میں مارے جارہے ہیں۔

ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے
قتل گاہوں سے چُن کر ہمارے علم
اور نکلیں گے عشاق کے قافلے
جن کی راہِ طلب سے ہمارے قدم
مختصر کر چلے درد کے فاصلے
کر چلے جن کی خاطر جہاں گیر ہم
جاں گنوا کر تری دلبری کا بھرم
ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے


دی بلوچستان پوسٹ: اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔