مسلح جدوجہد | قسط 8 – کوامے نکرومہ | مشتاق علی شان

65

دی بلوچستان پوسٹ کتابی سسلسلہ قسط نمبر 8

مسلح جدوجہد، مصنف : کوامے نکرومہ

اعلیٰ ادارہ | انقلابی عمل کے لیے معاونت کی ضرورت

ترجمہ : مشتاق علی شان

اعلیٰ ادارہ
HIGH COMMAND

تمام تر رکاوٹوں کے باوجود افریقہ جلد یا بدیر آزاد ہوگا۔لیکن یہ بہت جلد بھی ہو سکتا ہے اگر ہم عوام میں شعور بڑھائیں اور ساری جنگ سامراج مخالف ہو۔ اس کے لیے ہمیں ایک افریقی سطح کا اعلیٰ ادارہ قائم کرنا چاہیے جو انقلابی جنگ کے ابتدائی عمل کی حکمت عملی ترتیب دے۔

اگر ہم یہ کرنے میں ناکام ہوجائیں اور عوامی انقلاب کی رہنمائی نہ کر سکیں تو پھر ہم سامراج اور جدید نوآبادیات کا ایک ایک کر کے شکار ہو جائیں گے۔

”اصلاحات“ کا وقت گزر چکا ہے۔ اصلاحات دشمن کو خاموش نہیں کر سکتیں۔نہ ہی یہ اندرونی طور پر جدید نوآبادیات کی ایجنٹ کٹھ پتلی حکومت یا سرمایہ دار ذہنیت جو نوآبادیاتی دور میں پیدا ہوتی ہے،اسے ختم کر سکتی ہے۔ہماری پارٹیوں اور علاقوں کے اندر سامراج سرطان کی طرح بڑھ رہا ہے جو آئین، پارلیمنٹوں اور افسر شاہی کو مغرب کے طریقوں کے تحت ”سیاسی“ تربیت دے کر بورژوازی،سرمایہ دار حالت برقرار رکھنے کے لیے فوجی بغاوت کرنے یا بدعنوانی اور اقربا پروری کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرتا ہے۔

عوام کی مسلح جدوجہد انتہائی ارفع عمل اور جدید نوآبادیاتی حالت میں ایک انقلابی CATALYSTہے۔
پر امن سیاسی عمل کے ذریعے آزادی حاصل کرنا اس وقت بے معنی ہو چکا ہے:
(ا) افریقی ریاستوں کی اکثریت آزاد ہو چکی ہے لیکن یہ جدیدنوآبادیات کی طرف بڑی تعداد میں راغب ہو رہی ہیں۔
(ب) ہماری تحریک براعظم افریقہ میں کثیر الجہت ہوکر آگے بڑھ رہی ہے۔

پیسفک سیاسی عمل عمومی طور پر قومی آزادی کی لہر کے دوران خاص طور پر سب صحرا افریقہ (SUB SAHARAN AFRICA)میں ہوا جہاں آزادی ایک دوسرے کے تعاون سے حاصل کی گئی۔جب کہ کچھ مقامات پر کچھ خاص امور بھی دیکھے گئے۔مثال کے طور پر کینیا میں لوگوں کو سیاسی عمل سے ایک طرف رکھ کر براہِ راست MAU,MAUجیسے عمل میں لایا گیا۔

(ماو ماو کینیا کی گوریلا تنظیم تھی جس کی قیادت جوموکیناٹا کر رہے تھے۔ جومو کیناٹا بعدازاں آزاد کینیا کے پہلے صدر منتخب ہوئے۔ مترجم)
الجزائر میں صرف سات سال کے لیے مسلح جدوجہد کی ضرورت پڑی۔اب کہیں آزادی کی تحریکیں پیسفک ازم کے تحت آگے بڑھیں جیسے گھانا اور گنی میں ”مثبت قدم“ اٹھایا گیا۔

افریقی آزادی کی تمام تحریکوں میں آزاد ہونے کے بعد فاصلے بڑھ رہے ہیں۔ اس کا سببب یہ ہے کہ آزادی کے بعد نئی سماجی تعمیر کی ضرورت تھی اور سامراجی قدم ان ریاستوں کے اندر بڑھتے رہے،یہ مندرجہ ذیل امور سے ثابت ہوسکتا ہے۔
(1)آزادی کا غلط استعمال جدید نوآبادیات اور کٹھ پتلی حکومت کے ذریعے کیا جاتا ہے۔
(2)آزادی کی قوتوں کے خلاف براہِ راست سامراجی جارحیت، جیسے کانگو میں ہوا۔
(3)کثیر الجہتی اور دو طرفہ سامراجی مدد میں اضافہ جیسے:
(ا) نوآبادیاتی اقتدر برقرار رہے۔(پرتگال اور اسپین)
(ب) فاشسٹ نسل پرسٹ حکومتوں کو برقرار رکھنا۔(روڈیشیا اور جنوبی افریقہ)
(ج) کٹھ پتلی اور اپنے مقامی ایجنٹوں کی مدد کرنا تاکہ افریقہ کے اندر ترقی پسند انقلابی حکومتوں کو ختم کیا جائے۔
تین سال کے بعد 1960سے افریقہ کے اندر نوآبادیات کے خلاف آزادی کی تحریک کے لیے مسلح جدوجہد ناگزیر ہو گئی ہے اور یہی طریقہ جدید نوآبادیاتی حالات میں بھی ہو رہا ہے۔

1960سے لے کر مسلح جدوجہد ایک نئے نقطے پر پہنچ چکی ہے جس میں پرتگیزی نوآبادیات کے اندر مسلح جدوجہد کرنے والوں کا تعاون پر مبنی محاذ وجود میں آیا ہے۔ یہ آرگنائزیشنCOCNP دو ملین مربع کلو میٹر میں رہنے والے 12,400.000افراد کی سیاسی فوجی جدوجہد کو جوڑ رہی ہے۔

نتیجے کے طور پر سامراج مخالف پیسفک ازم کا خیال دم توڑ رہا ہے اور اس کی بجائے افریقی سطح کا خیال ابھر رہا ہے۔ کیوں کہ
(1)سیاسی عمل کے ذریعے جو آزادی حاصل ہوتی ہے اس پر بھی ”شاہی“ افراد کا قبضہ رہتا ہے جو لوگوں کے سیاسی حقوق دباتے ہیں۔
(2)ملک جدید نوآبادیاتی بن جاتا ہے جہاں لوگوں کا محدود حدوں کے اندر استحصال کیا جائے۔ان حالات میں لوگوں کی نفرت کا اظہار تشدد کے ذریعے ہوتا ہے۔لوگ اپنے سیاسی حق کا بھرپور طور پر اپنی مرضی سے استعمال کرتے ہیں۔
(3) سامراجی قدم بڑھتے رہتے ہیں:
(ا) سامراج خفیہ طور پر مصلحت کر کے اپنے لیے جگہ بناتا ہے۔(فوج کے ذریعے جدید نوآبادی کے اندر اپنے حق میں حکومتیں قائم کرنا)
(ب) سابقہ گنوائی ہوئی حیثیت دوبارہ بحال کرنا،(ترقی پسند ریاستوں کے اندر رجعتی بغاوتیں کرنا)
(4)سامراج ہمیشہ انقلابی مخالفت کو اپنے ایجنٹوں مثلاََ مخصوص پولیس اور دیگر ایسے اداروں کے ذریعے ختم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

PSEUDO DEMOCRATIC(5)جونوآبادیاتی راج سے آزاد ہوتے ہیں وہ سرمایہ داری کی طرف پیش رفت نہیں کرتے ہیں۔ وہ سوشلزم کی طرف آہستہ آہستہ بڑھتے ہیں یا ترقی کی سوشلسٹ راہ اختیار کرتے ہیں کہ وہاں سامراج طاقت سے مداخلت کرتا ہے۔
(6)تشدد جدید نوآبادیات کی دھند اور کہر کو صاف کرتا ہے اور دشمن کو آشکار کر کے دیکھتا ہے کہ جدید نوآبادیات نے خود کو پوشیدہ رکھنے کے لیے کون سے حربے استعمال کیے تھے۔ اس طرح یہ مسائل کو ظاہر کرتا ہے۔

جیسے جیسے انقلابی یونٹ متحد ہوتے جاتے ہیں کٹھ پتلی حکومت کی موت کا آغازشروع ہو جاتا ہے۔یہ مخالفت کے ذریعے ہی چل سکتی ہیں اورخود کو زندہ رکھنے کے لیے کھل کر تشدد کرتی ہے۔جب محب وطن افراد کے خون کا ایک قطرہ بھی کٹھ پتلی حکومت سے لڑائی کے دوران گرتا ہے تو وہاں حکومت کی کھلی مخالفت شروع ہو جاتی ہے۔گوریلوں کے اڈے قائم ہوتے چلے جاتے ہیں اور سیاسی بیداری نظریاتی طور پر اتنی پختہ ہو جاتی ہے کہ جدوجہد علانیہ طور پر کرنا پڑتی ہے۔


انقلابی عمل کے لیے معاونت کی ضرورت
THE NEED FOR CO-ORDINATED REVOLUTIONARY ACTION

طاقتور سوشلسٹ ریاستوں نے یہ نظریہ دیا کہ وہ علاقے جہاں سامراج قابض ہے وہاں پیسفک ازم کے نظریے کے تحت سوشلزم کی طرف بڑھا جائے۔لیکن یہ جواز بھی بے بنیاد طور پر دیا گیا کہ انقلابی تعاون کا سوال افریقہ اور دنیا میں پہلے ہی حل کر لیا گیا ہے،جس کی وجہ سے سامراج آزادی کے مشہور لڑاکا محاذ کے خلاف کوئی فیصلہ کن طاقت استعمال نہیں کرے گا۔

لیکن حقیقت میں حالت بہت مختلف تھی:
(1)سامراج سوشلسٹ ریاستوں کی مخالف طاقتوں کو سہارا دیتا ہے اور آزادی کی تحریک کو فوجی اور دیگر مضبوط نفسیاتی جنگی حربوں کے ذریعے کمزور کرتا ہے۔(مثال کے طور پر پروپیگنڈے کے ذریعے)
(2)سامراج اپنے جارحانہ مقاصدکے حصول کے لیے بین الاقوامی سطح پر فوجی ومعاشی ادارے قائم کرتا ہے۔
(3)موجودہ وقت میں سامراج نے افریقہ میں کافی کٹھ پتلی حکومتیں قائم کی ہیں۔

ایشیا، لاطینی امریکا اور افریقہ کے لوگوں کا یہ تاریخی تجربہ ہے کہ سامراج نے ہمیشہ پُرامن طریقوں سے سوشلزم کے حصول کوروکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا ہے۔جیسے گھانا جب سوشلزم کی جانب بڑھ رہا تھا تو فوجی انقلاب آیا۔ براعظم کی سطح پر عوامی مسلح جدوجہد افریقہ میں اس وقت ایک حقیقت ہے۔ یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم موثر معاون مشینری تشکیل دیں۔

اس وقت تک ہم نے جو تجربہ حاصل کیا ہے اس کے پیش نظر صرف افریقی سطح پر عملی اور منظم تعاون ہمیں دشمن سے بچائے گا۔ اس مقابلے میں اکیلی حیثیت سے ہم زیادہ نشانہ بنیں گے۔ہمارا جنگ میں اکیلے رہنا ایک بہت بڑا خطرہ ہے۔
ہم مندرجہ ذیل طریقوں سے بھی دشمن کو دور رکھ سکتے ہیں۔
(1)اپنی پیداوار کے ذرائع بڑھائیں۔
(2)لوگوں میں اونچی سطح کی تنظیم کاری کی جائے۔
(3)افریقی عوامی انقلاب کے ضروری امور سے لوگوں کو روشناس کریں۔
(4)جدید نوآبادیات اور اس کی کٹھ پتلی حکومتوں کو بے نقاب کریں۔
یہ درست ہے کہ ہم قوت، توانائی اور امید تو بہت پیدا کر سکے ہیں لیکن یہ سچ ہے کہ ہم ابھی تک بیرونی یا اندرونی دشمن کو شکست نہیں دے سکے ہیں۔ فتح کے لیے ایک سیاسی فوجی تنظیم
کا ہونا ضروری ہے جو افریقہ میں انقلابی عمل کے لیے بنیادیں فراہم کرے۔

(ب) سیاسی عسکری تنظیم
POLTICO MILTARY ORGINISATION

اس کے لیے مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھنا چاہیے:
(1)آل افریقن پیپلز رولیوشنری پارٹی (کُل افریقی عوامی انقلابی جماعت AAPRAP) بنائی جائے جو پالیسیوں میں معاونت اور عمل کرے۔
(2) کُل افریقی عوامی انقلابی جماعت AAPRAPتشکیل دی جائے جوہماری آزادی کی قوتوں کی یونٹوں کو متحد کرے اور آخر فتح تک مسلح جدوجہد جاری رکھے۔


AAPRA AND THE ALL AFRICAN COMMITTEE FOR POLITICAL CO-ORDINATION
AAPRAاور سیاسی معاونت کے لیے کُل افریقی کمیٹی AACPC

سیاسی پارٹی تشکیل دی جائے جو آزاد علاقوں میں ایسی پارٹیوں کو جو نظریاتی ہیں اور جدوجہد کر رہی ہیں، ان کو آپس میں جوڑے اور براعظم کی سطح پر اس کی راہ ہموار کرے اور ”کُل افریقی عوامی جنگ“ (ALL AFRICCAN PEOPLES WAR)کی اخلاقی اور مادی مدد کرے۔کُل افریقی سیاسی معاون کمیٹی پارٹیوں کے لیے رابطے کا کام کرے جو اس بات کو تسلیم کریں کہ نوآبادیات اور جدید نوآبادیات کے لیے ایک یکساں منظم جدوجہد کی ضرورت ہے۔ یہ کمیٹی جو پارٹیاں اقتدار میں ہیں یا جدوجہد کر رہی ہیں ان کی سنیٹرل کمیٹی کی سطح پر بننی چاہیے۔ مزید برآں یہ کمیٹی اپنے اندرونی امور خود طے کرے گی۔

AACPCبطور ایک سیاسی معاونت کار کے AAPRAکی مندرجہ ذیل امور میں مدد کرے گی:
(1)ان پارٹیوں کی معاونت کرے گی جو آزاد علاقوں میں سوشلزم کی جانب بڑھ رہی ہوں اور اپنے اندرونی دشمن کے ساتھ لڑائی میں مدد کرے گی۔
(2)پارٹیوں کے کیڈرز کی نظریاتی تربیت کرے گی جس میں نوآبادیات مخالف اور جدید نوآبادیات مخالف نظریے کی تعلیم دی جائے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ متحدہ افریقہ اور سوشلزم کی تعمیر کی تعلیم بھی دی جائے۔یہ سب کچھ AACPCکے ماتحت آزاد علاقوں میں اسکول یا سیاسی کیمپس قائم کر کے حاصل کیا جا سکتا ہے۔
(3) انقلابی تحریکوں اور جدید نوآبادیاتی علاقوں میں ترقی پسند تحریکوں کی معاونت اور سیاسی مدد کی جائے۔
(4)افریقہ، ایشیا اور لاطینی امریکا کے باشندوں کے درمیان ایک موثر رابطہ پیدا کیا جائے جو سامراج کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں۔(جیسے”افریقی، ایشیائی اور لاطینی امریکا کے عوام کی یکجہتی کی تنظیم“ORGINISATION OF SOLIDARITY WITH THE PEOPLE OF AFRICA,ASIA AND LATEN AMRICA(
(5)دنیا کی سوشلسٹ ریاستوں سے مضبوط روابط استوار کرنا۔
(6)سرمایہ دار سامراجی ریاستوں میں محنت کشوں کی تحریکوں سے تعلق رکھنا اور اسے برقرار رکھنے کی کوشش کرنا۔

ایسے طریقے بروئے کار لانے سے AACPCایک تنظیمی پرزہ بن جائے گی جس کے ذریعے ایک متحدجدوجہد اور ایک مرکزی ضابطہ پیدا ہوگا جس کے ذریعے عوام اور ان مراکز کے ساتھ بھی جو انقلابی عمل کرتے ہوں، مضبوط تعلق پیدا ہو گا۔یوں معاونت اور عمل کو یکجا کرکے افریقی ریاستوں کا دفاع کرنے کے ساتھ ساتھ انھیں اس قابل بنائے گی کہ کوئی بھی بیرونی دباؤ انقلابی آزادی کی تحریک پر اثر انداز نہ ہو اور ان علاقوں میں انقلابی آزادی کی تحریک اپنا کام جاری رکھ سکے۔

کُل افریقی عوامی انقلابی فوج
ALL AFRICAN PEOPLES REVOLUTIONARY ARMY (AAPRA)

AAPRAکے ممبر افریقی باشندوں کی سوشلسٹ پارٹیوں کے مسلح نمائندے ہوں گے جو نوآبادیات اور جدید نوآبادیات کے خلاف جدوجہد کر رہی ہیں۔ یہ براہِ راست افریقی انقلاب اور آزادی کی تحریک کی پیداوار ہوتی ہے اور اس کی تنظیم کاری چارٹ نمبر 5کے مطابق کی جاتی ہے۔

یہ مسلح طاقتیں، ہائی کمانڈ کے ماتحت ہوتی ہیں جس میں افریقہ کے مختلف انقلابی تحریکوں کے راہنما AAPRAمیں شامل ہوتے ہیں۔ یہ ”کُل افریقی معاون سیاسی کمیٹی“ AACPCاس انقلابی جدوجہد کے لیے سیاسی قیادت مہیا کرے گی۔اس طرح مسلح قوتیں ہمیشہ سیاسی قیادت کے ماتحت اور ضابطے میں ہوتی ہیں۔

AAPRA ہیڈ کوارٹرز
AAPRA HEADQUARTERS

AAPRAکی ہائی کمانڈ کے ہیڈ کوارٹر مندرجہ ذیل آزاد علاقوں میں ہونے چاہیے:
(1)جہاں عوامی طاقت مضبوط ہو۔
(2)معاشی ترقی اتنی آگے بڑھ چکی ہو جہاں سامراجی جارحیت جو کسی بھی صورت میں ہو اس کا زیادہ سے زیادہ مقابلہ کیا جا سکے۔
(3)جہاں جدید سہولیات کمیو نیکیشن، اسپتال، پریس اور دیگر ضروری اشیاء موجود ہوں۔

یہ علاقہ ہر وقت جنگ کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہو۔ اس علاقے کے مادی وسائل اور افرادکو اس علاقے کے دفاع کے لیے تیار کیا جائے۔ جہاں تک لوگوں کو تیار کرنے کا مسئلہ ہے تو تربیت یافتہ اور مسلح محنت کشوں کو ایک ملیشیا کے ذریعے منظم کیا جائے۔زرعی سیکٹر میں جدید زرعی پیداوار کو حکمت عملی کے تحت منظم کیا جائے۔کوآپریٹو اور مشترکہ فارم اور کسانوں کی دیگر تنظیمیں علاقے کے لیے اپنا بچاؤ خود کرنے کے تحت بہت زیادہ فائدہ مند ہوں گی اور یہ حکمت عملی کے تحت دشمن سے بچاؤ کی صورت میں ہونی چاہیے۔کانوں میں کام کرنے والے صنعتی مزدور، ٹرانسپورٹ کے ملازم اور دیگر کو اپنا دفاع خود کرنے کے ضابطے کے تحت یونٹوں میں تقسیم کر کے فوجی تربیت دی جائے، ملیشیا کی ممبر شپ رضا کارانہ اور انتخابات کے اصول کے تحت کرنی چاہیے۔

جب فوجی محاذ تشکیل پا جائے تو وہ مندرجہ ذیل امور کے لیے جدوجہد کرے گا:
(1)پرانے نظام کو نہایت سرعت سے تبدیل کرنے کے لیے۔
(2)بیرونی اور اندرونی دشمن کے خلاف۔
(3)سوشلزم کی تعمیر کے لیے۔
یہ جدوجہد شروع میں انتہائی دشوار ہو گی لیکن یہ ایک عرصہ یا مرحلہ ہو گا جس میں سے ہمیں حقیقی آزادی کی تحریک کو تیز کرنے کے لیے گزرنا ہو گا۔
یہ سب کچھ کرنے کے بعد اس کے نتیجے میں:
(1)سیاسی اخلاقیات اور اخلاقی جرات بڑھانی ہو گی۔
(2)نظریاتی اور سیاسی اختلافات کم کرنے ہوں گے۔
(3)سارے عوام میں بہت زیادہ سامنا کرنے کی صلاحیت پیدا کرنی ہو گی۔
(4)کام کرنے کے ضابطے اور پیداور میں ترقی کرنی ہو گی۔

یہ ایک بنیادی مرکز ہو گا اس کے لیے لازم ہے کہ مسلح قوتوں اور عوام کو مشترکہ طور پر دشمن کے خلاف لڑائی کے لیے تیار کیا جائے۔ بہترین افراد کی خود دفاعی یونٹ (ملیشیا) کو تربیت دے کر سامراج کے خلاف ایک متحدہ محاذ تشکیل دیا جائے جو افریقہ میں کہیں بھی عمل کرنے کے لیے تیار ہو۔

اگر مسلح ملیشیا منظم نہیں ہے تو عوام کبھی بھی دشمن کے خلاف جدوجہد میں اپنی طاقت کا اظہار نہیں کرسکتے۔

عام طور پر AAPRAکا ہیڈ کوارٹر وسیع علاقے میں ہونا چاہیے جہاں پہاڑ، ندیاں، جھیلیں، جنگلات،میدان اوربیابان ہوں۔ خاص طور پر بیابان انقلابی گوریلوں کی تربیت کے لیے بہترین ثابت ہو سکتے ہیں۔ عام طور پر اچھا بنیادی مرکز (اڈہ) پہاڑ یا دریاؤں کے قریب ندی، نالوں کے سامنے کے علاقے ہوتے ہیں۔سیدھے میدانی علاقے نہایت عارضی ہوتے ہیں۔ AAPRAکے ریجنل آپریشنل یونٹ جن علاقوں میں دشمن کے ساتھ لڑائی ہو رہی ہو،اس کے قریبی علاقوں میں ہونے چاہیں۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔