لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے بھوک ہڑتالی کیمپ عید کے روز بھی جاری

76

عید کے روز عالم اسلام خوشیاں مناتے ہیں اور ہم پاکستانی ریاست کے ہاتھوں ماتم کدہ ہیں – ماما قدیر بلوچ

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے قیادت میں جاری لاپتہ افراد کی لواحقین کی طویل بھوک ہڑتالی کیمپ کو 3680 دن مکمل ہوگئے مختلف مکاتب فکر کے لوگوں نے عید کے روز کیمپ آکر لواحقین سے اظہار یکجہتی کی –

کیمپ آئے وفد سے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عید کے دن عالم اسلام خوشی منانے میں مصروف ہیں لیکن افسوس اس مذہب سے تعلق رکھنے والے بلوچ قوم اسلامی ریاست پاکستان کے مسلمانوں کے ہاتھوں اپنے شہادتوں اور گمشدگیوں پر عید منانے سے یکسر محروم ہیں گزشتہ گیارہ سالوں سے پاکستانی خفیہ اداروں کے ظالمانہ کارروائیوں کے وجہ سے بلوچ قوم نے عید منانے کا رواج مکمل طور پر ختم کردیا ہے باقی مسلمان اس روز خوشیاں مناتے ہیں اور ہم ماتم اور سوگ مناتے ہیں حالیہ عید کو بھی ریاست نے کئی افراد کو اٹھا کر لاپتہ کردیا ہے –

ماما قدیر بلوچ نے مزید کہا کہ آج پوری دنیا عید منانے میں مصروف ہے لیکن لاپتہ افراد کے لواحقین اپنے پیاروں کے بازیابی کے لئے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاج کررہے ہیں بلوچ اسیران کے لئے جہدو جہد کرنے والوں کو خاموش کرانے کی کوشش کی جارہی ہے جو انتہائی قابل مذمت اور افسوسناک اقدام ہے آج مسلم دنیا عید منا رہی ہے اور بلوچ قوم سوگ منا رہی ہے اور اپنے پیاروں کے لئے سراپا احتجاج ہیں افسوس کہ اقوام متحدہ کے مجرمانہ خاموشی پر بلوچ قوم امید لگائی بیٹھی ہے اور آج بلوچستان میں ہر گھر میں اپنے پیاروں کی عدم بازیابی ہر صف ماتم بچھ چکی ہے –