فلسفہ اکبری تحریر: برزکوہی

213

فلسفہ اکبری

تحریر: برزکوہی

دی بلوچستان پوسٹ

سقراط نے زہر کا پیالہ پی کر اسلیئے موت کے آغوش میں ابدی نیند کو چنا کہ انسان اور انسانیت میں سچ زندہ ہو، سچ کہنے والے زندہ رہیں، سچ سوچنے والے زندہ رہیں، سچ پر مرمٹنے والے پیدا ہوں، سچائی کو پھیلانے والے زندہ ہوں، ہر طرف سچائی کی نور ہو، کوئی کسی کو جھوٹ و جاہلیت کے جھانسے میں پھنسا کر سچائی سے محروم نا کرسکے، سچ کو ہرایا نا جاسکے، روشنی کو بجھایا نا جاسکتے، اندھیرے کو جتایا نا جاسکتے۔ آج جب تک سچ زندہ ہے، علم و شعور زندہ ہے، سچائی کی خاطر زندگی کو قربان کرنے کا فلسفہ زندہ ہے، جھوٹ و جاہلیت شرمندہ ہیں تو تب تک پھر سقراط بھی زندہ ہے، اور تب تک زندہ رہیگا جب تک سچ کو جھوٹ پر، علم کو جاہلیت پر اور نور کو ظلمت پر فوقیت دی جائیگی وگرنہ سقراط تاریخ کی کتابوں میں صرف ایک گم گشتہ کردار ہی رہ جائیگا۔

شہید نواب اکبر خان بگٹی کا تعلق سچ کے شمع کی لَو کو خون سے جلائے رکھنے والے انہی آشفتہ سروں کے قبیل سے تھا، جو جھوٹ کے پنجوں سے سچ چھینتے ہیں، جو جہل کو روند کو علم چنتے ہیں اور ظلمت کی بانہیں مروڑ کر نور بُنتے ہیں۔ ان کا شجرہ انہی مردِ مجاہدوں سے ملتا ہے جو کبھی سقراط بن کر زھر کا پیالہ پیتے ہیں، تو کبھی عیسیٰ بن کر صلیب چڑھتے ہیں تو کبھی دیوتاؤں سے آگ کا راز چرانے والے پرومی تھیوس ہوتے ہیں، اور کبھی شہباز اکبر ہوتے ہیں اور شعور کا شہباز بن کر تا ابد اپنے قوم کے اجتماعی شعور پر حق و سچائی کی اڑان بھرتے رہتے ہیں۔ شہباز اکبر خان بگٹی علم و شعور، ادراک، بصیرت، بہادری، خلوص و ایمانداری اور باقاعدہ حکمت عملی اور دانستہ طور پر بلوچ قومی آزادی کیلئے پاکستانی قبضے سے جان چھڑانے کی خاطر اپنا سب کچھ حتیٰ کہ جان تک قربان کرکے بلوچوں میں قومی شعور، جذبہ اور قومی بیداری کی ایک لہر پیدا کرنے کا سبب بنے۔ اسی لہر میں دشمن کی خلاف مزاحمت اور مزاحمتی سوچ کا جنم ہو، گفتار و کردار کی پہچان ہو، بلوچوں میں اتحاد و اتفاق ہو، دھوکا، جھوٹ، ملاوٹی، بھڑک باز قوم پرستی ہو یا خاص طور پر پوری دنیا کہ سامنے یہ امر واضح کرنا ہو کہ بلوچ ایک زندہ قوم ہے اور اب بلوچ قوم زندہ ہوکر، زندہ رہنے کے لیئے اپنی زندگی قربان کرسکتا ہے، مگر جھک اور مٹ نہیں سکتا اور ٹوٹ نہیں سکتا۔

اکبر اسی فلسفہ اکبری کے خواب کو اپنے دل و دماغ اور آنکھوں میں لیکر آج سے 13 سال قبل مزاحمت کے گڑھ و علامت جنگجووں کے سرمئی قلعے تراتانی میں اپنے ساتھیوں سمیت اپنا جان قربان کرکے فلسفہ محراب خان، فلسفہ نوروز خان اور فلسفہ بلوچ خان کو ایک بار پھرجدید دنیا میں جدید شکل میں تروتازہ کرکے پیش کردیا۔ اس کے بعد وہی ہوا جو نوشتہ دیوار بن کر ہر نسل کی نظروں کے سامنے ہے کہ فلسفہ اکبری کو بلوچ قوم کے بچے بچے، بزرگ، خواتین، اور خاص طور پر بلوچ نوجوانوں نے نا صرف پوری طرح قبول کیا بلکہ اس پر عمل کرنا بھی شروع کیا۔

بلوچ سیاست، بلوچ ادب، بلوچ مزاحمت، ایک نیا چہرہ لیکر متعارف ہوا۔ یہ سوچ، یہ جھوٹ، یہ پروپگنڈہ اور یہ من گھڑت الزام دم توڑ گیا کہ صرف عام بلوچ مرتے ہیں، لڑتے اور شہید ہوتے ہیں یا کچھ نوجوان جذباتی اور گمراہ ہوکر لڑرہے ہیں ایک نیا جوش، ایک نیا جذبہ، نیا طرز، نیا فکر، میری دھرتی کے سینے سے پھوٹ کر جنم ٗلیا، وہ فکر فلسفہ اکبری تھا اور فلسفہ اکبری ہے۔

مگر آج 13سال گذرنے کے بعد ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا؟ آج وہ تراتانی جہاں سفید ریش اکبر خان کا جو گرم لہو بہا، آج وہاں لہو سے اگے گواڑخ و بہار اور خوشبو کی مہک کیا پیغام لیکر آرہے ہیں؟ آج مزاحمت کی پوزیشن کہاں پر ہے؟ نیشنل و انٹرنیشنل اخباروں، ٹی وی، ریڈیو چینلوں، میں اگر اس وقت خبر چلتی تھی تو وہ خبر کیا تھی۔ آج بندوق کا رخ کہاں اور کس سمت ہے، کس کی پشت اور کس کے سینے کی طرف ہے؟ کیا اکبر نے اپنا سب کچھ قربان کرکے اپنے جان کی بازی لگاکر فلسفہ اکبری کو صرف اس لیئے پیش کیا کہ اب فلسفہ اکبری صرف دعووں، خیراتوں، برسیوں، سیمناروں، ریفرنسز، تقریروں، تحریروں، مطالبات، شکایات، مشرف مقدمات وغیرہ کی حد تک محدود ہو یا ایک پراثر منظم اور مضبوط مزاحمت اور قومی جنگ کا آغاز ہو اور اس کا اختتام قبضہ گیریت کے خاتمے اور بلوچ قومی آزادی پر ہو؟

اپنے قومی شہیدوں اور قومی ہیروز کو شایان شان طریقے سے ہر وقت یاد کرنا، ان کے کردار و خدمات کو اجاگر کرنا، بے حد ضروری ہے، مگر ان کے فکر و فلسفے اور عمل کو عملاً آگے لیجانا، حقیقی طور پر شہدا کی ساتھ مخلصی، دوستی، وفاداری اور کمٹمنٹ ہے، ویسے تو نیشنل پارٹی اور بی این پی بھی شہید اکبر خان، نوروز خان، فدا بلوچ و دیگر شہداء کو یاد کرتے ہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں مگر عملاً ان کا کردار و عمل کیا ہے؟

ایک تلخ حقیقت ہے، بالکل اکبر خان کی شہادت کے بعد ہم مزاحمت کے حوالے سے، فکر کے حوالے سے، قربانی کے حوالے سے، شعور کے حوالے سے، حقیقی قوم پرستی کے حوالے سے، 4سے اگر 6 ہوگئے اور اب کیا ہم 6 ان 13 سالوں میں 6 سے آگے گئے؟ اگر جواب یہ ہے کہ جی دشمن کی جبر وبربریت، دہشت، سازش، لالچ و خوف، دباو سب کچھ مل ملاکر یہ نوبت آئی تو اگر دیکھا جائے، سمجھا جائے اور تاریخ کا مطالعہ کیا جائے دنیا کی دیگر تحریکات اور مظلوم اقوام کے ساتھ ان کی مزاحمت کے ساتھ دشمن کی طرف سے ایسا نہیں ہوا ہے؟ اس سے زیادہ اور بڑھکر ہوا ہے، پھر بھی وہ 6 سے آگے بڑھے ہیں نہ کہ پیچھے چلے، پھر ہمارے یہاں وہ وجوہات کیا ہیں؟

گوکہ جنگ جاری ہے اور جاری رہیگا اور آج بھی بلوچ نواجوان بخوشی اپنے جانوں کا نذرانہ پیش کررہے ہیں اور کرتے رہینگے، مگر میری رائے کے مطابق آج بلوچ مزاحمت کو جس سطح پر ہونا تھا، اس سطح پر نہیں ہے، اس لیئے میں یہ کہتا ہوں اکبر خان کی شہادت کے بعد بلوچ قوم، خصوصاً بلوچ نوجوانوں میں جس سطح کی وطن و قوم کی محبت، دشمن سے نفرت و مزاحمت کی سوچ دیکھنے کو ملا، اس تناظر میں اگر دیکھا جائے تو آج مزاحمت کی وہ انتہاء ہوتی دشمن کو نکلنے کا راستہ نہیں ہوتا گوکہ وہ ایک جذباتی کیفیت تھی، ایک موب تھا، ایک غصہ تھا اور ایک نفرت تھی، مگر تحریکوں کے لیئے یہی وقتی کیفیت، نفرت، موب اور غصہ ایندھن ہوتے ہیں، شرط یہ ہے کہ مستفید ہونے کا ہنر، صلاحیت اور قابلیت موجود ہو۔

ہمیشہ تاریخ میں کبھی معمولی تو کبھی غیر معمولی حادثے اور واقعات بھی انقلاب اور انقلابات کا پیش خیمہ بنتے ہیں تو فلسفہ اکبری ایک واقعہ اور ایک حادثہ نہیں بلکہ ایک دانستہ و شعوری فیصلہ تھا اور خود اکبر خان نے اس فلسفے کو پیش کرنے سے قبل اور فلسفے کو مزاحمتی شکل میں پھیلانے کے لیئے کس حد تک منصوبہ بندی اور حکمت عملی ترتیب دے چکا تھا یا سوچا تھا وہ ایک الگ بحث ہے، مگر ہم اس حدتک اب کہہ سکتے ہیں کہ اکبر خان نے تو اپنا قرض و فرض پورا کرلیا، وہ ایک تاریخ ساز دور میں تاریخ کا حصہ بن گئے، مگر انکے پاک روح کو اس وقت آرام و تسکین حاصل ہوگا، جب وہ مقصد اور فلسفہ پورا ہو، جس کیلئے انہوں نے قربانی دی تھی۔

اکبر خان بلوچ قوم میں، بلوچ تاریخ میں، اب بلوچ مزاحمت کی علامت بن چکا ہے، جب بلوچ مزاحمت منظم ہوگا، شدت اختیار کریگا، فلسفہ اکبری زندہ ہوگا، پھر قوم میں جذبہ، شعور و بیداری کا عمل تیز ہوگا، اکبر خان کے چاہنے والے مزاحمت کا تقاضہ کرتے ہیں، ان کی تشنگی مزاحمت میں ہے، جب مزاحمت ہوگا تو وہ تشنگی ختم ہوگی، وہ ہمارے ساتھ ہونگے اور فلسفہ اکبری کو آگے بڑھا ئینگے، جب مزاحمت کمزور ہوگی تو وہ تشنگی پھر تشنہ ہی رہیگی، لوگ ایسے ہی بیگانہ اور بےخبر ہونگے، تو پھر پیاس کی دشت و صحرا میں اس طرح لٹکتے اور بھٹکتے رہیں گے۔

فلسفہ اکبری سچ کا فلسفہ ہے، آزادی کا فلسفہ ہے، برابری کا فلسفہ ہے، باطل کے نظروں سے نظریں ملانے کا فلسفہ ہے، فنا ہوکر تاابد زندہ رہنے کا فلسفہ ہے، ختم ہوکر شروع کرنے کا فلسفہ ہے، ہستی کو نیست کرکے نیستی میں ہستی ڈھونڈنے کافلسفہ ہے، فلسفہ اکبری شمع ہے، روشنی ہے، نجات ہے، امید ہے۔ فلسفہ اکبری وہ فلسفہ آزادی ہے جو خون سے عبارت ہے، جس کی دلیل قربانی ہے اور جس کا حوالہ تاریخ ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔