بلوچستان: 8 سال میں 300 سے زائد کانکن جانبحق

31
بلوچستان میں کوئلہ کانیں موت کے کنویں بن گئی ہیں۔ گذشتہ 8 برس کے دوران 300 سے زائد کانکن مختلف حادثات میں زندگی کی بازی ہارگئے، درجنوں زخمی ہوئے۔ انسانی حقوق کمیشن نے بھی صوبے کی کوئلہ کانوں میں حادثات اور قیمتی جانوں کے ضیاع پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

بلوچستان میں ہزاروں فٹ گہرائی سے کوئلہ نکالنے والوں کی زندگیاں خطرے سے دوچار ہیں۔ یہاں پر حفاظتی آلات اور انتظامات نہ ہونے کے باعث حادثات جنم لیتے ہیں۔

پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق کے اعداد و شمار کے مطابق کوئٹہ، ہرنائی، دکی، مچھ اور قلات میں 2010 سے لے کر اب تک کوئلہ کانوں میں مختلف حادثات کے باعث 300 سے زائد کانکن جاں بحق ہوئے۔ گذشتہ سال صرف 3 حادثات میں 57 کانکن جان کی بازی ہارگئے۔

ایچ آر سی پی نے بلوچستان میں کوئلہ کانوں میں بڑھتے ہوئے حادثات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کانکنوں اور مزدوروں کے تحفظ کیلئے حکومت سے فیصلہ کن اقدامات اٹھانے پر زوردیا۔

کمیشن کے مطابق کوئلہ کانوں میں زیادہ تر دھماکے میتھین گیس بھر جانے کے باعث رونما ہوتے ہیں۔ جان لیوا گیس کی جانچ کے سادہ طریقہ کار کو اپنا کر حادثات پر کسی حد تک قابو پایا جاسکتا