راشد حسین کی پاکستان حوالگی کے خلاف جرمنی میں احتجاج کا اعلان

160

ریلیز راشد حسین کمیٹی کے جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ متحدہ عرب امارات نے ایمنسٹی انٹرنیشنل ہیومن رائٹس واچ اور دیگر انسانی حقوق کے اداروں کی اپیل اور نوٹس کو پاوں تلے روندتے ہوئے انسانی حقوق کے کارکن اور معروف بلوچ سوشل میڈیا ایکٹوسٹ راشد حسین بلوچ کو غیر قانونی طریقہ سے پاکستان کے حوالہ کیا اگر راشد حسین کو کچھ ہوا تو اس کا زمہ دار متحدہ عرب امارات حکومت ہوگا ۔

بیان میں کہا گیا کہ ہمیں خدشہ ہے کہ پاکستان اسے تشدد کرکے اس سے زبردستی کوئی بیان دلوائے گا جیسے انہوں نے پہلے بھی بلوچ سیاسی کارکنوں کے ساتھ کیا ہے اور اسکے بے گناہی کو کسی جرم میں تبدیل کرنے کی سازش کریگا۔

انہوں نے کہا کہ گذشتہ سال 26 دسمبر 2018 کو متحدہ عرب امارات شارجہ سے پاکستانی خفیہ ادارہ آئی ایس آئی کے حکم پر متحدہ عرب امارات کے سیکیورٹی اداروں نے بلوچ پناہ گزین راشد حسین کو گرفتار کرکے لاپتہ کردیا تھا اور اسی دن شارجہ پولیس میں اسکی گمشدگی کا ایف آئی آر لواحقین کی جانب سے شارجہ پولیس تھانے میں درج کرایا گیا تھا بعد ازاں معلوم ہوا کہ اسے شارجہ کے خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے اغواء کیا ہے اور اسی کے ساتھ پاکستانی کے جھوٹے میڈیا اور سی ڈی ٹی کراچی نے راشد حسین پر سنگین اور بے بنیاد الزامات لگائے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ چونکہ راشد حسین بلوچ معروف سوشل میڈیا ایکٹوسٹ اور انسانی حقوق کے سرگرم کارکن ہیں وہ بلوچستان میں پاکستانی فوج کے جبر و ستم کے خلاف ایک موثر آواز تھے اور پاکستانی فوج اپنے دیگر ناقدین کی طرح اسکو بھی راستہ سے ہٹانے میں سرگرم تھا اور متحدہ عرب امارات حکومت سے غیر قانونی طور پر اسے گرفتار کروا کے 6 مہینے عقوبت خانوں میں رکھ کر بلا آخر اسے 22 جون کو جبراں ایک پرائیوٹ طیارہ کے ذریعے بلوچستان کے علاقے دالبندین میں پاکستانی فوج کے ہاتھوں سونپ دیا گیا ہے ۔

راشد حسین کے خاندان کے کئی افراد پاکستانی فوج اور ڈیتھ اسکواڈ کے ہاتھوں اغواء کے بعد شہید کردیئے گئے ہیں اور راشد اپنے جان بچانے کے لیے متحدہ عرب امارات آئے تھے اور محنت مزدوری کے علاوہ انسانی حقوق کے حوالے سے سرگرم تھے لیکن کراچی میں چینی کونسل خانہ حملہ میں پاکستان نے اسے ملوث کرکے جھوٹا الزامات لگایا برعکس اسکے کے راشد کے خلاف کوئی ثبوت پیش کرے۔

متحدہ عرب امارات میں چھ ماہ تک اذیت سہنے والے راشد حسین پر کوئی کیس ثابت نہیں ہوا اور نہ اسے کسی عدالت تک رسائی دی گئی نہ کسی وکیل سے اسے ملنے کا موقع فراہم کیا گیا۔

راشد حسین کی متحدہ عرب امارات میں جبری گرفتاری اور لاپتہ کرنے کے خلاف ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ سمیت دیگر کئ انسانی حقوق کے اداروں نے متحدہ عرب امارات سے اسکی بحفاظت رہائی کی اپیل کی تھی اور بیرون ملک بلوچ سیاسی کارکنوں نے احتجاج سمیت سوشل میڈیا میں کمپین چلایا تھا اس کے علاوہ لندن کوریا میں مظاہرے کیے گئے تھے اور اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ کے پاس اسکا کیس رجسٹرڈکیا گیا تھا جبکہ جرمنی برلن میں متحدہ عرب امارات کی سفارتی ذرائع سے بات چیت چل رہی تھی اور متحدہ عرب امارات میں راشد حسین کی وکیل کے ذریعہ معلوم ہوا کہ اس پر کوئی کیس ثابت نہیں ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسکے باوجود متحدہ عرب امارات حکام بدمعاشی دکھاتے ہوئے بغیر پاسپورٹ کے غیر قانونی طریقے اسے پاکستان کے حوالے کرکے سنگین جرم کی ہے جو قابل مذمت عمل ہے 22 جون کو راشد حسین کو پاکستان حوالگی اور بعد ازاں 3 جولائی کو پاکستانی میڈیا نے یہ خبر چلایا کہ اسے انٹرپول کے ذریعے پاکستان کے حوالے کیا گیا ہے جو کہ جھوٹ پر مبنی ہے ۔

کمیٹی نے 12 جولائی بروز جمعہ کو برلن میں متحدہ عرب امارات سفارت خانے کے سامنے احتجاج کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے راشدحسین کو کچھ ہوا تو اسکا زمہ دار متحدہ عرب امارات کی حکومت پر عائد ہوگا ہم دنیا بھر کے مہذب اداروں سے اپیل کرتے ہیں وہ اس عمل پر متحدہ عرب امارات سے جواب طلب کریں ۔