کوئٹہ: لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے احتجاج کو 3631دن مکمل

50

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کی جانب سے احتجاج کو 3631دن مکمل ہوگئے۔ بلوچ نیشنل موؤمنٹ شال زون کے رہنماؤں اور کارکنان نے کیمپ کا دورہ کرکے لواحقین سے اظہار یکجہتی کی۔

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے اس موقعے پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آخر وہ کونسی ایسی وجوہات ہیں کہ پاکستانی حکمران بلوچوں کو اذیت ناک طریقے سے مٹانے کے درپے ہیں۔ اس سوال کا جواب کئی پہلوؤں کا حامل ہے جس میں سب سے نمایاں پہلو بلوچ قوم کا بیرونی قبضے اور قومی غلامی کا گہرائی تک احساس کرتے ہوئے شعور طور پر بالغ نظر ہونا ہے۔ بلوچ قوم میں پائے جانے والے قومی غلامی کے احساس اورشعورنے اس سامراجی قوت کے پُرفریب دلائل، تعلیمی، ثقافتی، استعماری یلغار، غیر حقیقی اور سامراجی مقاصد کی حامل تاریخ کی تدریس، حقیقی بلوچ تاریخ کی تنسیخ اور علم و ادب کے نام پر استعماری قوتوں کی تہذیب کی پھیلاؤ اور منفی سیاسی پروپیگنڈے کے پس پردہ کارفرما سامراجی قوتوں کو بے نقاب کردیا ہے۔

انہوں نے کہا تمام کوششوں اور سازشوں کے باوجود پاکستانی قوتیں بلوچ قوم کو ذہنی طور پر غلام نہیں بناسکی لہٰذا اب یہ حل ڈھونڈ لیا گیا ہے کہ جن بلوچ جسموں میں فکری، شعوری، نظریات کے حامل دماغ پائے جاتے ہیں ان جسموں کو اس طرح چیر پھاڑ کر کچل دیا جائے کہ کوئی دوسرا ان خیالات و نظریات کو اپنے غور و فکر کا حصہ نہ بناسکے۔

ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ پاکستانی حکمران قوتیں محکوم و غلام اقوام کو اپنے زیر قبضہ رکھنے کے لیے انہیں ذہنی طور پر غلام بنانے کی کوشش کرتی ہے جس کے لیے نفسیاتی، نظریاتی اور تعلیمی ثقافتی ذرائع استعمال کرنے کے علاوہ مالی مفادات، مراعات سے نوازنے کے حربے بروئے کار لاتی ہیں مگر جب کسی محکوم قوم و سماج میں احساس اور غلامی سے نجات کا شعور وسعت اختیار کرجائے وہاں یہ حربے ناکام ہوجاتے ہیں۔