بی این ایم کا یوم آسروخ کے حوالے بیرون ممالک مظاہرے و ریلی

102

بلوچ نیشنل موومنٹ کے مرکزی ترجمان نے یوم آس روخ کی مناسبت سے بلوچستان اور دنیا بھر میں منعقد کئے جانے والے پروگراموں کی تفصیل جاری کرتے ہوئے کہا کہ یوم آس روخ کی مناسبت سے بلوچستان میں آگاہی پروگرام کے علاوہ جرمنی، ساؤتھ کوریا اور یونان میں احتجاجی اور آگاہی پروگرام اور ریلیوں کا انعقاد کیا گیا۔ ان میں پارٹی کارکنوں کے علاوہ ان ممالک کے مقامی لوگوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی،بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزادی کی جانب سے نہ صرف ان پروگراموں کی حمایت کی گئی تھی بلکہ بی ایس او کے کارکن ان مظاہروں اور ریلیوں میں شریک ہوئے اور انتظامی کاموں میں بھرپور حصہ لیا۔

ترجمان نے کہا کہ یوم آس روخ کے مناسبت سے جرمنی زون کی طرف سے جرمنی کے شہرہنوفر میں احتجاجی مظاہرہ اور ریلی نکالی گئی۔پاکستان کے ایٹمی دھماکوں کے خلاف اس مظاہرہ اور ریلی میں سینکڑوں کی تعداد میں بلوچ سیاسی کارکنوں سمیت ایمنسٹی انٹرنیشنل، صحافیوں اور انسانی حقوق کے نمائندوں نے شرکت کیا۔

مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر پاکستانی ایٹمی ہتھیاروں اور 28 مئی 1998 کو بلوچ سرزمین پر پاکستانی ایٹمی دھماکوں کے خلاف نعرہ درج تھے۔

مظاہرین نے ایٹم بم لے جانے والے بلیسٹک میزائل کی شکل کا ایک بڑا مجسمہ بنایا تھا جو لوگوں کی توجہ کا مرکز رہا۔

پارٹی کارکنوں نے اس موقع پر جرمن اور انگلش زبان میں ہزاروں کی تعداد میں جرمن عوام میں پمفلٹ تقسیم کیے اور بلوچستان میں پاکستانی ایٹمی دھماکوں کے بعد پیدا ہونے والے تابکاری اور نقصانات کے حوالے سے جرمن عوام کو آگاہی دیا گیا۔

بعدازاں مظاہریں نے منظم ریلی کی شکل میں ھنوفر کے مختلف مصروف ترین شاہراہوں پر گشت کیا اور پاکستانی ایٹمی دھماکوں، بلوچستان میں پاکستانی فوج کی بربریت کے خلاف شدید نعرہ بازی کیا

مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ 28 مئی 1998 کے زخم آج بھی بلوچ سرزمین پر تازہ ہیں۔ پاکستانی ایٹمی دھماکوں کے بعد پیدا ہونے والے تابکاری کی وجہ سے آج بھی چاغی اور گرد و نواح میں پیدا ہونے والے بچے معذوری کے شکار ہیں اور بلوچستان میں کینسر ایک وباکی شکل اختیارکرچکا ہے۔

مقررین نے کہا کہ پاکستانی ایٹمی ہتھیار بلوچستان کے علاوہ عالمی امن کے لیے خطرہ ہیں،مہذب دنیا پاکستان کے اس اسلامی بم کے خلاف آواز اٹھائیں اور انہیں بین الاقوامی تحویل میں لیاجائے تاکہ بلوچستان سمیت خطہ اورعالمی دنیا کو بڑے تباہی سے بچایاجائے۔

ترجمان نے کہا کہ جرمنی کے مظاہرے میں بلوچ نیشنل موومنٹ کے احتجاجی مظاہرہ اور ریلی میں فری بلوچستان موومنٹ اور بلوچ ریپبلکن پارٹی کے کارکنوں نے شرکت کیا۔

اس موقع پر بلوچ نیشنل موومنٹ جرمنی کے صدر حمل بلوچ بلوچ خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچ سیاسی کارکن بیرون ممالک میں منظم ہوکر اپنا جدوجہد جاری رکھیں تاکہ ہم اپنے قومی مقصد میں کامیاب ہوجائیں۔

مرکزی ترجمان نے کہا کہ یوم آس روخ کے مناسبت سے ساؤتھ کوریاکے شہر نمپوڈونگ بوسان میں ایک مظاہرے کا اہتمام کیا جس میں پارٹی کارکنوں کے علاوہ مقامی لوگوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے شرکت کی۔

ساؤتھ کوریا کے مظاہرے میں شرکاء کے ہاتھوں میں پوسٹر اور بڑے بڑے بینر تھے جن پر پاکستان کے ایٹمی تجربوں اوربلوچ کے خلا ف سنگین جنگی جرائم کے خلاف نعرے درج تھے۔

انہوں نے کہا کہ پارٹی کارکنوں نے پاکستان ایٹمی تجربوں کی تباہ کاریوں کے بارے میں ہزاروں کی تعداد میں مقامی باشندوں میں پمفلٹ بھی تقسیم کئے۔

ترجمان نے کہا کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں یوم آس روخ کے مناسبت آگاہی پروگرام منعقد کئے گئے جن میں پارٹی کارکنوں کے شرکت کی۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں آگاہی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی کمیٹی کے ممبر بانک ماہ گنج بلوچ نے کہا کہ پاکستان کے ایٹمی دھماکے بلوچ قوم کے خلاف واضح جنگی جرم ہے اور ان دھماکوں کے تابکاری سے آج تک بلوچستان جل رہاہے،کینسر سمیت تابکاری سے ہونے والے مختلف بیماریاں عام ہوچکی ہیں۔آوارا ن دمگ کے جنرل سیکریٹری ظفر بلوچ نے کہا کہ پاکستان نے ایٹمی دھماکوں سے واضح کردیاکہ وہ بلوچ نسل کشی میں کسی بھی حدتک جاسکتاہے پاکستان کے بلوچ سرزمین پر ایٹمی دھماکوں نے بلوچ سرزمین کو ایک دوزخ میں تبدیل کردیا اور اکیس سال گزرجانے کے باوجود آج بھی ہولناک تابکاری اثرات سے بلوچ قوم عذاب میں مبتلا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ یوم آس روخ کے مناسبت سے یونان کے دارلحکومت ایتھنزمیں یونانی پارلیمنٹ کے سامنے پارٹی کارکنوں نے ایک بڑے مظاہرے کا اہتمام کیاتھا جس میں بی این ایم کے کارکنوں کے علاوہ مقامی باشندوں اور انسانی حقوق کے نمائندوں نے شرکت کی۔

یونان میں منعقدہ مظاہرے سے پارٹی کے سینئر کارکن عبدالقدیر ساگراور یونس بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہمارے مظاہرے کا مقصد پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کے تجربوں اور تابکاری سے بلوچستان کی صورت حال سے آگاہی فراہم کرنا تھا۔

یونان میں مظاہرین کے ہاتھوں میں بینر،پوسٹر تھے جن میں پاکستان کے خلا ف نعرے درج تھے،پارٹی کارکنوں نے اس موقع پر شدید نعرہ بازی کی

مظاہرین نے یورپی یونین اور اقوام متحدہ سے اپیل کی کہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کے خلاف عملی اقدامات اٹھایا جائے۔

بلوچ نیشنل موومنٹ کے مرکزی ترجمان نے پاکستان کے ایٹمی تجربے نہ صرف بلوچ قوم بلکہ انسانیت کے لئے ایک بڑے خطرے کی شکل اختیار کرچکے ہیں،پارٹی ہر سال ایٹمی دھماکوں کے دن بلوچستان اور بین الاقوامی سطح پر مظاہرے اور آگاہی پروگرام کا انعقاد کرتاہے تاکہ بلوچ قومی آواز عالمی برادری تک پہنچاجائے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک دہشت گرد ریاست ہے اوردنیا بھر میں مذہبی بنیاد پرستوں اور دہشت گردوں کا آجگاہ ہے اوراس بات پر کوئی شک نہیں کہ پاکستانی فوج اورخفیہ ادارے اس دہشت گردی کے منبع ومرکز ہیں اوراس بات کے قوی امکان موجود ہیں کہ پاکستان اپنے ایٹمی ہتھیار کسی بھی ایک عظیم سانحے اورانسانی المیے کا سبب بن سکتے ہیں۔

ترجمان نے کہا بلوچ نیشنل موومنٹ ہمیشہ عالمی اداروں سے اپیل کرتاآیا ہے کہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیاربین الاقوامی تحویل میں لئے جائیں تاکہ انسانیت کوپاکستان کے ایٹمی عفریت سے نجات دلانا ممکن ہو۔