بولان: عام آبادی پر ظالمانہ آپریشن قابل مذمت ہے – ڈاکٹر اللہ نذر

95

بولان میں پاکستانی فوج کا معصوم بلوچ خانہ بدوشوں پر ظالمانہ فوجی آپریشن انتہائی قابل مذمت ہے، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے ادارے پاکستان کے جارحانہ عمل کو روکیں۔

ان خیالات کا اظہار بلوچ آزادی پسند رہنماء ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے بلوچستان کے علاقے بولان میں جاری فوجی آپریشن کے حوالے سے سماجی رابطوں کی ویب سائیٹ ٹوئیٹر پر کیا۔

ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ بولان میں پاکستانی فوج کی ظالمانہ آپریشن میں معصوم بلوچ خانہ بدوشوں اور عام آبادی پر زمینی فوج اور ہیلی کاپٹروں کی شیلنگ انتہائی قابل مذمت ہے۔ ہم اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے اداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بلوچ قوم پر پاکستان کے جارحانہ عمل کو روکیں۔

یاد ہے بلوچستان کے علاقے بولان اور ہرنائی کے مختلف علاقوں میں آج تیسرے روز بھی فوجی آپریشن جاری ہے جبکہ بولان سے ایک عینی شاہد نے دی بلوچستان پوسٹ کو بتایا کہ لاکھی میں تین مقامات پہ پاکستان کے جنگی طیارے نے بمباری کی جس کے بعد وہاں سے آگ کے شعلے بھی نظر آئے ہیں۔

عینی شاہد نے کسی قسم کی جانی نقصان کی تصدیق نہیں کی ہے تاہم گذشتہ دنوں موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق آپریشن کے دوران تین افراد جانبحق ہوچکے ہیں۔

بولان آپریشن کے حوالے سے بلوچ سیاسی اور سماجی حلقوں کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے۔

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے رہنماء ماما قدیر نے اس حوالے سے ٹویٹر پر کہا ہے کہ بولان اور آواران میں تیسرے روز بھی فوجی آپریشن جاری ہے، جیٹ طیارے بولان کے پہاڑی علاقوں میں مسلسل بمباری کررہے ہیں۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ آج مکران کے علاقے مند اور دشت کے پہاڑی علاقوں میں بھی آپریشن کا آغاز کیا گیا ہے، دھماکوں کی آواز دور تک سنائی دے رہی ہے، بڑے پیمانے پر عام آبادی کے ہلاکت کا خدشہ ہے۔

دوسری جانب سے پاکستان کے عسکری حکام کی جانب سے مذکورہ علاقوں میں فوجی آپریشن کے حوالے سے تاحال کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔