‎بلوچ مِسنگ پرسنز ڈے کے موقع پر پورا ہفتہ آگاہی مہم چلائی جائے گی – بی ایس او آزاد

51

‎بلوچ، پشتون، سندھی، مہاجر سمیت تمام محکوم اقوام کے طلباء سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس مہم میں حصہ لیں – بی ایس او آزاد

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے مرکزی ترجمان نے آٹھ جون بلوچ مِسنگ پرسنز ڈے کے موقع پر پورا ہفتہ آگاہی مہم چلانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا مسئلہ سنگین رُخ اختیار کرچکا ہے ۔ جبری گمشدگیوں کا سب سے زیادہ شکار بلوچ طلباء ہیں لیکن اب اس فہرست میں بڑی تیزی سے بلوچ خواتین کے نام اندراج ہورہے ہیں جو انتہائی تشویشناک صورتحال ہے جبکہ جبری گمشدگی کے شکار افراد کی مسخ شدہ لاشیں بھی تسلسل کے ساتھ برآمد ہورہے ہیں ۔

‎ترجمان نے مزید کہا کہ اس وقت بلوچستان مکمل طور پر انسانی بحران کا شکار ہے۔ ریاستی افواج نہ صرف لوگوں کو جبری طور پر لاپتہ کررہے ہیں بلکہ جعلی مقابلوں میں بلوچ اسیران کو قتل کرکے اُن کی لاشیں پھینکی جارہی ہیں اور انہیں مضحکہ خیز انداز میں مزاحمت کار یا بغیر کسی شناخت اور ڈین این اے ٹیسٹ کے نامعلوم افراد ظاہر کرکے دفنایا جارہا ہے۔ پچھلے چند سالوں کے دوران ہزاروں نوجوانوں کی لاشیں مختلف علاقوں میں پھینکی جا چکی ہیں، جن میں سینکڑوں ناقابل شناخت لاشیں بھی شامل ہیں۔ جس کی وجہ سے لاپتہ افراد کے لواحقین شدید ذہنی اذیت کا شکار ہیں۔

‎ترجمان نے مزید کہا کہ تنظیم کے سابقہ سینئر وائس چیئرمین زاکر مجید بلوچ کی جبری گمشدگی کو آٹھ جون 2019ء کو دس سال مکمل ہونے والے ہیں۔ ایک طلباء رہنما کو گذشتہ ایک دہائی سے بغیر کسی جُرم و ثبوت کے پابند سلاسل کیا گیا ہے۔ زاکر مجید کی بازیابی کے لیے خاندان و تنظیم گذشتہ ایک دہائی سے سراپا احتجاج ہیں لیکن آج تک نہ اُس کو منظر عام پر لایا گیا اور نہ ہی خاندان والوں کوکسی قسم کی اطلاع دی گئی ہے۔

‎ ڈاکٹر دین محمد، رمضان بلوچ، علی اصغر بنگلزئی، سمیع مینگل سمیت درجنوں سیاسی کارکن اور سینکڑوں عام بلوچوں کی جبری گمشدگیوں کو ایک دہائی سے زاہد کا عرصہ گزر چکا ہے۔ ان کے اہل خانہ اور بلوچ سیاسی و انسانی حقوق کے تنظیموں کی جانب سے ان کی زندہ و سلامت بازیابی کے لیے پُرامن طویل لانگ مارچ اور احتجاجوں کے باوجود لاپتہ افراد کو نہ بازیاب کیا جا رہا ہے اور نہ عدالتوں میں پیش کیا جا رہا ہے۔

‎ترجمان نے اپنے بیان کے آخر میں کہا کہ زاکر مجید بلوچ کی جبری گمشدگی کو دس سال کا طویل عرصہ مکمل ہونے اور بلوچ مِسنگ پرسنز ڈے کےموقع پر 2 جون سے 8 جون تک پورا ہفتہ آگاہی مہم چلائی جائے گی لہٰذا تمام مظلوم و محکوم اقوام جن میں بلوچ، پشتون، سندھی مہاجر سمیت انسان دوست لوگوں بلخصوص طلباء سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اس مہم میں حصہ لے اور بلوچ سمیت تمام محکوم اقوام کے جبری گمشدگی کے شکار افراد کے لیے منظم و موثر آواز اُٹھائے۔