یہ آزادی کا طوفان ہے ۔ زہرہ جہان

80

یہ آزادی کا طوفان ہے

تحریر: زہرہ جہان

دی بلوچستان پوسٹ

جسکی پرواز آسمان پر ہو, جسکا مسکن پہاڑوں اور بیابانوں میں ہو، جس کا کام گلزمین کے گرد صاف کرنا ہو، وہی تو طوفان ہوتا ہے۔ یہ کبھی نہیں رکتا، ہمیشہ چلتی رہتی ہے۔ بس کبھی وقت و حالات کے مطابق تھوڑی تھم جاتی ہے لیکن رکنا اور ختم ہونا اس کی فطرت میں شاید خدا نے نہیں ڈالا ہے۔

کچھ ہی سال پیچھے ہم چلے جائیں تو دیکھتے ہیں کہ بلوچستان کے بہت سے نامی گرامی زبانوں پر یہ الفاظ ریڈیو کی طرح چل رہے تھے کہ , “بلوچستان میں آزادی کا طوفان تھم گیا ہے. اب کوئی آزادی نہیں مانگ رہا. لوگ ریاست پاکستان کے ساتھ خوش ہیں. جو آزادی مانگنے والے تھے وہ یا تو مرگئے ہیں, یا باہر ملک چھپ گئے ہیں یا اپنے کیۓ پہ معافی مانگ کر ریاست کے سامنے سجدہ ریز ہوگئے ہیں.”

ان الفاظ پر واقعی ایسا لگتا ہے کہ سیاسی و مزاحمتی تحریک آزادی بلوچستان میں جمود کا شکار ہوگیا ہے. درآمد و برآمد و لوٹ کھسوٹ پھر سے اپنے جوبن پہ شروع ہوگیا ہے. اب نہ کوئی مزاحمت رہی، نہ ہی کوئی سیاست۔ سب کو جان کی پڑی ہے. کہیں کہیں پہ بی ایل ایف و بی ایل اے کا نام کانوں پہ دستک دیکر واپس چپ سادھ لیکر چلی جاتی ہے. سب اس خوف و جبر کے عالم کو امن و امان جان کر اور مان کر دل کو تسلی دیکر جی رہے ہیں.

ایسے میں ایک فدائی حملہ ہوتا ہے خضدار میں ڈیتھ سکواڈ کا سرغنہ شفیق مینگل پر، بد قسمتی سے وہ بچ جاتے ہیں. حملے کی ذمہ داری بلوچ راجی لشکر بی ایل اے کی طرف سے قبول کیا جاتا ہے۔

بس پھر کیا تھا ہر طرف بھگدڑ کا سا عالم بنتا ہے. شفیق و اسکے آقا حیران و پریشان, ڈر و خوف و پریشانی سے شرابور سر پکڑ کے بیٹھ جاتے ہیں.یہ کیا ہوا؟ بلکہ کیسے ہوا؟ ہم نے تو سارے آزادی پسندوں کو باہر ملک بھاگنے پہ مجبور کیا ہے, پس ء زندان ڈالا ہے, انکو زندہ درگور و مسخ کرکے پھینک دیا ہے. اب تو کوئی آزادی کا نام لینے سے پہلے ہمارا نام لیتا ہے، پھر ناک سے زمین پہ لکیر کھینچ کر توبہ مانگتا ہے پھر یہ کیسے ہوا؟

ایسے میں بلوچستان کے پہاڑوں سے آواز آتا ہے” یہ طوفان ہے اسکو روکنا اور ختم کرنا تمھارے بس سے صرف باہر ہی نہیں بلکہ تمھارے وہم و گمان سے بھی باہر ہے. یہ آزادی کا طوفان ہے یہ آزاد ہونے کے بعد ہی رک سکتی ہے۔

پھر سے سین ریپیٹ ہوتا ہے. پھر سے بظاہر جمود آتا ہے، تحریک آزادی میں. پھر سے آزادی پسند عوام کو نا امیدی کی طرف دھکیلا جاتا ہے. پھر سے خوف و ہراس کا ماحول پیدا کیا جاتا ہے. فوجی نفری بڑھائی جاتی ہے. چیک پوسٹوں کی تعداد بڑھا دی جاتی ہے. پھر سے درآمد و برآمد, لوٹ کھسوٹ شروع ہوتی ہے. اس بار خوش فہمی و غلط فہمی کا لیول اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ آقا اور اسکے چھیلے ,جو اب پہلے سے کہیں زیادہ ہے تعداد میں, سوچنے سے عاری ہو جاتے ہیں. غیر غیروں سے گلزمین بلوچستان کے وسائل کا سودا کرتے ہیں، بغیر بلوچستان کے مرضی کے گویا یہ زمین انکا ہو یا وہ اسکےاصل مالک ہوں. کچھ زندہ دل و دماغ والوں کے علاوہ سب طوفان کو بھول گئے ہیں. اور اگر کہیں ذکر چھڑ جائے تو ڈرے ہوئے، سہمے ہوۓ, بکے ہوۓ۔

عوام کی طرف سے کہا جاتا ہے وہ اور دن تھے اب زمانہ بدل گیا ہے. جو بچے کچھے باغی اور آزادی پسند تھے وہ آپریشن ضرب عزب کی نظر ہوگئے ہیں. اب طوفان کا آنا نا ممکن ہے. اب اگر طوفان آجائے تو اسکا رخ کسی اور طرف موڑ دیا جائیگا۔

جمود ٹوٹ جاتا ہے. سب ہکا بکا رہ جاتے ہیں. ہر طرف حیرانی و پریشانی کا منظر ہوتا ہے. طوفان کو ختم سمجھنے والوں کی آنکھیں کھلی رہ جاتی ہیں. انکے ذہن و دماغ پہ گویا کیل ٹھونک دی جاتی ہے. طوفان بظاہر بڑی نہیں ہوتی لیکن طوفان کا شدت پہلے سے کہیں زیادہ ہوتا ہے اور بڑھ کر ہوتا ہے. یہ طوفان آزادی کی تحریک کو ایک نئی زندگی بخشتی ہے. لوگ پھر سے آزاد سوچ کی طرف مائل ہوتے ہیں. پھر سے لوگوں میں آزاد جینے کا خیال ہوتا ہے. اس بار یہ طوفان جوان سال ریحان جان کی شکل میں آتا ہے جو کہ فرزند ء کماندار جنرل استاد اسلم بلوچ ہے.

ایسے میں پھر بلوچستان کے پہاڑوں سے آواز آتا ہے,” یہ طوفان ہے اسکو روکنا اور ختم کرنا تمھارے بس سے صرف باہر ہی نہیں بلکہ تمھارے وہم و گمان سے بھی باہر ہے. یہ آزادی کا طوفان ہے یہ آزاد ہونے کے بعد ہی رک سکتی ہے.”

ابھی تک ریحان جان کا طوفان تھما نہیں ہے. آقا اور اسکے چیلے ابھی تک خوف و حیرانگی سے باہر نہیں نکلے ہیں. انکے زہن و دماغ میں ابھی تک پہلا والا طوفان گھوم پھر رہا ہے اور تباہی مچاتا جارہا ہے کہ ایسے میں طوفان کا ایک اور جھونکا آتا ہے. ایک اور فدائی حملہ ہوتا ہے. یہ حملہ بھی مجید بریگیڈ کے جانبازوں, ازل, رازق و رئیس, کی طرف سے ہوتا ہے چائینیز ایمبیسی کراچی پہ.

یہ اپنی نوعیت کا سب سے سنگین و بھیانک طوفان مانا جاتا ہے. تخت و تخت داراں ہل جاتے ہیں، گویا قیامت ء صغراء کبراء دونوں ایک ساتھ آۓ ہوں. ایمبیسی محشر کا میدان بن جاتا ہے. دشمن کا غرور و گھمنڈ کو پرزہ پرزہ کردیتا ہے یہ طوفان. اندھیر نگری میں طوفان کی روشنی ہوتی ہے. ساری دنیا میں طوفان کا بول بالا شروع ہوتا ہے. مشرق و مغرب, شمال وجنوب میں طوفان کا چرچا ہوتا ہے. قبضہ گیر ریاست اب سر پکڑ کر اپنی ناکامی کو چھپانے کی کوشش میں لگ جاتا ہے اور اپنی آقا کی منت و سماجت میں لگ جاتی ہے کہ بس یہ آخری ہے اسکے بعد ایسے طوفان نہیں آئنیگے یہ وعدہ ہے.

پھر قبضہ گیر اپنی چالاکیوں اور مکاریوں کو اور تیز کرتا ہے. آپریشن, چاپلوسی, قتل و غارت اور پیسے پھینکنا شروع کردیتا ہے. زرخرید لوگوں کی تلاش شروع ہوتی ہے. قبضہ گیر ریاست, پیسوں کے پجاری اور غداروں کی ملی بھگت سے آخرکار بانی بلوچ راجی لشکر بی ایل اے استاد اسلم کا پتہ معلوم کیا جاتا ہے اور کراۓ کے قاتل کے ذریعے انھیں اپنے پانچ ساتھیوں سمیت شہید کردیا جاتا ہے.

یہ ہوتے ہی، ایوانوں میں جشن کا سماء ہو جاتا ہے. خوشی سے دشمن پھولے نہیں سماتی کہ اب طوفان کا کوئی خطرہ نہیں ہے. ہم اپنے ناجائز قبضہ و لوٹ کھسوٹ کو آرام و سکون بنا کسی مزاحمت و مشقت سے جاری رکھ سکتے ہیں. چین کو پھر سے اعتماد میں لیا جاتا ہے کہ طوفان کا خطرہ ٹل گیا ہے.

استاد اسلم جو طوفان کا جڑ تھا، وہ اب نہیں رہا. طوفان جڑ سے ختم کردیا گیا ہے. اب ہم مل بانٹ کر آسانی سے بلوچستان کے وسائل کو درآمد کرسکتے ہیں اور اسکو لوٹ سکتے ہیں لیکن طاقت و لالچ کے نشے میں دھت دشمن کو کون سمجھاۓ کہ آزادی کا یہ طوفان بلوچ قوم سے ہے جو فکر اسلم سے جڑا ہے. اسلم بھلے نہیں رہے لیکن انکا طوفانی روح ابھی تک زندہ ہے اور زندہ رہیگا۔ بلوچستان کی آزادی تک. اور پھر وہی ہوا جو ہونا تھا. 11 مئی 2019 کو پھر سے طوفان آیا. اس بار بھی اسکا نشانہ چین سامراج و قبضہ گیر ریاست تھے. طوفان اس بار کوہ باتیل کے بلاوے پہ آیا تھا. اس بار طوفان کو رخ دینے والے اسد بلوچ, کچکول بلوچ, حمل فتح بلوچ اور منصب بلوچ تھے۔

ہمیشہ کی طرح اس بار بھی طوفان شہید اسلم کے کارواں نے لایا تھا. چونکہ طوفان ابھی ابھی آیا ہے تو اسکی شدت و رفعت و طاقت و حکمت کے بارے میں معلومات آپ کو آسانی سے ملینگے انٹرنیٹ و سوشل میڈیا پر.

میں تو بس یہ بتا سکتی ہوں کہ اس بار پھر بلوچستان کے پہاڑوں سے آواز آئی, “یہ طوفان ہے. اسکو روکنا اور ختم کرنا تمھارے بس سے صرف باہر ہی نہیں بلکہ تمھارے وہم گمان سے بھی باہر ہے. یہ آزادی کا طوفان ہے. یہ آزاد ہونے کے بعد ہی رک سکتی ہے.”
اس طوفان کو, اس کے اغراض و مقاصد کو بابا مبارک قاضی کچھ اس طرح بیان کرتے ہیں.

یہ جنگ گوں زمانگہ شبین چار چار کا
یہ جنگ مارا ھورکا یہ جنگ مارا بار کا
یہ جنگ نگدے موسما چا موسما بے بارتا
یہ جنگ دا قیامتاں ہمے وڑا روان کا
کہ مارا باز تند بررگی ء انگتہ وطن
کہ مارا گلزمین ہا نندگی ء انگتہ وطن.


دی بلوچستان پوسٹ: اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔